حقیقت دنیا

           حقیقت دنیا

مولانا روم رحمہ اللہ سے کسی نے دنیا کی حقیقت پوچھی تو جواب ملا :

دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل میں چلاجاتا ہے ۔۔اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر چلا آرہا ہے، وہ بھاگتا ہے ۔بھاگتا ہوا جب تھک جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ سامنے ایک گھڑا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ گڑھے میں گر کے جان بچائے مگر گڑھےمیں  اژدھا نظر آتا ہے ۔۔۔
اتنے میں درخت کی ایک ٹہنی پر نظر پڑتی ہے ۔۔وہ اسے پکڑ کر درخت پر چڑھ جاتا ہے ۔مگر چڑھنے کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ دو  چوہے ایک سفید اور دوسرا سیاہ ۔۔۔۔۔۔۔ درخت کی جڑ کاٹ رہے ہیں ۔وہ بہت پریشان ہوتا ہے کہ کچھ دیر میں درخت گر جائے گا اور میں شیر اور اژدھے کا شکار ہوجائوں گا ۔۔اتنے میں اس کو اوپر کی جانب ایک شہد کا چھتہ نظر آتا اور وہ شہد پینے اور حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہوجاتا ہے کہ نہ شیر کی فکر رہی نہ اژدھے کا ڈر ،نہ چوہوں کا غم ۔۔۔۔۔۔۔

اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی ،وہ گر پڑا ۔۔شیر نے اسے پھاڑ کر گڑھے میں گرادیا ،جہاں اژدھے نے اسے نگل لیا ۔۔

مولانا روم رحمہ اللہ تشریح بیان کرتے ہوئے فرما تے ہیں کہ جنگل سے مراد یہ دنیا ہے ۔۔شیر سے مراد موت ہے جو پیچھے لگی ہوئی ہے ۔
گڑھا قبر ہے ،جو انسان کے آگے ہے
اژدھا برے اعمال ہیں جو قبر میں عذاب دیں گے ۔۔
چوہے دن اور رات ہیں ۔درخت عمر ہے جو ہر گذرنے والے دن کم ہورہی ہے، اور شہد کا چھتہ دنیا کی غافل کردینے والی لذتین ہیں ،کہ انسان  اعمال کی جواب دہی ،موت ،قبر ۔۔۔۔۔سب بھول جاتا ہے، اور موت اسے اچانک آن لیتی ہے ۔۔۔۔

انسانیت کی خدمت

~~~~~※ انسانیت کی خدمت ※~~~~~

کہتے ہیں ایک نوجوان نے دنیا سے تنگ آ کر راہبانہ زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئیے اس نے شہر سے دور ایک غار میں جانے کا سوچا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ اس غار میں ایک بہت بڑا راہب پہلے بھی رہتا تھا جسے وہاں قیام کئیے سالوں ہو چلے تھے۔
وہ نوجوان بھی وہاں پنہچا اس نے دیکھا کہ وہ راہب اپنی عبادت میں اس قدر مگن ہے کہ اسے دنیا کی ہوش نہیں۔ اسنے اس راہب کو سلام کیا۔ راہب نے اس نوجوان سے وہاں آنے کے متعلق پوچھا۔
نوجوان نے بتایا کہ وہ دنیا سے تنگ ہے اور اس کی طرح راہبانہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ وہ خُدا کو پانا چاہتا ہے۔
راہب نے کہا کہ وہ سالوں سے ریاضت کر رہا ہے لیکن ابھی تک خُدا کو نہیں پا سکا۔ نوجوان بھی ایک طرف ہو کے عبادت کرنے لگا۔ تھوڑی دیر گزری تو کسی کے رونے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی بہت تکلیف میں ہو۔ نوجوان سے رہا نہ گیا اس نے راہب سے کہا کہ ہمیں چل کر دیکھنا چاہیے شائد کسی کو مدد کی ضرورت ہو۔
راہب نے کہا کہ وہ ہر گِز اپنی عبادت چھوڑ کر نہ جائے گا اگر جانا ہے تو نوجوان اکیلا جائے۔ اس نوجوان سے نہ رہا گیا اور وہ اُٹھ کر باہر نکل گیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شحص ہے جو کُچھ دور بیٹھا ہے جب نوجوان پاس پنہچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی ایک ٹانگ پتھروں کے بیچ پھنسی ہوئی ہے۔ نوجوان نے اس کے ساتھ مل کر پتھر ہٹائے اور اس کی ٹانگ آزاد کروا دی۔
اس شحص نے نوجوان سے وہاں ہونے کے متعلق پوچھا : نوجوان نے بتایا کہ وہ خُدا کو پانا چاہتا ہے اور اس لئیے اس غار میں آ بیٹھا وہاں اپنی عبادت کر رہا تھا آپ کی آواز سنی تو لگا آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو آ گیا۔
اس شحص نے پوچھا وہاں کوئی اور بھی ہے ؟؟
نوجوان نے اسے راہب کے متعلق بتایا۔
اس پر اس شحص نے کہا تو نہیں جانتا میں کون ہوں میں ایک فرشتہ ہوں اور خُدا کے حکم سے آیا ہوں۔ بیشک تو نے کسی کی خدمت سے خُدا کو پا لیا اور وہ راہب ابھی تک ویسے کا ویسا کورا رہا جب نوجوان نے یہ سُنا تو اسے سمجھ آ گئی کہ رب کو پانا ہے تو عبادت سے نہیں خدمت سے پا سکو گے اس نے اپنا سامان لیا اور واپس اس نیت سے شہر چل دیا کہ اب وہ مجبور اور بےکس لوگوں کی خدمت کرے گا۔
کہ عبادت سے جنت ملتی ہے اور خدمت سے رب_______________※

دوستو ! ہم انسانوں کو انسانیت کی خدمت کے لئیے پیدا کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ماشاء الله سے تہجد گزار ہیں لیکن ان کا ہمسایہ کس تکلیف میں ہے اس بارے لاعلم ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ جتنی ہو سکی ہم بھی انسانیت کی خدمت کریں گے ان شاء الله____کہ حضرت اقبال نے کہا ہے____________※

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئیے کُچھ کم نہ تھے کروبیاں

خوش رہیں خوشیاں بانٹیں الله سب کو ہمیشہ خوش رکھے آمین یارب________فی امان الله

خزانہ

ایک بادشاہ نے اپنی رعایا پر ظلم و ستم کرکے بہت سا خزانہ جمع کیا تھا۔ اور شہر سے باہر جنگل بیابان میں ایک خفیہ غار میں چھپا دیا تھا اس خزانہ کی دو چابیاں تھیں ایک بادشاہ کے پاس دوسری اس کے معتمد وزیر کے پاس ان دو کے علاوہ کسی کو اس خفیہ خزانہ کا پتہ نہیں تھا۔.ایک دن صبح کو بادشاہ اکیلا سیر کو نکلا۔ اور اپنے خزانہ کو دیکھنے کے لئے دروازہ کھول کر اس میں داخل ہوگیا۔ خزانے کے کمروں میں سونے چاندی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ ہیرے جواہرات الماریوں میں سجے ہوئے تھے۔ دنیا کے نوادرات کونے کونے میں بکھرے ہوئے تھے۔ وہ ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔. اسی دوران وزیر کا اس علاقہ سے گذر ہوا۔ اس نے خزانے کا دروازہ کھلا دیکھا تو حیران رہ گیا اسے خیال ہوا کہ کل رات جب وہ خزانہ دیکھنے آیا تھا شاید اس وقت وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا ہو اس نے جلدی سے دروازہ بند کرکے باہر سے مقفل کردیا۔. ادھر بادشاہ جب اپنے دل پسند خزانہ کے معائنہ سے فارغ ہوا تو واپس دروازہ پر آیا لیکن یہ کیا...؟ دروازہ تو باہر سے مقفل تھا اس نے زور زور سے دروازہ پیٹنا اور چیخنا شروع کیا لیکن افسوس اس کی آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔ وہ لوٹ کر پھر اپنے خزانے کی طرف گیا اور ان سے دل بہلانے کی کوشش کی لیکن بھوک اور پیاس کی شدت نے اسے تڑپانا شروع کیا وہ پھر بھاگ کر دروازہ کی طرف آیا لیکن وہ بدستور بند تھا۔ وہ زور سے چیخا چلایا۔ لیکن وہاں اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ تھا وہ نڈھال ہوکر دروازے کے پاس گرگیا۔. جب بھوک پیاس سے وہ بری طرح تڑپنے لگا تو رینگتا ہوا ہیروں کی تجوری تک گیا اس نے اسے کھول کر بڑے بڑے ہیرے دیکھے جن کی قیمت لاکھوں میں تھی اس نے بڑے خوشامدانہ انداز میں کہا اے لکھ پتی ہیرو! مجھے ایک وقت کا کھانا دیدو۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ ہیرے زور زور سے قہقہے لگا رہے ہوں۔ اس نے ان ہیروں کو دیوار پر دے مارا۔ پھر وہ گھسٹتا ہوا موتیوں کے پاس گیا اور ان سے بھیک مانگنے لگا ۔ اے آبدار موتیو! مجھے ایک گلاس پانی دیدو ۔ لیکن موتیوں نے ایک بھر پور قہقہہ لگایا اور کہا اے دولت کے پجاری کاش تو نے دولت کی حقیقت سمجھ لی ہوتی۔ تیری ساری عمر کی کمائی ہوئی دولت تجھے ایک وقت کا کھانااور پانی نہیں دے سکتی۔. بادشاہ چکرا کر گرگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے سارے ہیرے اور موتی بکھیر کر دیوار کے پاس اپنا بستر بنایا اور اس پر لیٹ گیا وہ دنیا کو ایک پیغام دینا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس کاغذ اور قلم نہیں تھا ۔ اس نے پتھر سے اپنی انگلی کچلی اور بہتے ہوئے خون سے دیوار پر کچھ لکھ دیا۔. حکومتی عہدیدار بادشاہ کو تلاش کرتے رہے لیکن بادشاہ نہ ملا, جب کئی دن کی تلاش بے سود کے بعد وزیر خزانہ کا معائنہ کرنے آیا تو دیکھا بادشاہ ہیرے جواہرات کے بستر پر مرا پڑا ہے۔ اور سامنے کی دیوارپرخون سے لکھا ہے ۔ ’’یہ ساری دولت ایک گلاس پانی کے برابر بھی نہیں ہے...دوستوں یہ ہم سب کیلئے سبق ہے..

بیٹی پرائی نہیں ہوتی

بیٹی پرائی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔
۔
اماں دیکھو نا ابا جب گھر آتے ہیں بھیا کیلۓ کھلونے لاتے ہیں میرے لئے نہیں کیا میں بابا کی رانی نہیں ہوں۔۔ ارے وہ چھوٹا ہے نہ اس لۓ لاتے ہیں ۔۔ ماں ہمیشہ چھوٹا کہہ کر بات ٹال دیتی تھی لیکن مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا ۔۔ بھائی بس ایک سال ہی تو چھوٹا تھا لیکن ابا کا لاڈلا تھا ۔ گھر میں جب بھی کوئی بات ہوتی تو ابا کہتے میرا بیٹا اس گھر کا وارث ہے اور میں سوچتی تھی کہ کیا بیٹیاں گھر کی وارث نہیں ہوتیں کیا ان کا اپنے گھر پر کوئی حق نہیں ہوتا کیوں بچپن سے پرائی بنا دیا جاتا ہے ۔۔ بھیا تو ہر بار اپنی مرضی کر جاتا تھا کالج میں ایک لڑکی پسند آ گئی تو ابا سے کہہ کر منگنی کروا لی اور جب میں نے کہا کہ ابا مجھے بھی کوئی پسند ہے تو طوفان کھڑا ہوگیا بابا نے ماں کوبہت ڈانٹا کہ تیرے لاڈ پیار نے بگاڑا ہے اور بھیجو اسے کالج پڑھنے کیلۓ یہ کل کو ہمارا منہ کالا کرواۓ گی اور میں رات بھر کمرے میں یہ سوچ کر روتی رہی کہ گھر میں بیٹیوں سے ہونے والٰ نا انصافیوں کو کوئی نہیں دیکھتا کسی کو زرا بھی پروا نہیں ہوتی اور بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ بیٹی کی پرورش خراب ہوئی ۔ میں کون سا کہیں بھاگ رہی تھی بس اتنا ہی کہا تھا کہ مجھے بھی کوئی پسند ہے کیا سارے گناہ بیٹیوں کے حصے میں آتے ہیں بیٹا جو مرضی کرے وہ ہمیشہ راج ہی کرتا ہے اللہ میرے بھائی کو لمبی عمر دے مجھے معلوم ہے اس کا قصور نہیں یہ تو والدین کی پرورش کا کھوٹ ہے کہ بیٹی کو پرایا مال سمجھتے ہیں میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو گھر سے بھاگ جاتی ہیں ۔۔۔۔ ان سب باتوں کو یاد کرتی ہوں تو ایک خواب لگتا ہے آج میری بیٹی کی شادی ہے میں اپنی ماں جیسی نہیں بنی بلکہ اپنی بیٹی کو بھی بیٹے جتنا پیار دیا اس کو ہمت والا بنایا اس کو اپنا دوست بنایا اسے جو پسند تھا اس لڑکے سے نکاح کردیا آج وہ گھر سے جا رہی ہے لیکن اسے اپنی ماں پر فخر ہے جس نے اس کو کبھی پرایا نہیں سمجھا ۔۔ بیٹیاں پرائی نہیں ہوتیں خدارا ان کو خود سے دور مت کریں..!!

حضرت عمر فاروق کی ذہانت

حضرت عمر فاروقؓ کی ذہانت"
حضرت عمرؓ کے پاس کپڑوں کے کچھ جوڑے یمن سے آئے، جن کو آپ نے لوگوں پر تقسیم کرنا چاہا۔ ان میں ایک جوڑا خراب تھا۔ آپ نے سوچا اسے کیا کروں۔ یہ جس کو دوں گا وہ اس کے عیب دیکھ کر لینے سے انکار کر دے گا۔آپ نے اس کو لیا اور تہہ کر کے اپنی نشست گاہ کے نیچے رکھ لیا اوراس کا تھوڑا سا پلہ باہر نکال دیا۔ دوسرے جوڑوں کو سامنے رکھ کر لوگوں کو تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ اب زبیربن العوام سامنے آئے اور آپ تقسیم میں لگے ہوئے اور اس جوڑے کو دبائے
ہوئے تھے۔ انہوں نے اس جوڑے کو گھورنا شروع کر دیا۔ پھر بولے یہ جوڑا کیسا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تم اس کو چھوڑ دو۔ وہ پھر بولے۔یہ کیا ہے؟ یہ کیا ہے؟ اس میں کیا وصف ہے۔ آپ نے فرمایا تم اس کا خیال چھوڑ دو۔ اب انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ مجھے دو۔ حضرت عمرؓ نے ان سے پختہ اقرار کرا لیا اور یہ شرط کر لی کہ اسے قبول کرنا ہو گا اور پھر واپسی نہ ہو سکے گی۔ تو نیچے سے نکال کر ان پر ڈال دیا۔ جب زبیرؓ نے اس کو لے کر دیکھا تو وہ ردی نکلا تو کہنے لگے میں تو اس کو لینا نہیں چاہتا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا بس بس! اب ہم آپ کے حصہ سے فارغ ہو چکے۔ اس کو ان ہی کے حصہ میں لگایا اور واپس لینے سے انکار کر دیا (یاد رہے کہ یہ فروخت کرنے کا معاملہ نہ تھا۔ اس صورت میں یہ ضروری ہے کہ اگر مال میں کوئی عیب ہو تو خریدار پر اس کو واضح کر دیا جائے) یہ تو مفت تقسیم کا معاملہ تھا"

اپنی عزت اپنے ہاتھ

اپنی عزت اپنے ہاتھ
کسی رسالے میں پڑھی ایک پُرانی کہانی اب بھی یاد ہے، دولڑکے ہاسٹل میں روم میٹ تھے، ایک دن ان کے کمرے میں چوہا گُھس آیا۔۔۔۔۔
دونوں کو شرارت سوجھی کہ کیوں نہ چوہے کو تنگ کیا جائے، دروازہ بند کردیا، کمرے میں صرف چارپائیاں موجود تھیں، انھیں درمیان میں کھڑا کردیا گیا اور پھر دونوں نے اُسے ستانا شروع کردیا۔۔۔۔۔۔
اس کے کے پیچھے بھاگتے، اُسے گھیرتے اورپھر قہقہے لگاتے جاتے ۔۔۔۔۔۔
چوہا بیچارہ پریشان کہ نہ باہرجانے کا راستہ، نہ بچنے کا کوئی اور طریقہ۔۔۔۔۔۔
بھاگتے بھاگتے بالکل نڈھال ہوگیا اور اب اُس سے بھاگا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں دوست اس کو دیوار کے ساتھ گھیر کر کھڑے ہوگئے۔۔۔۔۔
چوہے میں بھاگنے کی ہمت تو نہ تھی اورپھر اُس نے آخری حربہ استعمال کیا، پنجوں کے بَل کھڑا ہوگیا اور غُرانا سا شروع ہوگیا۔۔۔۔۔۔
پہلے تو دوست مذاق سمجھے لیکن پھر انہیں ایسے لگا کہ یہ ان پر حملہ کردے گا۔۔۔۔۔۔
فوراً دروازہ کھولا اور اُسے کمرے سے نکال دیا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوہا کتنا بے ضرر جانور ہے لیکن جب اُسے حدسے زیادہ زِچ کیا گیا اور ستایا گیا تو وہ بھی ردِ عمل کے لیے تیار ہوگیا۔۔۔۔۔۔
ہمارے اردگرد کتنے ایسے لوگ ہیں جوہمارے ماتحت ہوتے ہیں چاہے گھر ہو یا دفتر۔۔۔۔۔۔
ایک تو طریقہ یہ ہے کہ ان سے محبت سے پیش آیا جائے اور ان پر بلاوجہ رعب نہ ڈالا جائے، بلاوجہ سختی نہ کی جائے۔۔۔۔۔۔
نہ ہی انھیں اتنا زِچ کیا جائے کہ انھیں بالکل دیوار سے ہی لگا دیا جائے۔۔۔۔۔۔
جوشخص دیوارسے لگا دیا جائے اُس کا ردِ عمل منفی اوراُبال والا بھی آسکتا ہے۔۔۔۔۔۔
ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہے، اختیارات کے پیچھے اُس کی برداشت کی حدود کو پامال نہ کیا جائے۔۔۔۔۔
اگر بالفرض وہ ردِ عمل نہیں بھی دیتا لیکن اُس کی مظلومیت اور آہ عرش ہلاسکتی ہے، دنیامیں بھی پکڑ ہوسکتی ہے اور آخرت کا عذاب تو ویسے ہی بہت بڑا ہے۔۔۔۔۔
اپنے ماتحتوں سے اچھا سلوک کریں، توازن کے ساتھ کہتا ہوں، یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ آپ کی بات ماننا ہی چھوڑ دیں یا کام صحیح نہ کریں۔۔۔۔۔۔

ایک دفعہ ذکر ہے ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک نامور آرٹسٹ اپنی ایک شاہکار پینٹنگ بنانے میں مصروف تھا.پینٹنگ آخری مراحل میں تھی.
وہ پینٹگ اُس کاایک نہایت ہی خوبصورت شاہکار تھی اور اس پینٹنگ کو وہ ملک کی شہزادی کو شادی کا تحفہ بنا کر پیش کرنا چاہتاتھا۔ ایک دن موسم بہت سُہانا تھا اور وہ مصور اپنے شاہکار نمونے کو لے کر ہوٹل کی بالکونی میں آ گیا تاکہ وہاں وہ اُس کو آخری بار دیکھ لے اور اُس کی مزید نوک پلک سنوار لے۔ آرٹسٹ اس پینٹنگ کو بنا کر بہت ہی خوش تھا اور وہ اسے بغور دیکھنے کیلئے چندقدم پیچھے چلا گیا۔ پیچھے جاتے ہوئے وہ پیچھے کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا اور وہ مستقل پیچھے کی جانب بڑھتا رہا یہاں تک کہ وہ اُس لمبی عمارت کے بالکل کنارے تک پہنچ گیا۔ اب اگر وہ ایک قدم بھی اور پیچھے کی جانب بڑھاتا تو نیچے گِر کر مر جاتا۔

ایک آدمی دور سے اُس مصور کی حرکات کا بغور جائزہ لے رہا تھا۔ اُس نے آرٹسٹ کو آواز دینا چا ہی لیکن اچانک ہی اُسے خیال آیا کہ کہیں اُس کی آواز آرٹسٹ کو چونکا نہ دے اور یوں وہ ایک قد م اور پیچھے ہو کر نیچے ہی نہ گر جائے۔ یہی سوچ کر وہ شخص آواز دینے سے رُک گیا۔ کچھ سوچ کر اُس آدمی نے پینٹ کا بُرش اُٹھایا اور اُس خوبصورت پینٹنگ پر پھیرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ پینٹنگ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ جب پینٹر نے یہ دیکھا ایک پاگل آدمی اُس کی خوبصورت تخلیق کے ساتھ کیا کر رہا ہے، اُس کی محنت ملیا میٹ ہو رہی ہے تو وہ اُس آدمی کی جانب اُس کو مارنے کیلئے بھاگالیکن وہاں موجود چند اور لوگوں نے اُس کو روک لیا اور اُس مصور کو وہ مقام دِکھایا جدھر وہ کھڑا تھا اور موت اُس سے محض ایک قدم کے فاصلے پر تھی۔

اگر وہ ایک بھی قدم پیچھے ہٹتا تو نہ وہ خود رہتا اور نہ اُس کا فن پارہ۔
ہم سب کی زندگی بھی اسی طرح ہوتی ہے ہم سب بھی ہمیشہ اسی طرح اپنا مستقبل انتہائی خوبصورت پینٹ کرتے ہیں ایک ایسا مستقبل جو ہمارا سب سے قیمتی خواب ہوتا ہے۔ جس کی تعبیر کے ساتھ ہم اپنی زندگی کی خوشیاں جوڑ دیتے ہیں لیکن اُس خواب کی تعبیر اچانک ہی بکھر جاتی ہے۔ ہم بہت آہ و فغاں کرتے ہیں، خود کوایک دم خالی ہاتھ محسوس کرتے ہیں، زندگی میں اندھیر ا سا چھا جاتا ہے اور ہم بہت شکوہ شکایت کرتے ہیں۔ ہمیں بہت غصہ آتا ہے لیکن اللہ تبارک تعالیٰ ہماری وہ پینٹنگ صرف اس وقت توڑتے ہیں جب وہ ہمیں کسی خطرے میں دیکھتے ہیں۔ وہ ہمیں محفوظ رکھنا چاہتے ہیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چایئے کہ اللہ نے ہمیں دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے، وہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے، وہ ہمیشہ اپنے بندوں کے لئے وہی منتخب کرتا ہے جو اُن کیلئے مناسب اور بہتر ہوتا

نماز

امام غزالیؒ کے بھائی ان کے پیچھے نمازکیوں نہیں پڑھتے تھے ‎‎؟‎"
محمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ اور احمد غزالی رحمتہ اللہ علیہ دو بھائی تھے یہ اپنے لڑکپن کے زمانے میں یتیم ہوگئے تھے ، ان دونوں کی تربیت ان کی والدہ نے کی ان کے بارے میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ماں ان کی اتنی اچھی تربیت کرنے والی تھی کہ وہ ان کو نیکی پر لائیں حتیٰ کہ عالم بن گئے مگر دونوں بھائیوں کی طبیعتوں میں فرق تھا ۔ امام غزالی رحمتہ ا...للہ علیہ اپنے وقت کے بڑے واعظ اور خطیب تھے اور مسجد میں نماز پڑھاتے تھے ان کے بھائی عالم بھی تھے اور نیک بھی تھے لیکن وہ مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے اپنی الگ نماز پڑھ لیا کرتے تھے توایک مرتبہ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی والدہ سے کہا امی لوگ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں تو اتنا بڑا خطیب اور واعظ بھی ہے اور مسجد کا امام ہے مگر تیرا بھائی تیرے پیچھے نماز نہیں پڑھتا امی آپ بھائی سے کہیں وہ میرے پیچھے نماز پڑھا کرے ماں نے بلا کر نصیحت کی چنانچہاگلی نماز کا وقت آیا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نماز پڑھانے لگے اور ان کے بھائی نے بھی پیچھے نیت باند لی لیکن عجیب بات ہے کہ جب ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوسری رکعت شروع ہوئی تو ان کے بھائی نے نماز توڑ دی اور نماز کی جماعت سے باہر نکل آئے اب جب امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے نماز مکمل کی ان کو بڑی سبکی محسوس ہوئی وہ بہت زیادہ پریشان ہوئے لہٰذا مغموم دل کے ساتھ گھر واپس لوٹے ، ماں نے پوچھا بیٹا بڑے پریشان نظر آتے ہو کہنے لگے امی بھائی نہ جاتا تو زیادہ بہتر رہتا ۔ یہ گیا اور ایک رکعت پڑھنے کے بعد دوسری میں واپس آگیا اور اس نے آکر الگ نماز پڑھی تو ماں نے اس کو بلایا اور کہا بیٹا ایسا کیوں؟ چھوٹا بھائی کہنے لگا میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے لگا پہلی رکعت انہوں نے ٹھیک پڑھائی مگر دوسری رکعت میں اللہ کی طرف دھیان کے بجائے ان کا دھیان کسی اور جگہ تھا اس لئے میں نے ان کے پیچھے نماز چھوڑ دی اور آکر الگ پڑھ لی ۔ ماں نے پوچھا امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ سے کہ کیا بات ہے؟کہنے لگے کہ امی بالکل ٹھیک بات ہے میں نماز سے پہلے فقہ کی ایک کتاب پڑھ رہا تھا اور نفس کے کچھ مسائل تھے جن پر غور وخوض کر رہا تھا جب نماز شروع ہوئی تو پہلی رکعت میں میری توجہ الی اللہ میں گزری لیکن دوسری رکعت میں وہی نفس کے مسائل میرے ذہن میں آنے لگ گئے ان میں تھوڑی دیر کے لیے ذہن دوسری طرف متوجہ ہوگیا اس لیے مجھ سے یہ غلطی ہوئی تو ماں نے ایک وقت ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا افسوس کہ تم دونوں میں سے کوئی بھی میرے کام کا نہ بنا اس جواب کو جب سنا دونوں بھائی پریشان ہوئے ۔ امام غزالی رحمتہ اللہ نے تو معافی مانگ لی امی مجھ سے غلطی ہوئی مجھے تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مگر دوسرا بھائی پوچھنے لگا امی مجھے تو کشف ہوا تھا اس لیے کشف کی وجہ سے میں نے نماز توڑ دی تو میں آپ کے کام کا کیوں نہ بنا؟ تو ماں نے جواب دیا کہ "تم میں سے ایک تو نفس کے مسائل کھڑا سوچ رہا تھا اور دوسرا پیچھے کھڑا اس کے دل کو دیکھ رہا تھا ، تم دونوں میں سے اللہ کی طرف تو ایک بھی متوجہ نہ تھا لہٰذا تم دونوں میرے کام کے نہ بنے"

ایران کے ایک گاؤں

ایران کے ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے۔ دونوں میں بہت زیادہ محبت تھی۔ لوگ ان کی محبت اور اخوت کی مثال دیا کرتے تھے۔ بڑے بھائی کا نام عبداللہ اور چھوٹے کا عبدالرحمن تھا۔ عبداللہ شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ تھا، جبکہ عبدالرحمن غیر شادی شدہ تھا۔

دونوں برتن سازی کا کام کرتے تھے اور اپنے کام میں بہت ماہر تھے۔ وہ سال میں دو مرتبہ اپنے تیار کردہ برتنوں کو بیچنے کے لیے شہر جاتے اور واپسی پر اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں خرید لاتے۔ اس کاروبار سے انہیں معقول آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ حسب معمول دونوں بھائی برتن لے کر شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ کئی دنوں کا سفر تھا۔ ابھی وہ شہر سے ایک دن کے فاصلے پر تھے کہ دوپہر کا وقت ہو گیا۔ انہوں نے ایک سائے دار درخت کے نیچے گدھوں سے سامان اتارا، اُنکے آگے دانہ ڈالا۔ خود وضو کر کے نماز ظہر ادا کی اور کھانا کھانے لگے۔

کھانے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ انہیں ایک شخص کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے دیکھا کہ گرد و غبار میں اٹا ہوا ایک شخص ان کی جانب آ رہا تھا۔ اس شخص نے قریب آ کر کہا ’’اے دوستو! کیا تمہیں کسی ہم سفر کی ضرورت ہے؟‘‘ بڑے بھائی نے جواب دیا۔ ’’کیوں نہیں، ہم سفر کی وجہ سے سفر آسان ہو جاتا ہے۔‘‘ اجنبی ان کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے میٹھے لہجے سے دونوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ کچھ دیر آرام کے بعد سفر دوبارہ شروع ہوا۔ دوران سفر اجنبی نے بڑے بھائی کو اکیلے پا کر اس سے حال احوال دریافت کیا اور باتوں باتوں میں پوچھا کہ سامان بیچنے کے بعد کیا تم دونوں برابر تقسیم کرتے ہو؟ جواب میں بڑے بھائی نے کہا ’’ہاں! ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔‘‘ اجنبی نے کہا ’’دیکھو میاں! تم بال بچوں والے ہو، تمہارا حق زیادہ بنتا ہے اور محنت میں بھی تم زیادہ شامل ہو، چھوٹا تو اکیلا ہے۔ کیا تم نے کبھی اس پہلو سے بھی سوچا ہے؟ ‘‘اس طرح اجنبی نے بڑے بھائی کے دل میں وسوسہ پیدا کر دیا۔

اس نے دل میں عہد کر لیا کہ اس دفعہ وہ زیادہ حصہ لے گا۔ اجنبی نے اسی طرح موقع پا کر چھوٹے بھائی سے پوچھا۔ ’’سامان بیچنے کے بعد تم دونوں برابر تقسیم کرتے ہو؟‘‘چھوٹے بھائی نے بھی وہی جواب دیا۔ ’’ہاں! ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔‘‘اجنبی نے کہا ’’میاں! تمہاری ابھی شادی ہونی ہے، گھر بننا ہے اور آمدنی کی تقسیم میں تم گھاٹے میں رہتے ہو، کام کاج بھی تم زیادہ کرتے ہو، بڑا بھائی تو اپنے بچوں میں مصروف رہتا ہے، اس طرح تمہارا گھر کیسے بنے گا، شادی کے اخراجات کہاں سے آئیں گے؟‘‘چھوٹا بھائی بھی وسوسوں کا شکار ہو گیا اور کھچا کھچا رہنے لگا۔ اجنبی سائے کی طرح کبھی چھوٹے بھائی کے کان بھرتا تو کبھی بڑے بھائی کے کان بھرتا۔ شہر پہنچنے کے بعد سامان بہت اچھے داموں فروخت ہو گیا۔ ضروری خریداری کرنے کے بعد دونوں بھائی جامع مسجد میں جمعتہ المبارک کی نماز پڑھنے گئے۔

امام صاحب نے خطبہ کے دوران سورۃ الناس کی تشریح فرمائی کہ شیطان کس طرح انسانی ذہنوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے اور فرمایا کہ اگر کوئی بھی آپ سے کوئی ایسی بات کرے، جس سے آپس میں پھوٹ پڑے۔ بے اتفاقی پیدا ہو، یا حرص جاگ اٹھے تو آپ لوگ فوراً لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھیں، اس طرح وہ شیطانی وسوسہ فوراً غائب ہو جائے گا۔ دونوں بھائیوں کی سمجھ میں بات آ گئی۔ مسجد کے باہر انہوں نے اپنے دلوں کو ٹٹولا اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط وسوسوں پر فوراً لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھا، اجنبی فوراً غائب ہوگیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو سب کچھ بتا دیا اور ایک دوسرے سے معافی مانگی۔ انہوں نے ایک دوسرے کو دل سے معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ امام صاحب کو ان کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔ اس کے بعد وہ امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کا بھی دل سے شکریہ ادا کیا، کیونکہ انہی کی بدولت وہ شیطان کی مکروہ چال سے بچ گئے تھے۔

جہیز ایک لعنت

جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...