بیٹی پرائی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔
۔
اماں دیکھو نا ابا جب گھر آتے ہیں بھیا کیلۓ کھلونے لاتے ہیں میرے لئے نہیں کیا میں بابا کی رانی نہیں ہوں۔۔ ارے وہ چھوٹا ہے نہ اس لۓ لاتے ہیں ۔۔ ماں ہمیشہ چھوٹا کہہ کر بات ٹال دیتی تھی لیکن مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا ۔۔ بھائی بس ایک سال ہی تو چھوٹا تھا لیکن ابا کا لاڈلا تھا ۔ گھر میں جب بھی کوئی بات ہوتی تو ابا کہتے میرا بیٹا اس گھر کا وارث ہے اور میں سوچتی تھی کہ کیا بیٹیاں گھر کی وارث نہیں ہوتیں کیا ان کا اپنے گھر پر کوئی حق نہیں ہوتا کیوں بچپن سے پرائی بنا دیا جاتا ہے ۔۔ بھیا تو ہر بار اپنی مرضی کر جاتا تھا کالج میں ایک لڑکی پسند آ گئی تو ابا سے کہہ کر منگنی کروا لی اور جب میں نے کہا کہ ابا مجھے بھی کوئی پسند ہے تو طوفان کھڑا ہوگیا بابا نے ماں کوبہت ڈانٹا کہ تیرے لاڈ پیار نے بگاڑا ہے اور بھیجو اسے کالج پڑھنے کیلۓ یہ کل کو ہمارا منہ کالا کرواۓ گی اور میں رات بھر کمرے میں یہ سوچ کر روتی رہی کہ گھر میں بیٹیوں سے ہونے والٰ نا انصافیوں کو کوئی نہیں دیکھتا کسی کو زرا بھی پروا نہیں ہوتی اور بس یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ بیٹی کی پرورش خراب ہوئی ۔ میں کون سا کہیں بھاگ رہی تھی بس اتنا ہی کہا تھا کہ مجھے بھی کوئی پسند ہے کیا سارے گناہ بیٹیوں کے حصے میں آتے ہیں بیٹا جو مرضی کرے وہ ہمیشہ راج ہی کرتا ہے اللہ میرے بھائی کو لمبی عمر دے مجھے معلوم ہے اس کا قصور نہیں یہ تو والدین کی پرورش کا کھوٹ ہے کہ بیٹی کو پرایا مال سمجھتے ہیں میں ان لڑکیوں میں سے نہیں جو گھر سے بھاگ جاتی ہیں ۔۔۔۔ ان سب باتوں کو یاد کرتی ہوں تو ایک خواب لگتا ہے آج میری بیٹی کی شادی ہے میں اپنی ماں جیسی نہیں بنی بلکہ اپنی بیٹی کو بھی بیٹے جتنا پیار دیا اس کو ہمت والا بنایا اس کو اپنا دوست بنایا اسے جو پسند تھا اس لڑکے سے نکاح کردیا آج وہ گھر سے جا رہی ہے لیکن اسے اپنی ماں پر فخر ہے جس نے اس کو کبھی پرایا نہیں سمجھا ۔۔ بیٹیاں پرائی نہیں ہوتیں خدارا ان کو خود سے دور مت کریں..!!
بیٹی پرائی نہیں ہوتی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
جہیز ایک لعنت
جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...
No comments:
Post a Comment