حقیقت دنیا
مولانا روم رحمہ اللہ سے کسی نے دنیا کی حقیقت پوچھی تو جواب ملا :
دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل میں چلاجاتا ہے ۔۔اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر چلا آرہا ہے، وہ بھاگتا ہے ۔بھاگتا ہوا جب تھک جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ سامنے ایک گھڑا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ گڑھے میں گر کے جان بچائے مگر گڑھےمیں اژدھا نظر آتا ہے ۔۔۔
اتنے میں درخت کی ایک ٹہنی پر نظر پڑتی ہے ۔۔وہ اسے پکڑ کر درخت پر چڑھ جاتا ہے ۔مگر چڑھنے کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ دو چوہے ایک سفید اور دوسرا سیاہ ۔۔۔۔۔۔۔ درخت کی جڑ کاٹ رہے ہیں ۔وہ بہت پریشان ہوتا ہے کہ کچھ دیر میں درخت گر جائے گا اور میں شیر اور اژدھے کا شکار ہوجائوں گا ۔۔اتنے میں اس کو اوپر کی جانب ایک شہد کا چھتہ نظر آتا اور وہ شہد پینے اور حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہوجاتا ہے کہ نہ شیر کی فکر رہی نہ اژدھے کا ڈر ،نہ چوہوں کا غم ۔۔۔۔۔۔۔
اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی ،وہ گر پڑا ۔۔شیر نے اسے پھاڑ کر گڑھے میں گرادیا ،جہاں اژدھے نے اسے نگل لیا ۔۔
مولانا روم رحمہ اللہ تشریح بیان کرتے ہوئے فرما تے ہیں کہ جنگل سے مراد یہ دنیا ہے ۔۔شیر سے مراد موت ہے جو پیچھے لگی ہوئی ہے ۔
گڑھا قبر ہے ،جو انسان کے آگے ہے
اژدھا برے اعمال ہیں جو قبر میں عذاب دیں گے ۔۔
چوہے دن اور رات ہیں ۔درخت عمر ہے جو ہر گذرنے والے دن کم ہورہی ہے، اور شہد کا چھتہ دنیا کی غافل کردینے والی لذتین ہیں ،کہ انسان اعمال کی جواب دہی ،موت ،قبر ۔۔۔۔۔سب بھول جاتا ہے، اور موت اسے اچانک آن لیتی ہے ۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment