~~~~~※ انسانیت کی خدمت ※~~~~~
کہتے ہیں ایک نوجوان نے دنیا سے تنگ آ کر راہبانہ زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئیے اس نے شہر سے دور ایک غار میں جانے کا سوچا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ اس غار میں ایک بہت بڑا راہب پہلے بھی رہتا تھا جسے وہاں قیام کئیے سالوں ہو چلے تھے۔
وہ نوجوان بھی وہاں پنہچا اس نے دیکھا کہ وہ راہب اپنی عبادت میں اس قدر مگن ہے کہ اسے دنیا کی ہوش نہیں۔ اسنے اس راہب کو سلام کیا۔ راہب نے اس نوجوان سے وہاں آنے کے متعلق پوچھا۔
نوجوان نے بتایا کہ وہ دنیا سے تنگ ہے اور اس کی طرح راہبانہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ وہ خُدا کو پانا چاہتا ہے۔
راہب نے کہا کہ وہ سالوں سے ریاضت کر رہا ہے لیکن ابھی تک خُدا کو نہیں پا سکا۔ نوجوان بھی ایک طرف ہو کے عبادت کرنے لگا۔ تھوڑی دیر گزری تو کسی کے رونے کی آواز آنے لگی جیسے کوئی بہت تکلیف میں ہو۔ نوجوان سے رہا نہ گیا اس نے راہب سے کہا کہ ہمیں چل کر دیکھنا چاہیے شائد کسی کو مدد کی ضرورت ہو۔
راہب نے کہا کہ وہ ہر گِز اپنی عبادت چھوڑ کر نہ جائے گا اگر جانا ہے تو نوجوان اکیلا جائے۔ اس نوجوان سے نہ رہا گیا اور وہ اُٹھ کر باہر نکل گیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک شحص ہے جو کُچھ دور بیٹھا ہے جب نوجوان پاس پنہچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی ایک ٹانگ پتھروں کے بیچ پھنسی ہوئی ہے۔ نوجوان نے اس کے ساتھ مل کر پتھر ہٹائے اور اس کی ٹانگ آزاد کروا دی۔
اس شحص نے نوجوان سے وہاں ہونے کے متعلق پوچھا : نوجوان نے بتایا کہ وہ خُدا کو پانا چاہتا ہے اور اس لئیے اس غار میں آ بیٹھا وہاں اپنی عبادت کر رہا تھا آپ کی آواز سنی تو لگا آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو آ گیا۔
اس شحص نے پوچھا وہاں کوئی اور بھی ہے ؟؟
نوجوان نے اسے راہب کے متعلق بتایا۔
اس پر اس شحص نے کہا تو نہیں جانتا میں کون ہوں میں ایک فرشتہ ہوں اور خُدا کے حکم سے آیا ہوں۔ بیشک تو نے کسی کی خدمت سے خُدا کو پا لیا اور وہ راہب ابھی تک ویسے کا ویسا کورا رہا جب نوجوان نے یہ سُنا تو اسے سمجھ آ گئی کہ رب کو پانا ہے تو عبادت سے نہیں خدمت سے پا سکو گے اس نے اپنا سامان لیا اور واپس اس نیت سے شہر چل دیا کہ اب وہ مجبور اور بےکس لوگوں کی خدمت کرے گا۔
کہ عبادت سے جنت ملتی ہے اور خدمت سے رب_______________※
دوستو ! ہم انسانوں کو انسانیت کی خدمت کے لئیے پیدا کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ماشاء الله سے تہجد گزار ہیں لیکن ان کا ہمسایہ کس تکلیف میں ہے اس بارے لاعلم ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ جتنی ہو سکی ہم بھی انسانیت کی خدمت کریں گے ان شاء الله____کہ حضرت اقبال نے کہا ہے____________※
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ اطاعت کے لئیے کُچھ کم نہ تھے کروبیاں
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں الله سب کو ہمیشہ خوش رکھے آمین یارب________فی امان الله
No comments:
Post a Comment