مراثی نے اونچی آواز میں کہا

میراثی نے اونچی آواز میں کہا :
”مولوی صاحب چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے نکل آئی ہے“
مولوی صاحب نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور سکتے کے عالم میں دیر تک میراثی کی طرف دیکھتے رہے۔ پنچائیت نے بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ لوگ اٹھے اور آہستہ آہستہ محفل سے غائب ہونے لگے۔
میراثی پیغام دینے کے بعد واپس چلا گیا۔
مولوی صاحب خفگی‘ خجالت اور شرمندگی میں ڈوبتے چلے گئے۔ یہ کیفیت قدرتی تھی۔
ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں وہاں مولوی صاحبان عزت اور ایمانداری کا نشان ہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کو نماز بھی پڑھاتے ہیں‘ ان کے کلمے بھی سیدھے کرتے ہیں‘ ان کے جنازے بھی ادا کرتے ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے تنازعے بھی نمٹاتے ہیں۔ آپ اندازا کیجئے اس ماحول میں گاؤں کے واحد مولوی صاحب پر چوری کا الزام لگ جائے اور وہ الزام بھی گاؤں کی پنچائیت میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے لگایا جائے تو مولوی صاحب کی کیا حالت ہو گی؟
ان مولوی صاحب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ پنچائیت میں بیٹھے تھے۔ لوگوں کے تنازعوں کا فیصلہ کر رہے تھے۔ میراثی آیا اورمولوی صاحب کی عزت مٹی میں رول دی۔ لوگ اٹھ کر گھروں کو چلے گئے۔ مولوی صاحب سر پکڑ کر بیٹھے رہے ۔
میراثی تھوڑی دیر بعد ہانپتا کانپتا واپس آیا‘ مولوی صاحب کے دونوں پاؤں پکڑے اور روتے روتے کہا ”مولوی صاحب مجھے معاف کر دیں‘ چوری کی بھینس آپ کے باڑے سے نہیں نکلی، وہ آپ کے ہمسائے نے چوری کی تھی اور وہ وہیں سے برآمد ہوئی‘ مجھ سے غلطی ہو گئی ‘ میں اب گھر گھر جا کر آپ کی صفائی پیش کروں گا“
مولوی صاحب دیر تک میراثی کو خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آہستہ سے بولے
”نور دین! تم اب جو بھی کر لو، میں علاقے میں چور بن چکا ہوں۔ لوگ مجھے باقی زندگی چور مولوی ہی کہیں گے“
میراثی نے مولوی صاحب سے اتفاق نہیں کیا ، لیکن مولوی صاحب کی بات حقیقت تھی۔
دنیا میں سب سے قیمتی چیز انسان کی عزت ہوتی ہے‘ یہ اگر ایک بار داغدار ہو جائے تو یہ دوبارہ صاف نہیں ہوتی۔ اسلئے لوگوں پر الزام اچھالنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیا کرو

کھودا پہاڑ نکلا چوہا

فاران کو جاسوسی کرنے کا بے حد شوق تھا وہ اپنے آپ کو جاسوسی فلموں کا ہیرو سمجھتا تھا۔اس کے گھر والے اس عادت سے بہت تنگ تھے۔ فاران پر اگر اسی طرح جاسوسی کابھوت سواررہا تو کسی دن یہ ہم سب کے لیے کوئی بڑی مصیبت نہ کھڑی کردے۔ انہی باتوں کی وجہ سے اس کاپڑھائی میں بھی دل نہیں لگتا۔ آخر اس کا ہوگا کیا“ امی نے متفکر ہوکر ابو سے کہا: اسے سمجھا سمجھا کرتھک گئے ہیں لیکن اس کے کانوں پر جیسے جوں ہی نہیں رینگتی۔ آئے دن محلے سے شکایتیں آتی رہتی ہیں۔ بس اب میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسے بورڈنگ میں داخل کرا دوں گا، وہاں پابندرہے گا تو جاسوسی کاشوق ختم ہوجائے گا۔ ابو غصے سے بولتے چلے گئے۔ بالآخر فاران کو بورڈنگ ہاؤس میں داخل کروایا گیا۔ یہاں صبح کے ناشتے کے لیے رات میں ہی ہر بچے کا بن ڈبل روٹی منگوالیا جاتا تھا کیونکہ بیکری صبح جلدی نہیں کھلتی تھی۔ دو چار دن سے بورڈنگ ہاؤس میں عجیب بات محسوس کی گئی کہ روزانہ ایک بچے کا بن غائب ہوجاتا۔فاران کی جس جاسوسی اس موقع پر بھڑک اٹھی۔ رات کو جب سب سوگئے تو وہ اپنے بستر پر بیٹھے کمرے میں چاروں طرف نظریں دواڑنے لگا۔ اچانک اس نے ایسی عجیب بات دیکھی کہ بے اختیار لیٹ کر چادر سر تک تان لی اور کانپنے لگا۔ رات بھر وہ خوف سے کپکپاتا رہا۔ صبح پھر اسکول سراسیمگی کاعالم میں تھا کیونکہ ایک اور بن غائب تھا۔ کسی کو معلوم ہویا نہ ہو مگر فاران کو معلوم تھا کہ چور کون ہے؟ اس نے ایک بچے سے کہا مجھے معلوم ہے کہ چور کون ہے؟ کون اور تمہیں کیسے معلوم“ بچے نے پوچھا “ جن ․․․․․․․نن! اس نے نون پر زور دے کر کہا: 
جن․․․․․․؟ کیا مطلب․․․․․․․ وہ بچہ اور حیران ہوگیا۔ فاران نے چہر خوفناک بناتے ہوئے کہا ” ہاں حسن، 
مگر وہ بجائے فاران سے متاثر ہوتا، اس کامذاق اڑانے لگا۔ اگلی رات جب سب سوگئے تو وہ پھر جاسوسی میں لگ گیا۔ ابھی وہ سوچ رہا تھا کہ اچانک اسے اپنے قریب کچھ آہٹ سنائی دی۔ اس نے ایک جھٹکے سے آہٹ کی جانب دیکھا تو اسے اپنے نیچے سے بستر نکلتا محسوس ہوا۔ ایک اور بچے کابن خود بخود کھسک رہاتھا۔ وہ آنکھیں پھاڑے اسے کھسکتا دیکھ رہاتھا۔اتنا بڑا گول بن زمین پر کھسک نہیں رہاتھا۔ بلکہ تھوڑا سا اوپر کو اٹھ کرفضا میں اڑرہا تھا۔ وہ تھر تھر کانپنے لگے اور پھر اس نے ذرا غور سے دیکھا تو اسے بن کے نیچے ایک کالے رنگ کی چیز نظر آئی۔اس نے کاپنتے ہوئے تھوڑا جھک کر غورسے دیکھا تو اس کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔ اس کی ہنسی سن کر باقی بچے بھی گھبرا کر اٹھ بیٹھے۔ کیا ہوا؟ ایک نے پوچھا، ارے کیوں ہنس رہے ہو اتنی رات کو ؟ ایک اور بولا۔ فاران سب باتوں سے بے نیاز، بس اس بن کو دیکھے جا رہاتھا جواب کافی دور نکل چکا تھا۔ پھر باقی بچوں کی نگاہیں بھی اس کی نگاہوں کی سیدھ میں گئیں۔سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ اتنے بڑے بن کے نیچے چھوٹی سے چوہیا ایسی لگ رہی تھی جیسے کوئی پستہ قدمزدور فوم کا گدا اٹھائے چلاجارہا ہو۔ اچھا تو یہ ہے بن چور، دھت تیرے کی۔ کئی بچوں کے منہ سے نکلا اور کمرا قہقہوں سے گونج اٹھا ۔ چوہیا ان کے قہقہوں سے خوفزدہ ہوکربن چھوڑ کر سرپٹ بھاگ گئی۔ فاران نے بے اختیار کہا” یہ وہی مثال ہوگئی، کھودا پہاڑ نکلا چوہا

برائی کا جواب

ایک چونٹا بڑا محبتی اور شریف تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی مند میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محبت سے کرتا تھا۔ 
وہ وقت کی بھی بڑی قدرکرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا تو کسی سے بے مقصد بات نہ کرتا وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا چونٹا مل گیا تو دور ہی سے سلام دعا کرلی اور اپنی راہ پکڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دردمنددل کا مالک بھی تھا۔ اگر راہ میں کوئی مصیبت زدہ مل جاتا تو اپنا کام چھوڑ کر اس کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے بڑوں کی عزت کرتا اور چھوٹوں سے بھی شفقت سے پیش آتا تھا۔ 
اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔شریر اور گندے بچے گھنٹوں اس میلے کیچلے پانی میں نہاتے رہتے تھے۔ گندے پانی میں بہت سے جراثیم ہوتے ہیں جو ان کی کھال میں چپک کر پھوڑے پھنسی پیداکردیتے ہیں۔ ان بچوں کے علاوہ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھی۔ 
چیونٹا بڑا پریشان تھا۔ بھینسیں سارا دن پھرتی رہتی تھی۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں وہ یا اس کا کوئی بچہ بھینسوں کے پاؤں تلے نہ کچل جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تھا تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا تھا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔ 
ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا، اس لیے دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر لیٹ گیا۔ چارے کوسوئے سوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا تو دیکھا کہ اس کی بیوی چیونٹی کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تو بولی: آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ 
ہیں ․․․․․․․ کیا کہاپانی․․․․․ پانی کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹا بولا۔ 
میں کیا جانوں کہاں سے آرہاہے۔ آپ باہر جاکر دیکھیں اوراس پانی کو کسی طرح بند کریں، ورنہ ہمارا محنت سے جمع کیا ہوا غلہ ضائع ہوجائے گا۔ چیونٹی نے کہا۔ 
چیونٹا فوراََ باہر کی طرف بھاگا۔ باہر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کے بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم کو پانی مار رہی ہے۔ جس سے پانی کے چھینٹے اڑ اڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظردیکھا تو پریشان ہوگیا۔ 
اس طرح تو ہمارا خوراک کا ذخیرہ خراب ہوجائے گا۔ جاڑوں کے موسم میں بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچا، پھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھ پر چڑھ کر بولا: بی بھینس ! میری ایک بات سنو! 
کیا ہے؟ وہ اکڑکر بولی۔ 
دیکھو بہن!میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہوہم زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے مناسب موسموں میں برے وقت کے لیے اپنی خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔ 
تو پھر میں کیا کروں؟ بھینس روکھے پن سے بولی۔ 
اچھی بہن ! تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہماری خوراک کاذخیرہ تباہ ہورہا ہے۔ خدا کے لیے مجھ پر اور میرے بچوں پر ترس کھاؤ اور اپنی دم پانی پر نہ مارو۔ میں تمام زندگی تمھارا احسان مندرہوں گا۔ 
وہ بہت بداخلاق بھینس تھی۔ اس پران باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ بڑے زور سے ذکرائی اور آنکھیں نکال کر بولی: جاجا حقیرچیونٹے میں اپنی مرضی کی مالک ہوں، جب تک چاہوں دم ہلاتی رہوں۔ تو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ دفع ہوجاؤ، ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔ 
چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیا۔ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چنانچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر چکا تھا۔ خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا اور چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے انھیں پانی سے نکالا اور باہر لے آیا۔ پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈالی اور کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔ اب اس کے پاس نہ کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کا ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا کہ کیا کرے کیا نہ کرے۔ چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انھیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا: پیارے بھائی! آپ ہمارے محسن ہیں۔ آپ نے ہر برے وقت پر ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔ 
یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹا کیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا، اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے اپنے گھر سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے وہ غلے کاایک بڑا ڈھیربن گیا۔ اس طرح چیونٹے کے پاس اب ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساغلہ تھا۔ اس نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ 
ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ وہی بھینس پانی سے الگ کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی، جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس تکلیف میں دیکھا تو بڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ 
مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟ چیونٹا بے چینی سے بولا۔ 
بھینس نے بتایا: میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہاہے۔ اور تنکا کسی طرح نکل بھی نہیں رہاہے۔
میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ چیونٹا بولا: تم اپنا سرزمین پر رکھو۔ 
بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال پھینکا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملا اور وہ احسان کے بوجھ تلے دب گئی۔ 
اس نے شکریہ ادا کیااوربولی: میں نے تم پر ظلم کیا، لیکن بھر بھی تم نے مجھ پر احسان کیا۔ آخر کیوں۔ 
چیونٹا بولا: سنو بہن! تمھاری بدی کے جواب میں اگر میں بھی بدی کرتا تو میرے اور تمہارے درمیان کیا فرق رہ جاتا۔ اگر تمام لوگ بدی کا جواب بدی سے ہی دینے لگیں تو دنیا سے نیکی بالکل ہی مٹ جائے گی۔ پھر اگر تمہیں اس خوشی کااحساس ہوجائے جوکسی کے ساتھ بھلائی کرنے سے ملتی ہے تو تم کو تمھارے سوال کا جواب خود ہی مل جائے گا۔ 
یہ سن کر بھینس نے وعدہ کیا کہ اب میں کسی کو نہیں ستاؤں گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آؤں گی

معصوم فرشتے کا دکھ

بازار میں موجود لوگوں کے رنگین ملبوسات قوس قزح کا رنگ بکھیررہے تھے۔ دوکانوں اور گاہکوں کی آمدرفت نے ان رنگوں میں مزید اضافہ کردیا۔ آدم کے ہجوم کی سرگوشیاں‘ ریڑھی والوں کی آوازیں‘ گاہکوں اور دکانداروں کی بحث ٹولیوں کی صورت میں مٹر گشتی کرتے ہوئے نوجوانوں کے قہقہوں کی گونج اور شور پیدا کرنے والے بے تگے ہارن کی آوازیں غربت زدہ آواز کوروندتی ہوئیں بازار کی آب وہوا میں گھل کر آسمان میں گم ہوگئیں۔ لکڑی کے بانس پر مختلف رنگوں کے کئی غباری کھلونے دھاگے سے پیوندتھے جس دس سالہ بچہ ہاتھ میں پکڑے پانچ پانچ روپے کی آواز لگاکر غبارے بیچ رہاہے۔ گول سانولے چہرے میں دھنسی ہوئیں موٹی موٹی سفید آنکھیں، بال قدرے چھوٹے اور کلیجی رنگ کی بوسیدہ قمیض جو شلوار سے بھی کئی درجے بھدی معلوم ہوتی تھی۔ پیروں میں پرانی جوتی جو مختلف جگہوں سے آدھی گھس چکی تھی۔ گویا غربت پورے وجود سے سورج کی روشنی کی طرح نمایاں تھی۔ صبح سے شام تک پانچ پانچ روپے کی غباری کھلونے بیچ کروہ معصوم فرشتہ اپنے گھر لوٹ جاتا۔ 
پچھلے ہفتے جب تمام غباری کھلونے بک چکے تو بازار کی ایک دکان کے شوکیس میں لگے مختلف قسم کے کھلونوں نے اسے اپنی طرف مکمل طور پر مائل کرلیا۔ کچھ دیر وہ چمکتی نظروں سے انہیں دیکھنے لگا۔ شوکیس میں ترتیب لگے ہوئے مختلف کھلونوں کے ساتھ پڑی ہوئی چوٹی سی گاڑی اس کی آنکھوں میں رقص کر رہی تھی۔ گاڑی کے ساتھ لگے ہوئے ٹیگ پر لکھی ہوئی قیمت پڑھ کر وہ گھر کو روانہ ہوگیا۔ ایک ہفتہ پیسے جمع ہوتے رہے اور اس دوران وہ تمام غباری کھلونے بیچ کر اس دکان کا چکر ضرور لگاتا اور کھلونے شوکیس میں دیکھ کر دل میں خوشی کی کئی لہریں رقص کرتیں۔ کھلونے بج جانے کا خوف تسکین میں بدل جاتا اور گول سانولے چہرے میں دھنسی ہوئیں سفید آنکھیں خوشی سے چمکنے لگتیں۔ ایک ہفتے کے بعد گلوتوڑا اور تمام سکوں کو اکٹھا کرکے گنا۔ 
آج خواہشوں کی تکمیل کادن تھا سب سے بڑی فتح کادن۔ معمول کے مطابق غبارے اور کھلونے بیچنے کے بعدوہ بازار کو ہولیا۔ شام تک پھر پھر ا کر آخری دو کھلونے بچ گئے جن کا کوئی گاہک نہ لگا۔ سوچ بچار کے بعد وہ کھلونوں کی دکان میں داخل ہوا قمیض کی دائیں جیب سے تمام سکے نکال کر کاؤنٹر پر رکھے اور اس گاڑی کی طرف اشارہ کیا۔ دکاندار کے مطابق پانچ روپے کم تھے۔ معصوم فرشتے نے ایک غباری کھلونا دھاگے سے توڑ کر دکاندار کے آگے رکھ دیا۔ دکاندار نے نفی میں سر ہلایا” یہ نہیں ․․․․․․․ پانچ روپے لاؤ گے تو کھلونا ملے گا“ باہر نکلتے ہی اسکی نظر چوک میں چھوٹی سی بچی پرپڑی جو دائیں ہاتھ سے اپنی ماں کی قمیض کھینچتے ہوئے بائیں ہاتھ سے غباری کھلنے کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ معصوم فرشتے کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ وہ ان کی طرف لپکابچی کو غباری کھلونا تھما کر پانچ روپے کا سکہ وصول کیا اور کھلونوں کی دکان کا رخ کیا۔ دکان کے قریب پہنچتے ہی وہ ہڑ بڑاہٹ میں بھاگتا ہوا شوروم کی طرف بڑھا۔ ایک بچہ بھاگتا ہوا اس سے ٹکرایا اورہاتھ میں وہ گاڑی لئے گھوں گھوں کرتا ہواا پنی ماں سمیت اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ بانس زمین پر گرگیا اور آخری غبارہ زمین سے ٹکراتے ہی پھٹ گیا۔ بڑی دیر تک وہ شوروم کو تکتا رہا۔ اسکا وجود لکڑی کی طرح بے جان ہوچکا تھا۔ سانولے چہرے میں دھنسی ہوئیں سفید آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے اشک دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھے ہوئے پانچ روپے کے سکے کو گیلا کررہے تھے

بوجھ اتر گیا

صاحب میری ماں کو بچالیجیے۔ ڈاکٹر چارلاکھ رپے کا خرچ بتارہے ہیں۔ صاحب ! ماں کو بچالیں۔ میں پیسے اپنی تنخواہ میں سے تھوڑے تھوڑے کرکے واپس کردوں گا۔ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ 
یہ الفاظ سن کر احمد سلیم کو حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔ وہ ایک دولت مند آدمی تھے اور لوگوں کی مدد کرنا انھیں اچھا لگتا تھا۔ چار لاکھ رپے ان کے لیے معمولی رقم تھی۔ اس شخص کودیکھ کر وہ ماضی کی یادوں میں کھوتے چلے گئے۔ 
استاد، استاد! میری ماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔ کچھ پیسے دے دو۔ میں تمھارا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔ یہ پیسے میری تنخواہ سے کاٹ لینا استاد․․․․․․․․“ 
بارہ سالہ سلیم اپنے استاد کے سامنے گڑگڑا رہاتھا۔ وہ ایک دکان میں مکینک کاکام کرتا تھا۔ حالات نے اس وقت سے پہلے ہی بڑا کردیا تھا۔ اسکول، پڑھائی، کھیل کود، یہ الفاظ اس کی زندگی میں نہیں تھے۔ اس کی زندگی کامقصد تو بس ایک ہی تھا، بیمارماں کی زندگی کی ڈور کوکٹنے نہ دینا اور اپنے سے چھوٹے پانچ بہن بھائیوں کا پیٹ پالنا۔ 
جس دکان پر سلیم کام کرتا تھا ،ا س کامالک ایک رحم دل آدمی تھا۔ وہ سلیم کی اکثر مددکردیا کرتا تھا۔ تقریباََ ہر مہینے ہی اس کایہ معمول تھا۔ کبھی تو مانگے ہوئے پیسے اس کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوتے تھے۔ استاد بھی جانتے تھے کہ بچہ حقیقت میں ضرورت مند ہے، اس لیے وہ کبھی انکار نہ کرتے۔ سلیم بھی استاد کوبابا کی طرح سمجھتا تھا۔ استاد کو یہ بات معلوم تھی کہ وہ شروع سے ایسی پریشانیوں کاشکار نہیں تھا۔ جب تک سلیم کے والد زندہ تھے، اسے کبھی پانی پینے کے لیے بھی خود اٹھنے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ 
سلیم کے چاچا اور ابا کی کپڑے کی مل تھی۔ وہ ایک اچھے اسکول میں پڑھتا تھا۔ اچانک ایک حادثے نے اس کی زندگی کو پلٹ کررکھ دیا۔ اس کے والد کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ والد کے بعد چچانے ساری جائدادا پنے قبضے میں لے کر انھیں ہر طرح سے محتاج کردیا۔ اس کی والدہ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکیں اور فالج کاشکار ہوگئیں۔ چچانے اتنی مہربای کی کہ انھیں رہنے کو ایک کمرے کامکان دے دیا۔ اب ماں پی اس کاسب کچھ تھی۔ 
سلیم نے ایک مکینک کی دکان پر کام شروع کردیا۔ ایک دن اس کی اندھیری دنیامزید تاریک ہوگئی۔ اس کی ماں راتوں رات چپ چاپ دوسری دنیا سدھا رگئی۔ استاد ہی نے اس کی ماں کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ سلیم خود کو اپنی ماں کی موت کاذمے دار سمجھ رہاتھا۔
اگلے دن وہ استاد کے پاس گیا، مگرآج وہ ایک فیصلہ کرچکاتھا۔ اس نے استاد سے کچھ پیسے اُدھار لیے اور کچھ سلے سلائے کپڑے خرید کر بیچنے نکلا پڑا۔کم منافع رکھ کر اس نے سارے کپڑے بیچ دیے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنا نام مارکیٹ میں بناتا چلاگیا۔ لوگ آنکھیں بندکرکے اس پر بھروسا کرتے تھے۔ آخر وہ وقت بھی آیاجب اس نے ایک دکان مارکیٹ میں خریدلی۔ اب وہ بایس سال کاہوگیا تھا۔ اس کاشماربڑے کارباری لوگوں میں ہونے لگا۔ 
چندبرسوں میں اس کاکاروبار پورے شہرمیں پھیل گیا۔ کپڑے کی مل لگانا اس کا خواب تھا، وہ بھی پورا ہوچکاتھا۔ شہر بھر میں اس کی شہرت تھی۔ اس کے بہن بھائی بھی اب پڑھ لکھ گئے تھے، مگر احمد سلیم خود نہیں پڑھ سکے۔ اب وہ سیٹھ سلیم کہلاتے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی کے بنائے ہوئے کپڑوں کے ڈیزائنوں نے بھی ان کی شہرت کوچارچاند لگادیے۔ اس عرصے میں وہ استاد کونہیں بھولے تھے اور ان کاہر ممکن خیال رکھتے تھے۔ 
صاحب اپلیز صاحب! بچالو․․․․․․․ یہ ان کاچچازاد بھائی تھا، جو انھیں پہچان نہیں پایاتھا، مگر سیٹھ سلیم اسے پہچانتے تھے۔ وقت نے اس کے پورے خاندان کو تباہ کردیا تھا۔ ایک لمحے کو انھوں نے سوچا کہ وہ اسے دھکے دے کر باہر نکلوادیں اور اپنی ماں کی موت کابدلہ لے لیں، لیکن وہ ایک اور ماں کو نہیں کھونا چاہتے تھے۔ اس درد کوان سے بہتر بھلا کون جانتا تھا۔
کوئی بات نہیں، تمھاری ماں میری ماں ہے۔ اس کے علاج کے ذمے داری میری ہے۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔ 
ان کے دل سے ایک بوجھ اُترچکا تھا۔ اپنی ماں کی موت کا بوجھ، جو وہ ایک ماں کو بچاکر ہی اُتار سکتے تھ

آخری دعوت

وہ بھوکا تھااور کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں بھی تھا۔ مارے جانے کاخطرہ ہرطرف سے اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہورہاتھا۔ وہ کونوں کھدروں میں چھپتا چھپا تا کوئی محفوظ ٹھکانا ڈھونڈ رہاتھا۔ جیسے ہی وہ ایک گلی کاموڑمڑ کے ایک کھلی سڑک پر آیا، اسے ایک دیوار میں سوراخ نظر آگیا۔ وہ سمٹ سمٹا کراس سوراخ سے اندر داخل ہوگیا۔ جونہی اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں۔ حیرت اور خوشی سے وہ اچھل پڑا۔ یہ رنگوں اور خوشبوؤں کی ایک انوکھی دنیا تھی، جہاں ہر طرف کھانے کی مزے مزے کی چیزیں سجی ہوئی تھیں۔ ایک طرف کیک، پیسٹریاں ، بسکٹ اور کریم رول اپنی بہاردکھا رہے تھے دوسری طرف لذیذمٹھائیاں اسے للچارہی تھیں۔ ایک طرف کاغذ والے دودھ کے ڈبے رکھے تھے تو کہیں پھلوں کے رس کے ڈبے اسے لبھارہے تھے۔ ایک کونے میں ٹافیوں اور چاکلیٹوں کی رنگ بھری دنیا است کھانے کی دعوت دے رہی تھی۔ 
پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پہ یقین ہی نہیں آیا۔ اس نے پلکیں جھپک جھپک کے دیکھا کہ کہیں یہ خواب تو نہیں ۔ وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔ چیزیں اتنی تھیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ پہلے کیا چیز کھائے۔ چیزوں کاایک جہاں تھا اور بس وہ تھا۔ وہ ایک چیز تھوڑی سی چکھتا اور پھردوسری کی طرف لپکتا۔ ابھی اسے کھارہاہوتا کہ تیسری کی کشش اسے اپنی طرف کھینچ لیتی۔ کھاتے کھاتے اسے پیاس لگی تو دودھ کے ڈبوں کی طرف لپکا۔ ایک ڈبے میں سوراخ کرکے جی بھر کر دودھ، پیا، پھرمٹھائیاں پر ہلہ بول دیا۔ گلاب جامن، برفی، بالوشاہی، قلاقند،لڈو، چم چم، رس گلے ڈھیر سارے موجود تھے۔ وہ کھا رہاتھا اور ناچ رہاتھا۔ اس نے اتنا کھایا کہ پیٹ بھرگیا۔ اب وہ اپنے بوجھل پیٹ کے ساتھ آہستہ آہستہ چیزوں کی طرف بڑھتا تھوڑاسا چکھتا اور دوسری طرف بڑھ جاتا۔ 
نہ جانے کتنا وقت گزرگیا۔ اس پہ سستی طاری ہونے لگی۔ اس نے سوچا اب یہاں سے چلاجائے، مگر اس مزے دار میٹھی دنیاکے آخری کونے سے ایک مسحور کن مہک نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ سوندھی سوندھی خوشبوسب خوشبوؤں سے انوکھی سب سے الگ تھی۔ اس کی تیز نظروں نے اس جگہ کو دیکھ لیا، جہاں سے یہ خوشبو آرہی تھی۔ یہ گھی میں تلی سرخ سرخ روٹی کابڑا ساٹکڑا تھا، جولوہے کی ایک عجیب سی چیز کے ساتھ پڑا تھا۔ اگرچہ اس کامعدہ گلے تک بھر چکاتھا، ،مگر ڈھیر ساری میٹھی چیزیں کھانے کے بعد مزے دار روٹی کاذائقہ چکھنے سے وہ خود کو نہ روک سکا۔ وہ بے تابی سے وہاں جاپہنچا اور جیسے ہی روٹی کے ٹکڑے کوکھانا، چاہا، ایک پُراسرار سی چیز تیزی سے اس کے سر کی طرف آئی۔ اس نے خود کو اس کی زد سے بچانا چاہا، مگر بھرے سے پیٹ اور غنودگی کی وجہ سے وہ پیچھے نہ ہٹ سکا اور ایک خوف ناک آواز کے ساتھ پلک جھپکتے ہی اس کی گردن ایک آہنی شکنجے میں جکڑ گئی۔ اس کی آنکھیں حیرت کا گہرا تاثر لیے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس حیرت میں ایک رنگ پچھتاوے کا بھی تھا کہ اے کاش میں اتنالالچ نہ کرتا۔ پھر اس کا دم گھٹتا چلا گیا۔ 
دوسری صبح بیکری کے مالک نے اپنی دکان کاشٹر اٹھایا تو ایک کونے میں لوہے کے شکنجے میں پھنسے چوہے کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس نے آگے بڑھ کر مردہ چوہے کو اٹھاکر کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیااور دکان میں گھوم کراس نقصان کاجائزہ لینے لگا، جو اس بن بلائے مہمان کی وجہ سے ہوا تھ

غریب ہونا جرم نہیں

برسوں پہلے کی بات ہے کہ ایک شہزادے کی لکڑہارے سے دوستی ہوگئی۔ ہوایوں کہ شہزادہ شکار کیلئے جنگل میں گیا کہ اچانک سامنے سے شیر آگیا اس کی دھاڑ سے گھوڑا بد ک گیا جس کی وجہ سے شہزادہ توازن برقرار نہ رکھ سکااور گرگیا۔ شیر کو بالکل سامنے دیکھتے ہوئے شہزادے فوراََ تلوار نکالی اور مقابلے کیلئے تیار ہوگیا۔ شیراس کی جانب لپکا شہزادے نے تلوار گھمائی جو شیر کی پسلیوں میں لگی اب زخمی شیر اور بھی خطرناک ہوگیا تھا۔ اس نے شہزادے پر چھلانگ لگائی تو شہزادے کے ہاتھ سے تلوار گرپڑی۔ شیرنے شہزادے کو زخمی کردیا۔ شہرادے نے خوب مقابلہ کیا مگر پھرے درندے سے مقابلہ آسان نہ تھا۔ آخر کار شیر نے اسے گرا دیا۔قریب تھا کہ شہزادے کی گردن دبوچتا اچانک شیردھاڑ کر پیچھے کو مڑا کسی نے اس کی کمر میں بڑی زور سے کلہاڑا ماراتھا۔ شیر دھاڑ اور جنگل کی طرف بھاگ نکلا۔ شہزادے نے دیکھا کہ ایک خوبصورت نوجوان نے فوراََ شہزادے کو اٹھایاایک محفوظ جگہ پر لے جا کر اس کی مرہم پٹی کی۔ کچھ دیر بعد شہزادے کے محافظ سے ڈھونڈتے ہوئے پہنچ گئے۔ انہوں نے شہزادے کو دوسرے گھوڑے پر بٹھایا اور محل کی طرف روانہ ہوگئے۔ 
یوں لکڑہارے کی شہزادے سے دوستی ہوگئی وہ اس کی تیمارداری کیلئے محل آنے لگا تھا۔ شہزادہ اسے پسند کرنے لگا تھا کیونکہ وہ ذہین ، عقلمند اور بہادر تھا۔ لیکن بادشاہ کو اس کی دوستی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اس نے شہزادے نے احتجاج کیا کہ وہ میرا محسن ہے اور بہت اچھے اخلاق کامالک اور ذہین انسان ہے۔ غریب ہونا کوئی جرم نہیں۔ ایسے سمجھدار سے دوستی کاہاتھ بڑھایا ہے اب مجھیت زیب نہیں دیتا کہ اس سے تعلق توڑوں۔ 
بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے اور اس کے خاندان کو ملک بدرکردیاجائے۔ یوں ایک فوجی دستہ لکڑہارے کو بے یاد مددد گار سرحد سے باہر چھوڑ آیا۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد وہ بھوکا پیاسا ایک بڑے شہر پہنچا جہاں کھلے میدان میں بڑے چبوترے پر بڑی پگڑیوں والے بہت سے سردار، امراء اور تاجر بیٹھے تھے جن کے سامنے میزپر پنجرے میں ایک پرندہ قید تھا۔ لکڑہارے نے اس بڑے اور عالیشان مجمع کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ کل ان کا بادشاہ فوت ہوگیا۔ آج یہاں نئے بادشاہ کا انتخاب ہوگا۔ کچھ لمحوں میں چبوترے پر رکھا پنجرہ کھولا جائے گا اس میں بیٹھا پرندہ جس کے کندھے پر بیٹھے گا وہی ہمارا بادشاہ ہوگا۔ لکڑہارا ارسلان یہ دلچسپ منظر دیکھنے لگا۔ قسمت کی خوبی جب پنجرہ کھولا تو پرندہ اڑ کر ارسلان کے کندھے پر آن بیٹھا۔ لوگوں نے تالیاں بجائیں اور اپنے نئے بادشاہ کو محل لے آئے اور رسومات کی ادائیگی کے بعد بادشاہت کاتاج ارسلان کے سرپرسجادیاگیا۔ یوں محنت ومشقت کرنے والا نیک دل اور بہادر لکڑہارا بادشاہ بن گیا۔ چندروز آرام وسکون سے حالات کاجائزہ لینے کے بعد اس نے مملکت کے معمالات دیکھنے شروع کیے تو معلوم ہوا کہ ملک میں لاقانونیت، لوٹ مار، غنڈہ گردی، چوری چکاری عام ہے۔ بے تحاشہ کرپشن اور رشوت ستانی کابازار گرم ہے۔ بااثر ظالموں سے کسی کی جان ومال محفوظ نہیں۔ 
بادشاہ کے دربار میں روزانہ ہزاروں درخواستیں دیتے ہیں مگر راشی داروغہ بادشاہ نہیں پہنچے دیتا۔ رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ اس نے اعلان کروادیا کہ آج کے بعد کوئی رشوت نہیں لے گا۔ اگر معلوم ہوگیا تو اس کی سزا پھانسی ہوگی۔ ہر طرف سناٹاچھاگیا مگرلوگ کب بازآنے والے تھے۔ انہوں نے رشوت لینی نہ چھوڑی جس جس کاپتہ چلتا اسے پھانسی چڑھا دیاجاتا۔ کچھ ہی دنوں میں رشوت لینے اور دینے والوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ رشوت کے خاتمے کے ساتھ ہی غنڈہ گردی اور لاقانونیت کابھی خاتمہ ہوگیا۔ ہر شخص اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق کاخیال کرنے لگا۔ یوں ملک میں اصلاح احوال کی صورت بنی اور تعمیروترقی کانیا دور شروع ہوگیا۔ 
ریاست کی تعمیرکی شہرت چار سوپھیلی تو ارسلان کو ملک بدر کرنے والے بادشاہ اس سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ارسلان نے اپنا دلی عہدلانے کی شرط رکھی۔ بادشاہ اپنے والی عہد یعنی شہزادے کو لیکر بادشاہ کے دربار میں پہنچا تو اپنے دوست کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ادھر بادشاہ بھی اسے دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ ارسلان کا حسن سلوک دیکھ کر اسے شرمندی ہورہی تھی مگر ارسلان نے کہا کہ بے شک آدمی کی حیثیت واختیار کامالک وخالق وہی ہے جو دن رات کو آپس میں تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں اگر مجھے ملک بدرنہ کرتے تو آج بھی لکڑیاں بچ کرگزارہ کررہاہوتا لیکن اللہ تعالیٰ بہترین کار ساز ہے۔ پیار بچوآپ بھی محنت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اس لئے آپ کو بھی محنت کرنی چاہئے تاکہ آپ بھی کامیاب زندگی بسر کرسکیں

ہاتھی اور بندر میں ہوگئی لڑائی

ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک اس نے سست طریقے سے چلتے ہاتھی کو دیکھا تو اس کو شرارت سوجھی اور جب ہاتھی اس درخت کے نیچے سے گزررہاتھا تو اس نے کیلے کا چھلکا اس کے پاؤں کے قریب پھینک دیا۔ جس سے ہاتھی پھسلتے پھسلتے بچ گیا اور جب اُوپر بندر کو دیکھا تو غصے سے سونڈ لہرائی اور زور سے درخت پر ماری۔ بندر کی جرأت نہ پڑی کہ دوسرے درخت پہ چھلانگ لگاسکے اور دوسری مسئلہ یہ کہ درخت بھی کچھ فاصلے پر تھا اور جب ہاتھی نے اپنے پاؤں سے درخت کو جھٹکا دیا تو شرارتی بندر کوجان کے لالے پڑ گئے اس کو لگ رہا تھا ہاتھی درخت اکھاڑ کر اپنے پاؤں سے تلے مسل دے گا۔ اب اس نے چیخ وپکار شروع کردی کیونکہ ہاتھی کسی طرح وہاں سے جانے کو تیار نہ تھا۔ اس نے اپنے تمام دوستوں کو آوازیں دیں وہ سب اکٹھے ہوگئے وہ خود بھی ہاتھی کے قریب جانے سے ڈر رہے تھے کیونکہ ہاتھی کا غصہ عروج پر تھا۔ درخت کی شاخیں ٹوٹ چکی تھیں۔ بندر خوفزدہ چلاتا اُوپر والی ٹہنی سے چمٹا ہوا تھا اور بچاؤ، بچاؤ کی آواز لگا رہا تھا۔ آج تو جنگل کا بادشاہ شیر بھی دوسرے جنگل کی سیر کیلئے گیا ہوا تھا۔ اب شدید کوئی بھی اس کو ہاتھی کے خطرناک تیورسے بچا نہیں سکتا تھا۔ 
ہاتھی دراصل بندر کو اس کی شرارتوں اور فضول حرکتوں کا آج مزہ سکھانا چاہتا تھا۔ لومڑی کے ذہن میں اچانک اس مسئلے کا حل آیا وہ فوراََ سب جانوروں کے پاس گئی اور بتایا کہ اس صورتحال پرکیسے قابو پایا جا سکتا ہے اور بندر کی جان خلاصی کروائی جاسکتی ہے۔ اگر بھالو جا کر اس سے بات کرے تو وہ ضرور اس کو بات مان جائے گا کیونکہ وہ اچھے دوست ہیں اور امید ہے کہ ہاتھی اس کی بات نہیں ٹالے گا۔ 
سب اس کی بات پر متفق ہوئے اور بھالو سے کہا کہ اس موقع پر بندر کی مدد کرے اور اس کو ہاتھی سے معافی دلوادے۔ بھالوسرہلاتا درخت کی طرف بڑھا جس کی صرف ایک دو شاخیں ہی رہ گئی تھی اور بندر کو اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی۔ بھالو ہاتھی کے قریب آیا اور اس کی منت سماجت کی اور یقین دلایا کہ آئندہ بندر ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔ اب تم غصہ ختم کردو اور اس کو وہاں سے ہٹاکردوسری طرف لے گیا اور بندرسے کہا نیچے اترو اور اپنی شرارت کی معافی مانگو اور وعدہ کرو کہ آج کے بعد کسی کو تنگ نہیں کرو گے۔ وہ ڈرتے ڈرتے پھولی سانس کے ساتھ نیچے اتر اور بھالو کے پیچھے جاچھپا اور ہاتھی سے کپکپاتی آواز سے معافی مانگی توہاتھ دینے فوراََ ہی اسے معاف کردیا

میرا بہترین دوست

ہمارے ٹیچر ، مشتاق نامی لڑکے سے بے حدبیزار تھے۔ مشتاق کاکمال یہ تھا کہ ٹیچر اسے جو بھی مضمون لکھنے کوکہتے وہ کسی نہ کسی طرح اس مضمون میں ” میرا بہترین دوست“ ضرور فٹ کردیتا، کیوں کہ یہ وہ واحد مضمون تھا جو اسے فرفریاد تھا۔ مثلاََ اس سے اگر کہا جاتا کہ ’ ریلوے اسٹیشن“ پر مضمون لکھو تو وہ کچھ اس طرح سے شروع ہوتا: میں اور میرا باپ” چیچوں کی ملیاں“ جانے کے لیے ریلوے اسٹیشن گئے۔ وہاں گاڑی کھڑی تھی اور گاڑی میں میرا بہترین دوست غلام رسول بیٹھا ہوا تھا۔ غلام رسول بہت اچھا لڑکا ہے، غلام رسول․․․․․․“ 
اگر اسے” میرا پسندیدہ استاد‘ ‘ پر مضمون لکھنے کو کہا جاتا تو وہ کچھ یوں شروع ہوتا: ماسٹر افتخار میرے پسندیدہ استاد ہیں۔ ایک روز میں ان کے گھر گیا۔ وہاں میرا بہترین دوست غلام رسول بیٹھا ہوا تھا۔ غلام رسول میراکلاس فیلو ہے۔ اس کے تین بہن بھائی ہیں۔ اس کا باپ محکمہ پولیس میں․․․․․․ اور غلام رسول․․․ وغیرہ وغیرہ۔ 
ظاہر ہے ب کبھی” ایک کرکٹ میچ“ یا” ایک پکنک“ کی باری آتی تو غلام رسول وہاں بھی موجود ہوتا۔ ایک روز ماسٹر صاحب نے تنگ آکر کہا۔ 
دیکھو مشتاق! یہ تو ہوہی نہیں سکتا کہ ہر جگہ تمھارا بہترین دوست غلام رسول موجود ہو۔ آج تم ہوائی جہاز پر مضمون لکھواور یاد رکھنا کہ غلام رسول ہوائی جہاز میں دوسرے روز مشتاق ”ہوائی جہاز کا سفر“ پر جو مضمون لکھ کر لایاوہ کچھ اس طرح کا میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ائیرپورٹ گیا۔ وہاں جہاز کھڑا تھا۔ جہاز کے پر تھے۔ ہم اس میں بیٹھ گئے۔ جہاز میں غلام رسول نہیں تھا۔ پھر جہاز اڑنے لگا۔میں نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو میں نے دیکھا کہ زمین پرمیرا بہترین دوست غلام رسول جارہاہے۔ غلام رسول میرا کلاس فیلو ہے۔ اس کے تین بھائی ہیں۔ اس کاباپ محکمہ پولیس․․․․․․․ اور غلام رسول․․․․․․ غلام رسول․․․․ ماسٹر صاحب نے یہ مضمون پڑھ کر مولا بخش پکڑلیا اور مشتاق غریب کا بُرا حال کردیا

معصوم مجرم

مجھے جنگل میں چھپے آج پانچواں دن تھا۔ پانچ دن سے میں جنگلی پھلوں اور درختوں کے پتے کھا کرزندہ تھا۔ ویسے میری جیب میں نوٹوں کی ایک گڈی بھی تھی ، مگر اس جنگل بیاباں میں وہ رپے میرے لیے ردی کاغذوں کاس ایک ڈھیر کی طرح تھے۔ خودروجھاڑیوں میں چھپے ایک بڑے درخت کے کھوکھلے تنے کو میں نے اپنا ٹھکانا بنالیا تھا۔ سخت زمین پر نرم شاکوں اور پتوں کو بچھا کر بستر سابنالیا تھا، جہاں میں چھپا رہتا۔ جب بھوک لگتی تو باہر نکلتا، ذرا کھٹکاہوتا تو بھاگ کر اپنی پناہ گاہ میں چھپ جاتا۔ 
پانچ دن پہلے رونما ہونے والا وہ خوفناک واقعہ بار بار میری آنکھوں کے سامنے اُبھرتا، جب میرے ہاتھوں ایک انسان کا قتل ہوگیا تھا۔ 
وہ ایک روشن صبح تھی جب جان پہچان کاایک شخص میرے پاس آیا اور درخواست کی کہ میں اس کے ساتھ چلوں۔ اس نے بتایا کہ ایک لفنگا اسے تنگ کرتا ہے اور اس رقم مانگتا ہے۔ میں چوں کہ اچھے قد کاٹھ تھا اور تن سازی بھی کرتا تھا۔ علاقے میں میرادبدبا بھی تھا، اس لیے وہ چاہتا تھا کہ میں اس کے ساتھ جاکر اس لفنگے کو ذرا ڈرا دھمکادوں۔ مجھے چوں کہ اپنی دھاک بٹھانے کاایک موقع مل رہاتھا، اس لیے میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ 
اس نے مجھے ایک پستول بھی دیااور کہا: یہ صرف اسے ڈرانے کے لیے ہے۔ ہم اسی وقت وہاں پہنچ گئے۔ وہ شخص ایک زیرزمین تہ خانے میں بیٹھاتھا۔ میں نے اس سے بات کی تو اس نے ذرا کٹر دکھائی۔ چنانچہ میں نے اسے ڈرانے کے لیے پستول نکال لیا۔ ہم میں ہاتھا پائی ہوئی۔ اسی دوران اچانک گولی چل گئی۔ وہ شخص خون میں لت پت گرپڑا، جو شخص مجھے لے کر آیاتھا، بولا: یہ کیاکردیاتم نے میں نے توصرف ڈرانے کے لیے کہاتھا، تم نے اسے جان سے مارڈالا۔ 
اس نے مجھے سے پستول لے لیا اور کہا: جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ پکڑے گئے تو پھانسی چڑھ جاؤ گے۔ 
میں وہاں سے بھاگنے لگاتواس نے نوٹوں کی ایک گڈی مجھے تھمادی، ساتھ ہی پستول دے کرکہا: اسے کسی ویران جگہ پھینک دینا۔ 
میں وہاں سے نکلا تو سخت گھبرایا ہوا تھا۔ سوچ رہاتھا کہ کہاں جاؤں ۔ گھر گیا تو پولیس پکڑلے گی۔ رشتے داروں کے ہاں سے بھی ڈھونڈنکالے گی۔ پھر میں نے جنگل میں چھپنے کافیصلہ کرلیا۔ پستول کو میں نے جھاڑیوں میں پھینک دیا۔ جنگل میں تھوڑی سی تلاش کے بعد مجھے درختوں اور جھاڑیوں میں چھپی یہ کھوہ مل گئی اور میں یہاں چھپ گیا۔ بھوک لگتی تو جنگلی پھل یاپتے کھالیتا۔ قریب ہی ندی بہ رہی تھی، وہاں پیاس بجھا لیتا۔ 
پانچ دن اور گزرگئے۔ ان دس دنوں میں مجھے کوی انسانی شکل نظر نہ آئی تھی۔ تنہائی کاٹنے کو دوڑتی۔ جرم کا احساس الگ جان کھاتا۔ ہر وقت پکڑنے جانے کا ڈرسا لگارہتا۔ اتفاق سے ابھی کسی بڑے درندے سے میرا سامنا نہیں ہواتھا۔ یہ خدشہ بھی ایک دن سامنے آہی گیا۔ میں اپنی پناہ گاہ میں بیٹھا تھا کہ ایک سیاہ چیز کو ادھر آتے دیکھا۔ یہ ایک بڑا کالا ریچھ تھا، جو میری بوسونگتا ادھیر چلاآرہاتھا۔ میں نے اپنی حفاظت کے لیے کچھ پتھر ریچھ کی تھوتھنی پردے مارا۔ تھوتھنی پر لگی ہوئی چوٹ اور میری خوفناک چیخ سے گھبرا کرریچھ غراتا ہوا واپس بھاگ گیا۔ 
ریچھ تو بھاگ گیا، مگر مجھے ڈرکالگ گیا کہ ریچھ کو میری موجودگی کا پتا چل گیا ہے۔ وہ اپنی چوٹ کا بدلہ لینے ضرورآئے گا۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کوئی اور ٹھکانا ڈھونڈا جائے۔ میں کھوہ سے نکلا اور کوئی دوسرا ٹھکانا ڈھونڈنے لگا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ کچھ آہٹیں سنائی دیں۔ کچھ لوگ ادر آرہے تھے۔ مجھے لگا جیسے وہ میری تلاش میں ہی آرہے ہیں۔ میں بھاگا اور اپنی پناہ گاہ میں آکر چھپ گیا۔ پھر آہٹیں اور آوازیں واضح ہونے لگیں۔ ایک کتے کے بھونکنے کی آواز بھی آئی۔ وہ سدھائے ہوئے کتے کولے کر میری تلاش میں آئے تھے۔ پھرکسی نے کہا: وہ یہیں ہے۔ اس کے قدموں کے نشان ہیں یہاں۔ کھوجی کتا بھی جھنڈے کے پاس آکے بھونکنے لگا۔ 
تم پولیس کے گھیرے میں آچکے ہو، بالکل نکل آؤ۔ ایک آواز آئی۔ 
اب چھپے رہنا بے کار تھا۔ میں نہتا تھا اور ان کے گھیرے میں آچکا تھا۔ میں زینگتا ہوا کھوہ سے باہر نکل آیا۔ 
آؤآؤ۔ پولیس کی وردی پہنے ایک افسر نے نرمی سے کہا۔ کتے کے علاوہ وہ چارآدمی تھے۔ مجھے گھیرے میں لے کر وہ چل پڑے۔ 
میرا اسے جان سے مارنے کاارادہ نہیں تھا۔ گولی اتفاقاََ چل گئی۔ میں نے اپنی صفائی میں کہا۔ 
پولیس انسپکٹر نے میری طرف دیکھااور کہا: کچھ فکرنہ کرو، اصل مجرم گرفتار ہوچکا ہے اور اس نے اقرار جرم کرلیا ہے۔ 
لیکن پستول تو میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے حیرت سے کہا۔ 
ایک پستول مجرم کے پاس بھی تھا۔ جب تمھاری مقتول سے ہاتھا پائی ہوئی تو اس نے پیچھے سے اسے گولی ماردی۔ اس کی مقتول سے دشمنی تھی۔ اس نے سازش کی اور تمھیں ساتھ ملایا تھا، تاکہ اپنا جرم تمھارے سرتھوپ دے۔ 
مگر آپ اس تک کیسے پہنچے؟ میں نے الجھ کرکہا۔ 
مقتول کے موبائل ڈیٹا سے مجرم کامقتول سے موبائل پررابطہ ہواتھا۔ مجرم کا کہنا تھا کہ وہ بیچ بچاؤ کرارہا تھا مگر تمھارے پھینکے ہوئے پستول نے اس کابھانڈا پھوڑدیا، کیوں کہ جب جھاڑیوں سے ہمیں وہ پستول ملاتو اس پردومختلف ہاتھوں کی انگلیوں کے نشان مٹانا بھول گیا۔ جب ہم نے سختی کی تو اس نے بیچ اگل دیا۔ 
شکر ہے خدایا۔ میں نے ایک لمبی سانس لے کرکہا۔ 
اس آزمائش سے تم نے کیاسیکھا؟ انسپکٹر نے پوچھا۔ 
یہ کہ اپنی طاقت پر گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور․․․․․․ اور سوچ سمجھ کر کسی پر اعتبار کرنا چاہیے۔ انسپکٹر نے بات مکمل کردی

پکڑ

موبائل فون کی گھنٹی بجنے پردلاور نے سکرین پرنام دیکھا۔ چند ساعتوں بعد وہ فون کان سے لگا کر بغیر کسی تمہید کے بولا : 
سکندر بتاؤ کیا کام ہوگیا ہے؟ دام بنانے کام جہاں پیسہ لگ جائے پھر ہر کام ہوجاتا ہے آڈٹ ہوگیا ہے سب اچھا ہے۔ سکندری کی بات سن کردلاور نے کہا۔ 
تمہارے جیسا تجربہ کارآدمی میرے ساتھ ہوا اور میرا کام رک جائے ایسا بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔ شام کو آجانا اور اپنا حصہ لے جانا‘ کام ایسا ہوناچاہئے کہ پکڑنہ ہوسکے‘ آج کل سبھی ہمارے محکمے پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ 
پکڑ بھلا کون ہے جو ہمیں پکڑ سکے، سب کو حصہ ملتا ہے‘ میں شام کو نہیں کل آؤں گا‘ اب اجازت چاہتا ہوں۔
ٹھیک ہے کل آجانا۔ یہ کہہ کردلاور نے فون بند کردیا۔ دلاور کے والد ہدایت اللہ ایک طرف بیٹھے بظاہر تو کتاب پڑھ رہے تھے مگر اپنے بیٹے کی سکندر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے مفہوم کو بھی اچھی طرح سمجھ رہے تھے۔ دلاور اب وہاں زیادہ دیا ٹھہرنا نہیں چاہتا تھا وہ کمرے سے نکلنا ہی چاہتا تھا کہ اس کے والد اسے گھوڑا ۔
آپ مجھے اس طرح کیوں گھور رہے ہیں۔ 
تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایسا کیوں کررہا ہوں سکندر کے ساتھ مل کرکیا حرکت کی ہے؟ ہدایت اللہ کا لہجہ تلخ تھا۔ 
اباجی ! میں نے کچھ نہیں کیا․․․․․ “ 
تم نے کچھ تو کیا ہے جبھی تو سکندر کو کہہ رہے تھے کہ شام کو آجانا اور اپنا حصہ لے جانا‘ کام ایسا ہونا چاہئے کہ پکڑ نہ ہو سکے‘ کیا مطلب ہے ان باتوں کا ۔ بولو جواب دو۔ 
میں اس بارے میں کچھ نہیں بتاسکتا‘ آپ اپنے کام سے کام رکھا کریں‘ کھائیں پئیں اور اللہ اللہ کیا کریں میرے معاملات میں آپ کو دخل اندازی کی کوئی ضرورت نہیں۔ 
یہ تم کہہ رہے ہو دلاور حسین تم غلط راستے پر چلو اور میں تمہیں روکوں بھی نہ یہ نہیں ہوسکتا‘ تم پکڑ کے راستے پر چل رہے ہو‘ پکڑے جاؤ گے۔ 
ابا جی! بس کریں، میںآ پ کی روز روز کی نصیحتوں سے تنگ آگیا ہوں۔ دلاور کی آواز اتنی بلند تھی کہ کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا دانیال چونک کررہ گیا تھا۔ 
اس کے کمرے کی طرف بڑھتے قدم رک گئے تھے۔ دانیال کو دیکھ کر دلاور چونکا۔ 
تم یہاں کھڑے کیا کررہے ہو‘ یہ تو تمہارے ٹیوشن جانے کا وقت ہے ٹیوسن کیوں نہیں گئے۔ 
ابھی تک رکشے والے کی خبر لیتا ہوں۔ پھر دلاور نے اپنا غصہ رکشے والے پر اتار دیا۔ دانیال خاموشی سے کھڑا ساری باتیں سن رہا تھا۔ 
تم اور حریم تیار ہو جاؤ رکشے والا تھوڑی دیر میں آجائے گا۔ دانیال کااب وہاں ٹھہرنا ممکن نہ تھا۔ وہ دادا جان سے ملے بغیر حریم کے ساتھ ٹیوشن جانے کے لئے تیار ہوگیا۔ ٹیوشن جاتے ہوئے دانیال نے حریم کو بتایا کہ ابوکس لہجے میں دادا جان سے بات کررہے تھے۔ حریم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ابو ایسا کر سکتے ہیں۔ 
اگست کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی ہدایت اللہ کو چھوٹا بیٹا خاور انہیں لینے آگیا تھا۔ ہدایت اللہ اگست کا پورا مہینہ اپنے آبائی گھر میں گزارتے تھے۔ قیام پاکستان کے وقت وہ اپنے دادا اور والد کے ساتھ جب پاکستان ہجرت کرکے آئے تو انہیں یہ مکان الاٹ ہوا تھا۔ چند سال قبل دلاور نے ایک نئی ہاؤسنگ سوسائٹی میں نیا گھر بنایا تو وہ اس کے اصرار پر وہاں چلے گئے تھے۔ وہ اکثر قیام پاکستان کے واقعات بچوں کو سناتے۔ پرانے محلے کی باتیں سن کر بچے حیرت کااظہار کرتے کہ ایسا بھی ہوتا تھا۔ خاص طور پر خوشی اور غم کے موقع پر محلے دار جس طرح مل کر کام کرتے تھے۔ اس کی مثال اب نہیں ملتی۔ شادی کے موقع پر محلے کے نوجوان مہمانوں کے قیام کا بندبست کرتے۔ رمضان المبارک اورعیدین کے موقعوں پر سب ایک ہوجاتے تھے۔ دانیال اور حریم دلچسپی سے ان کی باتیں سنتے۔ ہدایت اللہ جب دلاور کے ساتھ نئے گھر میں آئے تو انہوں نے کہاتھا کہ وہ اگست کا مہینہ آبائی گھر میں گزاریں گے ۔ دلاور کوبھلا اس پر کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ 
دادا جان نے جب بچوں کو اگست میں آبائی گھر کے قریب ایک میدان میں آزادی میلے کے لگائے جانے کے بارے میں پہلی بار بتایا تو دانیال نے پوچھا تھا۔ 
دادا جان ! وہاں کیا ہوتا ہے۔ 
وہاں بچوں کی دلچسپی کی ہر چیز ہوتی ہے۔ جھولے اونٹ کی سواری‘ کھانے پینے کی اشیاء کے سٹالز رنگ برنگے غبارے آئس کریم کتابوں کے سٹالز اور لہو گرمادینے والے ملی نغمے وہاں بچوں کے درمیان مصوری تقاریراور ملی نغموں کا بھی مقابلہ کروایا جاتا ہے۔ 
دادا جان بولتے جارہے تھے اور بچے دلچسپی سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ 
ہم اس مرتبہ ضرور آزادی میلے میں جائیں گے۔ دانیال اور حریم نے ایک زبا ہوکر کہا۔ 
سکندر نے ایک لفافہ میز پر رکھتے ہوئے دلاور کو مخاطب کیا۔ گن لو۔ س
تم اعتبار والے آدمی ہو رقم پوری ہوگی۔ سکندر سب کچھ ٹھیک ہے نا۔ 
تم فکر کیوں کرتے ہو، یہ کام ہمارے لئے نیا تو نہیں ہے کوئی نہیں ہے جو ہمیں پکڑ سکے، ہر ایک کو برابر حصہ مل رہا ہے۔ سکندر مسکراکر بولا۔ 
اس مرتبہ گاڑی بدلنے کا ارادہ ہے دو سال سے ایک ہی گاڑی چلا رہاہوں۔ دلاور نے رقم اپنے قبضے میں کرتے ہوئے کہا۔ 
چند دنوں بعد ایک نئی گاڑی گھر میں موجود تھی۔ وہ اس گاڑی میں سواربچوں کو لے کر آبائی گھر گیا تو بچوں نے میدان کودیکھ کر شور مچایا۔ 
ابو ․․․․․․ابو․․․․․․ اس میدان میںآ زادی کا میلہ لگتا ہے‘ ہم اس سال آزادی میلے میں آئیں گے۔ 
دانیال پر جوش انداز میں بولا۔ 
آپ بھی دادا جان کے ساتھ اس میلے میں آتے تھے اور مزے دار برفی کھاتے تھے۔ حریم کی بات سن کردلاور نے مسکراکرکہا۔ 
آپ کو سب کچھ پتا ہے۔ یہاں کی برفی پہلے تو بہت مزے دار ہوتی تھے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ یہاں برفی ہوتی بھی ہے یانہیں۔ اس سال میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ اس میلے میں آؤں گا۔ 
اور مزے دار برفی کھاؤں گا۔ دانیال درمیان میں بولا تھا۔ نئی گاڑی دیکھ کر ہدایت اللہ کو خوشی نہیں ہوئی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کی کتنی تنخواہ ہے۔ وہ اتنی مہنگی گاڑی خرید ہی نہیں سکتا۔ 
مت کرو ایسا ‘ ڈرواللہ تعالیٰ کی پکڑسے“ ہدایت اللہ نے دلاور کوایک طرف لے جاکر اتنا کہا تو وہ ہمیشہ کی طرح تلخ لہجے میں بولا۔ 
میری ترقی آپ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ مجھے کوئی نہیں پکڑسکتا‘ ہر کوئی ایسے ہی پیسے کمارہا ہے‘ میں اب دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔ 
اور میں تمہارے گھر واپس نہیں جاؤں گا۔ ہدایت اللہ نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔ 
محکمہ موسمیات نے موسم گرما کے آغاز ہی میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی تھی۔ مون سون کی بارشوں کے بارے میں بھی قبل ازوقت شروع ہونے کے بارے میں بتایا گیاتھا۔ جون کے آخری ہفتے سے بارشوں کا آغاز ہوا جو وقفے وقفے سے جاری رہیں۔ جب بھی بارش ہوتی دلاور اپنے دوست سکندر کو لے کر پرانی بستی میں چلاجاتا۔ وہ پانی دیکھتا اور گھبرا جاتا۔ نکاس آپ کے لئے نئے سیوریج اور نالے کی صفائی کے لئے جو رقم انہیں ملی تھی وہ ان کی جیب میں چلی گئی تھی۔ دلاور کے حالت دیکھ کر سکندر مسکرا کر کہتا۔ 
آگھبرا تویوں رہے ہوجیسے پہلی بار یہ کام کیا ہو حوصلہ رکھو کچھ نہیں ہوگا‘ چند دنوں کی بات ہے بارشوں کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا۔ 
پکڑ کاخوف ہر وقت دلاور کا تعاقب کرتا۔ وہ جہاں بھی جاتا اسے دھڑکالگارہتا کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں۔ دانیال اور حریم کی طرح بستی کے بچوں کو آزادی میلے کا شدت سے انتظار تھا۔ اس سال ملکی حالات امن وامان کے حوالے سے بہتر تھے۔ اس لئے قومی امکان تھا کہ اگست میں یہاں آزادی کا میلہ ضرور لگے گا بستی کے کئی مکین دوسرے علاقوں اور شہروں میں منتقل ہوگئے تھے۔ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اس آزادی میلے میں شرکت کرنے کے لئے خصوصی طور پر آرہے تھے۔ 
10اگست کو دوپہر کے وقت سیاہ بادل آسمان پر چھا گئے۔ شام تک ہلکی ہلکی بونداباندی ہوئی پھر رات کو طوفانی بارش کاآغاز ہوا۔ چوبیس گھنٹے جاری رہنے والی اس بارش نے نشیبی علاقوں میں تباہی مچادی۔ پرانی بستی میں نالوں کی صفائی نہ ہونے اور پرانے سیوریج کے باعث پانی گلیوں گھروں اور اس میدان میں کھڑا ہوگیا جہاں آزادی کا میلہ لگتا تھا۔ میدان میں چارفٹ تک پانی جمع تھا۔ علاقے میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کردیا گیا۔ علاقہ مکین محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے تھے۔ دلاور کو لگ رہا تھا کہ وہ پکڑا جائے گا۔ اسے اپنے والد کی باتیں یادآرہی تھیں۔ میڈیا میں بارش سے ہونے والی تباہی کا خوف چرچارہا۔ تجزئیے کئے گئے۔ لوگوں کی مالی امداد کی گئی۔ پھر بارش رکتے ہی سب خاموش ہوگئے۔ پکڑ کا عمل شروع نہ ہوسکا۔ دلاور کا خوف بھی کسی قدرجاتا رہاتھا۔ میدان سے اگرچہ پانی نکال دیا گیا تھا مگر وہ اس قابل نہیں تھا کہ وہاں آزادی کا میلہ لگایاجاتا۔ 
14اگست کو دلاور اپنی نئی گاڑی میں بچوں کولے کر سفاری پارک گیا۔ بچوں کو وہاں بالکل بھی مزا نہیں آیا تھا۔ وہ راستے بھر دادا جان ‘ دادا جان کاشور مچاتے رہے۔ آزادی میلے کے میدان کو یکھناچاہتے تھے۔ بچوں کی پردلاور نے گاڑی کا رخ پرانی بستی کی طرف کردیا۔ اب بھی بارش سے ہونے والی تباہی وہاں دیکھی جاسکتی تھی۔ جب وہ میدان کی طرف بڑھے تووہاں بہت سے بچے آزادی کا میلہ نہ لگنے کے باعث اداس کھڑے تھے۔ ان ادابچوں میں اب دانیال اور حریم بھی شا مل تھے۔ دلاور میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان بچوں سے آنکھ ملاسکتا۔ اسے یوں لگ رہاتھا جیسے یہ بچے ابھی اس کاگربیان پکڑ لیں گے۔ اس سال میدان میں آزادی کا میلہ اس کے باعث نہیں لگ سکا تھا۔ کیچڑسے اٹا ہوا میدان بھی اداس تھا اسے بچوں کے دلوں سے اٹھنے والی بدعائیں سنائی دینے لگی تھیں۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر تھا جب وہ اپنے والد کی انگلی پکڑ کرآزادی میلے میں آتا تھا اور مزے دار برفی کھاتا تھا۔ انگلی کی پکڑ سے لے کر اپنی پکڑ کے خوف تک ایک ایک بات اسے یاد آنے لگی۔گاڑی کی آرام دہ سیٹ کانٹوں سے بھر گئی اور اے سی کی ٹھنڈی ہوا گرم جھلسا دینے والی ہوا میں بدل گئی۔ وہ اب اس منظر کا حصہ نہیں رہاتھا۔ آبائی گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد وہ اس گھر کے سامنے کھڑا تھا جہاں نہ آنے کے بارے میں کہہ کر گیا تھا۔ دستک دینے پر ہدایت اللہ نے درواہ کھولا تو دلاور نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر ان کے ہاتھ چوم لئے۔ 
میں آپ کی انگلی پکڑ نے آیا ہوں۔ شاید اس طرح میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور بچوں کی بددعاؤں کی پکڑ سے بچ جاؤں مجھے اپنی انگلی پکڑنے کی اجازت دے دیں‘ میں اب ویسا ہی کروں گا جیسے آپ چاہتے ہیں۔ دلاور اپنے بچوں کے سامنے بچوں کے طرح رونے لگا۔ 
پھر ہدایت اللہ اپنے بیٹے کی انگلی پکڑ کر پولیس اسٹیشن کی طرف چل پڑاتا کہ اس کابیٹا اپنے جرم کی سزا کاٹ کر وطن کابیٹا بن جائے ۔ اگلے دن دلاور کو پولیس وین میں جیل لے جایا جانے لگا تو یہ وہی راستہ تھا جہاں وہ میدان واقع تھا جہاں آزادی کا میلہ لگتا تھا۔ میدان کیچڑ کے باعث بدصورت دکھائی دے رہا تھا۔ دلاور کو یقین تھا کہ جب وہ اپنی سزا کاٹ کر باہر آئے گا تو یہاں آزادی کا میلہ لگا ہوگا۔ جس میں وہ اپنے باپ کی انگلی پکڑ کراور اس کے بچے اس کی انگلی پکڑ کر خوشیوں بھرے آزادی کے میلے میں آئیں گے۔ خوشیاں منائیں گے اور مزے مزے کی برفی کھائیں گے

تین بہرے اور ایک گونگا

کسی گاؤں میں ایک غریب چرواہارہتا تھا وہ روزانہ چندبکریوں کو لے کر قریب پہاڑی پر چلا جاتا جہاں بکریاں چرتی رہتی تھیں۔ چرواہا بہرا تھا مگر اس سے اس کے کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی بیوی اسے کھانادینا بھول گئی اور پھر بچے کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا ہے۔ چرواہے نے سوچا میں گھر جا کر کھانا لے آؤں دن بھر بھوکے رہنا میرے لیے دشوار ہوگا۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک گھسیارا ( گھاس کاٹنے والا) پہاڑ کے کنارے گھاس کاٹ رہا ہے۔ چرواہا اس کے پاس گیا اور کہا بھائی تم ذرا میری بکریوں کا خیال رکھنا میں گاؤں جاکر کھانا لے آؤں۔ میری بیوی آج کھانا دینا بھول گئی ہے اتفاق سے گھسیارا ببی بہراتھاو ہ ایک لفظ بھی نہ سن سکا بلکہ اور الٹا غلط سمجھا۔ وہ بولا میں تم کو اپنی گھاس کیوں دوں ، یہ تو میں اپنے جانوروں کے لیے کاٹ رہاہوں میرے پاس ایک گائے اور دو بھیڑیں ہیں جن کے لیے مجھے دور دور سے گھاس لانا پڑتی ہے۔ نہیں نہیں میرا پیچھا چھوڑو، میں تمہاری طرح کے لوگوں سے دور ہی رہنا چاہتا ہوں، جو دوسروں کی چیزیں ہتھیالیتے ہیں۔ اتنا کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ ہلایا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔ چرواہا اس کی بات نہ سن سکا وہ بولا شکریہ میرے دوست تم نے راضی ہوکر مجھ پر بڑا احسان کیا میں بہت جلد آجاؤں گا یہ کہہ کر وہ تیزی سے گاؤں کی طرف چل دیا۔ 
اپنی جھونپڑی میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بیوی بخار میں مبتلا ہے اور پڑوس کی ایک عورت اس کی دیکھ بھال کررہی ہے چرواہے نے کھانا کھایااور پھر سیدھا پہاڑی کی طرف روازنہ ہوگیا اس نے اپنی بکریوں کو گنا سب بکریاں موجود تھیں گھسیارا اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔ چرواہے نے اپنے دل میں کہا یہ گھسیارا کتنا ایمان دار ہے میری بکریوں کی نگرانی کرتا رہا مگر شکریہ کا بھی خواہش مند نہیں ہے لنگڑی بکری اسے دے دینی چاہیے، یوں بھی مجھے اس کو ذبح تو کرنا ہی پڑے گا۔ 
یہ سوچ کر اس نے لنگڑی بکری کو اپنے کندے پر اٹھایا اور کھسیارے کے پاس پہنچ کر بولا بھائی میری بکریوں کی نگرانی کرنے کے صلہ میں یہ تحفہ قبول کرو اس بکری کو ذبح کرکے اس کاگوشت استعمال کرلینا۔ مگر گھسیارا ایک لفظ بھی نہ سن سکا وہ غصے سے چلایا کرکہا، چرواہے مجھے نہیں معلوم کہ تمہاری غیر حاضری میں کیا ہوا تمہاری بکری کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو میں اس کا ذمہ دار نہیں میں تو گھاس کاٹ رہاتھا چلے جاؤ ورنہ نہ ماردوں گا۔ چرواہا سمجھ نہیں سکا کہ گھسیارا ناراض کیوں ہورہا ہے اس نے ایک آدمی کو آواز دی جو گھوڑے پر سوار تھا۔ اور کہنے لگا جناب عالمی مہربانی کرکے مجھے یہ بتائیے کہ یہ گھسیارا کیا کہہ رہا ہے۔ میں بہرا ہوں میری سمجھ نہیں آتا کہ یہ میرا تحفہ قبول کیوں نہیں کررہا اس کے بعد چرواھا اور گھسیارا دونوں چلا چلا کر اس مسافر سے باتیں کرنے لگے وہ سوار گھوڑے سے اترکراُن کے قریب آگیا۔ 
یہ سوار گھوڑے چرایا کرتا تھا اور یہ بھی بہراتھا لہٰذا وہ بھی نہیں سمجھ سکا کہ یہ دونوں کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ ان دونوں سے اس جگہ کا نام پوچھنا چاہتا تھا لیکن جب اس نے ان دونوں کو ناراض ہوکر چلاتے دیکھا تو گھبرا کربولا ہاں بھائی میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ گھوڑا میں نے چرایا ہے مگر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ تمہارا ہے، مجھے معاف کردو۔ 
اتنے میں گھسیارا چلایا، بکری کے لنگڑے ہونے میں میرا کوئی قصور نہیں۔چرواہا چلایا اس سے پوچھو کہ یہ میری تحفہ قبول کیوں نہیں کرتا، میں تو شکریہ کے طور پر اس کو یہ دے رہا ہوں۔ اس پر جور بولا۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ یہ گھوڑا میں نے چرایا ہے مگر میں بہرا ہوں اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ تم دونوں میں سے یہ گھوڑا کس کا ہے۔ 
اسی اثناء میں ایک بوڑھا وہاں آگیا۔ گھسیارا دوڑ کر اس کے پاس پہنچا اور بولا محترم بزرگ میں بہرا ہوں اس لیے میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ دونوں کیا کہہ رہے ہیں۔ مہربانی کرکے آپ بتائیے کہ یہ کیوں چلارہے ہیں۔ 
دل چسپ بات یہ ہوئی کہ بوڑھا گونگا تھا لہٰذا وہ انہیں کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا ، بہرحال وہ ان سب کے قریب آیااور ان تینوں کے چہرے غور سے دیکھنے لگا اس وقت تک تینوں بہرے خاموش ہوچکے تھے بوڑھا اتنی دیر تک ان کے چہروں کو گھورتا رہا کہ وہ گھبراگئے اس کی چمکدار سیاہ آنکھیں تھیں۔ وہ دراصل گھور کر اصل حقیقت کا پتا چلانا چاہتا تھا۔ لیکن یہ تینوں ڈرنے لگے کہ یہ بوڑھا ان پر کہیں جادو نہ کردے، چنانچہ چور فوراََ گھوڑے پر سوار ہوکر تیزی سے بھاگ گیا چرواہا نے جلدی جلدی اپنی بکریوں کو جمع کیا اور انہیں بھگا کر ااپنے گھر کی طرف تیزی سے روانہ ہوگیا۔ گھسیارے نے اپنی نظریں نیچی کرلیں اورگھاس کا گھٹرا اپنے کندھے پر اٹھا کر تیزی سے اپنے گھر کی طرف چلا دیا․․․․․․․․ بوڑھا انہیں جاتے دیکھتا رہا، چند منٹ بعد وہ بھی چلا گی

جاسوس مسافر

چولہا جل رہا تھا اوپر بڑی دیگچی چڑھی ہوئی تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ حنا نے دروازہ کھولا سامنے اس کی ہمسائی نادیہ کھڑی تھی۔ نادیہ نے اندر آکر حناسے کہا۔ آج کل ہمارے ملکی حالات بڑے خراب ہوگئے ہیں۔ حنا چونک کربولی کیا مطلب ؟ نادیہ: تجھے پتہ نہیں کشمیر میں جوجنگ شروع ہوچکی ہے ہندو بھارتیوں نے کشمیریوں کا بلاجوازبے دریغ قتل کرنا شروع کررکھا ہے، یہ سب سوچ کر بڑا دکھ ہوتا ہے ہم اپنے ملک کیلئے کچھ نہیں کرسکتے ۔ ہم ہیں ہی پرائمری تک پڑھی اور دوسری بات، ہم وہاں سے بہت دور ہیں جہاں ہمارے مجاہدین کافروں کا مقابلہ کررہے ہیں۔ حنا: ہاں ! مجھے بھی بہت افسوس ہوتا ہے ہم کچھ نہیں کر سکتیں۔ یہ سن کرچلی گئی۔ حنا اپنی ماں کے ساتھ گھر کا کام کرنے لگی ۔ اتنے میں اس کے ابوکرم دین بھی آگئے۔ سب نے رات کاکھاناکھایا اور سوگئے۔ صبح حسب معمول حنا اور کرم دین لکڑیاں لینے جنگل کی طرف چلے گئے، کرم دین ایک درخت پرچڑھا اور لکڑیاں کاٹنے لگا جبکہ حنا گھر میں جلانے کیلئے لکڑیاں اکٹھی کرنے لگی، لکڑیاں چنتے جب کافی ساری لکڑیاں جمع ہوگئیں تو حنا خشک پتوں پر درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی سوچ رہی تھی کہ کاش وہ مزید پڑھ لکھ سکتی، اپنے ملک کانام روشن کر سکتی۔ 
اتنے میں کرم دین لکڑیاں چھکڑے پر لاد کر منڈی بیچنے چلاگیا، حناوہیں بیٹھی رہی۔ اچانک اسے پتوں کی سرسراہٹ کی آواز اپنے عقب سے آئی اس نے غور نہ کیا لیکن تھوڑی دیر بعد اسے اپنے پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔ میں مسافر ہوں میرے پیچھے ڈاکو لگے ہیں میری مددکرو۔ 
حنا نے پیچھے مڑکردیکھا تو ایک صحتمند نوجوان کھڑا تھا۔ حنا نے سوچا مسافر ہے چلومدد کردیتے ہیں۔ اسے کہا میرے پیچھے آؤ اور وہ شخص اس کے پیچھے چل دیاحنا اس کوگھرلے گئی کرم دین گھر آچکا تھا ، حنا نے کرم دین کو صورتحال سے آگاہ کردیااور اس شخص کو اپنے کچے مکان کا پچھلا کمرہ دے دیا۔ کرم دین نے اس کا نام پوچھا تو اس نے سلطان احمد بتایا اور کہنے لگا دراصل میں لاہور سے آیاہوں میں بس سے اتر کر ایک سڑک سے گزررہاتھا توڈاکوؤں نے مجھے لوٹ لیا اور میرے پیسے وغیرہ بھی لے لئے اب وہ مجھے مارنا چاہتے تھے ۔ اب اگر کوئی شخص ادھر آیا تو مہربانی کرکے اسے میرا مت بتانا وہ ڈاکوؤں کاس مخبر بھی ہوسکتا ہے۔ حنا نے اپنی ماں سے کہا کہ راشن کا سامان ختم ہوگیا ہے ابا کو گھر چھوڑتے ہیں ابھی زیادہ رات نہیں ہوئی اور خود سودالے آتے ہیں کیونکہ اباہی اس آدمی کے پاس رک سکتے ہیں؟ چنانچہ دونوں ماں بیٹی گاؤں کے چھوٹے سے بازار میں آگئیں سودا خریدا، حنا کونجانے کیا سوجھی اس نے اماں سے کہا کہ ان کے علاقے قریب فوجیوں کی چوکی ہے ادھر چل کر پولیس کو اطلاع دیتے ہیں کہ ڈاکو ایک آدمی کے پیچھے لگے ہوئے تھے کہیں وہ گاؤں میں آکر لوٹ مارنا شروع کردیں سودونوں وہاں پہنچ گئیں۔ بلقیس نے ایک فوجی کو قریب بلایااور اسے بتایا کہ ان کے گاؤں میں ڈاکوآسکتے ہیں اور حنا نے سلطان کے بارے میں سب کچھ بتادیا۔ خیرہ دونوں واپس آئیں اور سودارسوئی میں رکھا۔ تب کرم دین نے حنا سے راز دارانہ انداز میں کہا۔ مجھے یہ سلطان کوئی ڈاکولگتا ہے۔ میں جب چائے دینے کیلئے اس کے کمرے میں گیا توچارپائی پر بیٹھا ہوا تھا۔ دروازے کی طرف اس کی کمر تھی اس کے ہاتھ میں بہت بڑا چاقو تھا۔ 
حنا بھی کچھ پریشان ہوگئی۔ اگلی صبح حنا کو اپنے گھر کے باہر کسی کے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔ دروازے پر دستک ہوئی حنانے دروازے کھولا تین چار فوجی اندرداخل ہوئے ان میں سے ایک نے پوچھا کہ جو مسافر ان کے گھر آیاوہ کدھر ہے حنا نے بتایا کہ پچھلے کمرے میں ہے۔ سب وہاں پہنچ گئے فوجی نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلطان کے ماتھے پر گن رکھتے ہوئے کہا۔ تم زیرحراست ہوافرار ہونے کی کوشش مت کرنا اورساتھ ہی سلطان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگادیں۔ فوجی کرم دین کو بھی ساتھ لے گئے۔ حنا اور بلقیس بہت پریشان ہوئیں۔ خیررات کے وقت کرم دین واپس آگیا۔ اس کے ہاتھ میں مٹھائی کاڈبہ تھا اور کرم دین نے بڑی شفقت سے حنا کے سر پرہاتھ پھیر اور بولا” پترتیرا جذبہ نیک تھا، تو اللہ نے تجھ سے دوکام کرایاہے۔ پتر! وہ بندہ جو مسافر بن کرہمارے گھر ٹھہرا تھا۔ حقیقت میں پاکستان کا بہت بڑادشمن تھا، وہ ہندو اور بھارتی جاسوس تھا جس کی تلاش میں ہماری انٹیلیجنس اور فورس کب سے بھٹک رہی تھی۔ آخرتم نے وہ جاسوس وہ غداران کے ہتھے چڑھا ہی دیا۔ یہ سن کر حنا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اللہ کا شکرادا کرنے لگی

ممانی کا حج

یہ ایک گورنمنٹ اسکول تھا، جس میں جماعت اول سے پنجم تک تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ اسکول کل سات کمروں اور ایک چھوٹے سے میدان پر مشتمل تھا ۔ پانچ کمرے بطورجماعت اور ایک ہیڈماسٹر کا کمرا تھاجہاں تمام اساتذہ کرام بیٹھا کرتے تھے۔ ساتواں کمراممانی کا تھا۔ ان کااصلی نام تونہ جانے کیاتھا، مگر ہم بچے انھیں ممانی کہا کرتے تھے۔ ممانی کادنیا میں کوئی نہیں تھا۔ یہ اسکول کبھی ممانی کی ملکیت تھا۔ انھوں نے یہ اسکول حکومت پاکستان کو وقف کردیا تھا۔ ممانی جس کمرے میں رہتی تھیں، وہیں انھوں نے ایک کینٹین کھولی ہوئی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی صاف ستھری چیزیں مثلاََ سموسے، سینڈوچ، نمک پارے فروخت کیاکرتی تھیں۔ بس اسی میں ان کی گزربسر ہوجاتی تھی۔ ان دنوں میں جماعت چہارم میں تھا۔ 
وہ بچوں سے بہت پیار کرتی تھیں۔ مگر جب بچے انھیں تنگ کرتے تھے وہ غصہ بھی دکھایا کرتی تھیں ، لیکن ان کے غصے میں بھی شفقت ہوتی تھی۔ میں ممانی کے ہاتھ کے بنے ہوئے سموسے بہت شوق سے کھایا کرتا تھا۔ وہ ہمیں بھی پاکستان سے محبت کا درس دیا کرتی تھیں۔ ہمیں لڑائی جھگڑے سے روکا کرتی تھیں وہ تو ہمیں پودوں اور جانوروں سے بھی محبت کا درس دیا کرتی تھیں۔ کہتی تھی کہ پودے بھی جان دار ہوتے ہیں، انھیں نہ توڑا کرو۔ جانوربے زبان ہوتے ہیں، انھیں تنگ نہ کیا کرو۔ ممانی بھی ایک طرح سے ہماری استاد ہی تھیں۔ ان کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ حج کرلیں۔ انھوں نے گھی کے ایک خالی ڈبے میں پیسے بھی جمع کررکھے تھے۔ میں نے رپوں سے بھراوہ ڈبا دیکھا تھا۔ 
پھر ایک دن ہم اسکول آئے تو پتا چلا کہ ممانی حج کرنے جارہی ہیں اور سارا بندوبست بھی ہوچکا ہے۔ ہمارے اساتذہ بھی ممانی کی عزت کرتے تھے۔ وہ بھی بہت خوش تھے کہ ممانی کی دلی خواہش پوری ہورہی ہے۔ ہم سب نے ممانی کو بہت مبارک باد دی۔ مجھے آج بھی وہ دن بہت اچھی طرح یاد ہے۔ ممانی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور وہ ہم سب کو بہت پیار کررہی تھیں۔ 
ہم بچوں کے ششماہی امتحان ختم ہوچکے تھے اور سردیوں اور عید کی چھٹیاں ملا کر پندرہ دن کی چھٹیاں شروع ہونے والے تھیں، نتیجہ بھی آچکا تھا۔ میں پاس ہوگیا تھا اور بہت خوش تھا۔ وہ ہمارا اسکول میں آخری دن تھا اور اسی دن ممانی کو بھی حج کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ہم سب چھٹی ہوتے ہی ممانی کے پاس گئے۔ انھیں پھر سے مبارک باددی اور اپنے اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ ممانی بھی ایک ماہ کے لیے جارہی تھیں۔ 
چھٹیاں کتنی بھی مل جائیں کم ہی لگتی ہیں۔ پندرہ دن جلد ہی ختم ہوگئے۔ عید کے بعد جب میں اسکول گیا تو ممانی کو اسکول ہی میں پایا۔ میں حیران رہ گیا کہ ممانی کو تو ایک مہینے کے بعد آنا تھا ، وہ اتنی جلد کیسے آگئیں میں نے ممانی کو سلام کی اور حج کی مبارک باددی۔ 
انھوں نے مسکرا کرمیرے سلام کا جواب دیا۔ پھر میں اپنی جماعت میں آگیا۔ اس دن آدھی چھٹی میں جب میں ممانی کے پاس سموسے لینے گیا تو پتا چلا کہ ممانی تو حج کے لیے جاہی نہیں سکیں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ممانی حج پر جاتے جاتے آخر رک کیوں گئیں۔ شاید ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہو، میں نے سوچا ، لیکن میں نے ممانی سے پوچھا نہیں کہ وہ حج پر کیوں نہیں گئیں۔ 
دودن بعد جب ہم جماعت میں نیکی کے موضوع پر مضمون لکھ رہے تھے تو ہمارے استادنے ممانی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ حج پر کیوں نہ جاسکیں۔ 
دراصل ہمارے اسکول کے چوکیدار کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی۔ چوکیدار کے گھر چوری ہوگئی۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے جو پیسے جمع کیے تھے وہ نہ رہے تو چوکیدار بہت پریشان رہنے لگا تھا۔ پریشانی کی وجہ سے اسے دل کا دورہ بھی پڑگیا تھا۔ پھر کیا تھا ممانی نے اپنا نوٹوں سے بھرا ہوا ڈبا چوکیدار کو دے دیاتھا، تاکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کرسکے۔ یہ سن کر ہم سب کا منھ کھلاکا کھلارہ گیا، کیوں کہ سب ہی جانتے تھے کہ حج کرنا ممانی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ 
مجھے یاد ہے، ممانی ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تلقین کرتی تھیں۔ چوکیدار کی مدد کرکے انھوں نے عملی طور پر ثابت کردیاتھا کہ نیکی کیاہوتی ہے۔ ممانی کاکہنا تھا کہ زندگی رہی تو وہ حج بعد میں بھی کرسکتی ہیں۔ اللہ تو حج کرنے کا موقع ہر سال دیتا ہے۔ میں ایک سال بعد اسکول سے پانچویں جماعت پاس کرکے سیکنڈری اسکول میںآ گیا۔ بعد میں ایک دوست سے پتا چلا کہ ہیڈماسٹر نے اپنی کوششوں سے اتنے پیسوں کا بندوبست کردیا، جس سے ممانی حج کر لیا تھا۔ ہم کبھی کبھی ممانی سے ملنے ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ آج ممانی دنیا میں نہیں رہیں ، لیکن ان کی نیکی کی تعلیم آج بھی ہمارے دلوں میں ہے

علم کی لگن

اسکول بس کے تیز ہارن کی آواز سنی بلال نے چونک کر پیچھے دیکھا۔ وہ ننگے پاؤں میلے کپڑے پہنے، آس پاس بکھری ہوئی گندگی میں کھڑا، کچرے کا تھیلا اپنے کندھے پر ڈالے ہوئے صرف یہ سوچ رہا تھا کہ میں بھی ان بچوں کی طرح صاف ستھرایونی فارم پہن کر اسکول جاتا۔ اس کے باپ نے کچراچن کر ہی سہی، مگر اپنے اور اپنی اولاد کو حرام کی کمائی کبھی نہ کھلائی۔ باپ کے لیے دو وقت کی روٹی کھلانا ہی مشکل تھا۔ تعلیم کے اخراجات پورے کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ 
سب بچے اپنااپنا بیگ سنبھالتے ہوئے اسکول کے اندر داخل ہوئے۔ کام سے فارغ ہوکر بلال نے باپ سے پوچھا: بابا! کیا میں کبھی نہیں پڑھ سکوں گا؟ 
روزانہ ایک ہی سوال ، تیرادل نہیں بھرتا؟ جب توجانتا ہے کہ میں تیری یہ خواہش نہیں پوری کرسکتا توکیوں مجھے تنگ کرتا ہے۔ بیٹا ! اب روٹی کھالے اورسوجا جتنی جلدی صبح اٹھے گا اتنا اچھا کچرا ملے گا۔ 
کچرا توکچرا ہوتا ہے بابا! اچھابرا کچرا کیاہوتا ہے!آخر وہ سوچتے سوگیا ۔ اگلے روز کچرے کے ڈھیر کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کے باپ کو عربی زبان میں لکھاہوا ایک کاغذ ملاتو اس نے اسے چوم کر آنکھوں سے لگالیا۔ اب اسے رکھتا کہاں! ہاتھ میں جوتھیلا تھا، وہ گندی چیزوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے قریبی ایک بڑی جامع مسجد کارخ کیا۔ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ دوسرے تمام علوم کی تعلیم مفت دی جاتی تھی۔ دروازے کے اندقدم رکھتے ہوئے اس کادل ہچکچایا۔ سامنے لکھا تھا: صفائی نصف ایمان ہے۔ اسے مسجد کے احاطے کے اندر صاف ستھرے لباس پہنے، سلیقے سے ٹوپی لگائے ہوئے ایک بچہ نظر آیا۔ اس نے بچے کو اشارے سے بلایا: بیٹا! یہ اس ڈبے میں ڈال دو۔ قریب آنے پر اسے اپنا بیٹا یاد آگیا۔ 
تم یہاں کیا کررہے ہو؟ اس نے یونہی پوچھ لیا۔ 
بچے نے بڑی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ میں یہاں پڑھتاہوں۔ 
یہاں کیا پڑھتے ہو؟ 
قرآن وحدیث اور دوسری علمی کتابیں۔ 
اتنے میں مسجد کے امام صاحب آگئے تو اس نے پوچھا: امام صاحب یہاں پر بچوں کی تعلیم پر کتنا خرچا آتا ہے۔ 
کچھ بھی نہیں، ہم یہ کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضاکے لیے کرتے ہیں، مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ 
میرے بیٹے کوپڑھنے لکھنے کا بہت شوق ہے․․․․․ مگر کہا کروں کچرے کے ڈھیر سے پیٹ کی آگ تو بجھ جاتی ہے، مگر علم حاصل کرنے کے لیے تو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ کہاں سے لاؤں․․․․․ “ 
تم اس کوکل ہمارے پاس لے آنا۔ 
مگر․․․․․․“ 
مگر کیا؟ 
جناب ! اس کے پاس صاف ستھرے کپڑے اور جوتے نہیں ہیں۔ 
مولوی صاحب نے اس کے بیٹے کی عمر معلوم کی اور پھر ایک شاگرد کواشارے سے بلایا۔ اس کے کان میں کچھ کہا۔ شیرخان نے مایوس ہوکرواپسی کاارادہ کیااور کچرے کا تھیلا کندھے ڈال کر ابھی چندقدم آگے بڑھا ہی تھا کہ مولوی صاحب کی آواز آئی: یہ لوکپڑے اور جوتے ، کل اسے نہلا دھلا کر ہمارے پاس لے آنا۔ کل سے تمھارا بیٹا ہمارا شاگرد ہے۔ 
شیرخان نے گھر پہنچ کر دیکھا کہ آج بلال چپ چاپ کمرے کے ایک کونے میں لیٹا ہوا ہے۔ نہ کوئی فرمائش اور نہ کچرے کے تھیلے میں سے کچھ ڈھونڈنے کی لگن۔ شیرخان نے وہیں زمین پر بیٹھتے ہوئے اس کے سر کواپنی گود میں رکھ لیا اور بے ساختہ اور اس کے ماتھے کوچومنے لگا۔ 
وہ باپ کی گود میں چھپ گیا: بابا ! مجھے پڑھنا ہے، اچھا انسان بننا ہے۔ 
ضروربیٹا ضرور۔ 
غیر متوقع جواب سن کر بلال اٹھ کر بیٹھ گیا۔ 
ہاں بیٹا! یہ کہہ کر شیرخام نے اسے نئے کپڑے اور جوتے دیے اورکہا: کل سویرے ہی ہم چلیں گے۔اب تجھے رونے اورکچرااُٹھانے کی ضرورت نہیں۔ 
بلال کی آنکھوں میں چمکتی خوشی دیکھ کر شیر خان کا چہرے بھی خوشی سے کھل اٹھا

تین منٹ

وہ محلے کا سب سے پرانا مکان تھا۔ ٹوٹی پھوٹی دیواریں، جگہ جگہ سے چٹخی اینٹیں ، اُدھرتا پلستر، اکھڑتی چھتیں ، جیسے ابھی گرجائیں گی۔ اندر ہروقت اندھیر اچھایا رہتا۔ پرانے طرز کے اس مکان میں ایک کنواں بھی تھا۔ ٹوٹے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوں تو ایک جھولا لٹکا نظر آتا۔ محلے کے بچے جھولے کے لالچ میں وہاں پہنچ جاتے۔ اگر کوئی بچہ جھولا زور سے جھلاتا توجھولا کنویں کے اوپر پہنچ جاتا اور جھولے پہ بیٹھ بچہ خوف سے چلانے لگتا۔ 
میں ایک دن جھولے پر بیٹھا تھا کہ کسی نے پیچھے سے جھولے کو زور سے دھکادے دیا۔ میرے منھ سے چیخ نکلی ۔ جھولے کی رسی ہاتھوں سے چھوٹ گئی اور اس میں قلابازیاں کھاتا ہوا کنویں میں جاگرا۔ جیسے ہی میرے پاؤں کنویں کی تہ میں لگے، مجھے وہاں ایک دروازہ نظرآیا۔ کسی نے مجھے اس دروازے سے اندر کھینچ لیا اور پھر وہ دروازہ غائب ہوگیا۔ 
میں نے خود کوایک نئی اور انوکھی دنیا میں کھڑے پایا، جہاں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ رنگ رنگ کے پھول کھلے تھے۔ فضاؤں میں بادل تیررہے تھے، جو مجھے چھوتے ہوئے گزررہے تھے اور اپنی نمی سے مجھے شرابور کررہے تھے۔ دورسرمئی پہاڑوں کے دامن میں مجھے ایک سفید محل نظرآیا۔ میں اس طرف چل پڑا۔ پہاڑوں کے دامن میں سبزے میں گھرامحل سفید چمکتے موتی کی طرح نظرآرہاتھا۔ میں جیسے ہی محل کے قریب پہنچا محل کا دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا۔ میں ڈرتے ڈرتے اندرداخل ہوگیا۔ محل اندر سے بھی انتہائی خوبصورت تھا۔ ہرطرف پھول کھلے ہوئے تھے۔ پھولوں سے لدے درخت، ٹھنڈے پانی کی پھواریں اُڑاتے فوارے، سرسبز باغیچے میں چوکڑیاں بھرتے ہرن تھے تو کہیں مورنا چتے نظرآرہے تھے۔ میں حیرت کے سمندر میں ڈوبا یہ سب دیکھ رہاتھا کہ اچانک میری نظر اوپر بالکونی پر پڑی۔ بالکونی میں بہت سے بچے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ بھاگتے ہوئے نیچے آگئے۔ 
تم کون ہو، یہاں کیسے آئے؟ انھوں نے پوچھا۔ 
میں نے انھیں یہاں تک پہنچنے کی رودادسنادی تو وہ بولے : اب تم بھی ہماری طرح جادو گربونے کے قیدی ہو۔ 
جادو گربونا․․․․․․ وہ کون ہے؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔ 
جا دوگر بونا بہت بڑا جادو گر ہے۔ انھوں نے بتایا۔ 
مگر جادو گربونا بچوں کو کیوں قید کرتا ہے؟ میں نے پوچھا۔ 
بہت دن پہلے جادوگر بونے کا اکلوتا بیٹا ہماری دنیا کی سیر کرنے آیاتوشکاری نے اسے مارڈالا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی موت سے جادوگر بونا انسانوں کا دشمن بن گیا۔ اس نے یہ جادونگری بسائی اور پانے جادوئی عمل سے بچوں کو یہاں قید کرنے لگا جو بچہ ایک بار یہاں قید ہوجائے تو پھر جادوگربونے کے جادوئی حصار سے نکل نہیں سکتا۔ 
یہ سن کر کہ میں ایک خطرناک جادوگر کی قید میں ہوں، گھبرا گیا۔ ابھی میں پریشان کے عالم میں کھڑا تھا کہ زور کی آندھی چلنے لگی۔ 
جادوگر بونا آگیا “ کہتے ہوئے بچے اوپر بھاگے۔ بلاسوچے سمجھے میں بھی ان کے ساتھ بھاگ کھڑا ہوا۔ اوپر ایک بہت بڑا کمرے میں کہانیوں کی کتابیں، کھلونے رنگوں کے ڈبے بکھرے پڑے تھے۔ بچے ان چیزوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئے میں وہاں ایک بڑی الماری میں چھپ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہان ایک بونا آگیا۔ اس نے چست لباس پہنا ہوا تھا، چہرے پر لمبی داڑھی تھی، جوسینے تک لٹک رہی تھی پاؤں میں نوک دار جوتے تھے، جوگھٹنوں کو چھورہے تھے۔ سرپر پھندے والی ٹوپی تھی ۔ الماری کی درز سے مجھے بونا نظرآرہا تھا۔ اس نے کھیل میں مصروف بچوں پر ایک نگاہ ڈالی اور بولا: سب ٹھیک ہے بچو ! 
ہاں جی۔ سب بچوں نے ہم آواز ہوکرکہا۔ 
یہاں کوئی نیا بچہ تو نہیں آیا ؟ جادو گر بونے نے پوچھا۔ 
جی نہیں۔ بچوں نے پھر ایک ساتھ کہا۔ 
اچھا تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔ جادوگر بونے نے المارکی طرف دیکھتے ہوئے معنی خیزانداز میں کہا۔ 
جادوگر بونے کو الماری کی طرف توکہ دیتے دیکھ کر میں ڈر گیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے جادو گر بونے کو معلوم ہے کہ میں یہاں چھپا ہوا ہوں، لیکن جادو گر بونے بچوں کو خدا حافظ کہااور جس طرح آندھی طوفان کی طرح آیا تھا، ویسے ہی واپس چلا گیا۔ جادوگر بونے کے جانے بعد میں الماری سے نکل آیا اور بچوں میں گھل مل گیا۔ 
ایک ہفتے میں ایک بڑا ساکمرا تھا، جس کے دروازے پر ہر وقت تالا لگارہتا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس کمرے میں کیاہے۔ ایک دن میں بچوں کے ساتھ کھیل رہاتھا اورایک تاریک گوشے میں چھپا ہوا تھا۔ اچانک میرا ہاتھ کسی چیز سے ٹکڑایا۔ چھن کی آواز آئی ۔ ٹٹول کے دیکھا تو چابیوں کا گچھا ہاتھ میں آگیا: چابیاں مل گئیں۔ چابیاں مل گئیں۔ میں نے شور مچادیا۔ سب بچے میرے پاس آگئے اور حیرت سے چابیوں کو دیکھنے لگے۔ 
 ایک بچے نے کہا: آؤدیکھتے ہیں اس کمرے میں کیا ہے۔ 
میں تالے میں چابی گھماکے تالا کھولنے لگا۔ تیسری چابی گھمانے سے تالا کھل گیا۔ ہم اندر داخل ہوئے تو بری طرح ڈرگئے۔ کمرے میں انسانی کھوپڑیاں ، جانوروں کی ہڈیاں، پرندوں کے پر چمگادڑوں کی لاشیں اور نہ جانے کیا کیا پڑا تھا۔ ایک کونے میں ایک الماری میں بہت سی انگوٹھیاں ، ہار ایک قالین اور شیشے کا ایک گول ساپیالہ پڑا تھا۔ طلسم ہوشرباکی کہانیاں پڑھنے کی وجہ سے ہم فوراََ پہچان گئے کہایہ انگوٹھیاں اور ہار جادو توڑنے والی ہیں۔ قالین، اڑنے والا جادوئی قالین ہے اور دنیا بھر کے حالات جاننے والا جادوئی پیالہ ہے۔ 
ایک بچے نے کہا: جلدی سے اس اڑن قالین پر بیٹھو اورا س جادونگری سے نکل چلو۔ جادوگر بونا آگیا تو غصے میں ناجانے کیا کر بیٹھے ۔
ہم نے جادو کا اثر ختم کرنے والی انگوٹھیاں پہن لیں اور اڑن قالین کھلی جگہ لے آئے پھر سب قالین پر بیٹھ گئے اور اسے حکم دیا کہ ہمیں ہماری دنیا میں لے چلو۔ 
جب قالین ہوا میں اڑا ، اس وقت میری انگلی سے جادو توڑانگوٹھی گرگئی۔ 
اوہ میری انگوٹھی گرگئی۔ میں نے کہا اور قالین سے چھلانگ لگادی۔ اسی وقت زورکی آندھی آگئی۔ میں نے جادو گربونے کو آندھی کے بگولوں میں ادھر آتے دیکھا۔ میں اپنی جان بچانے کے لیے بھاگا۔ جادو گر بوناآندھی طوفان کی طرح میرا پیچھا کررہا تھا۔ بھاگتے بھاگتے مجھے وہی دروازہ نظرآگیا، جس سے میں اس جادونگری میں آیاتھا۔ میں دروازے کے اندر داخل ہوگیا اور پھر پانی میں غوطے کھانے لگا۔ 
جب مجھے ہوش آیا تو میں ہسپتال میں بستر پر پڑا تھا۔ میرے گھرو الے میرے سرہانے کھڑے تھے ۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھ کر ان کے چہرے کھل اٹھے۔ 
شکر ہے خدا کا تمھیں ہوش آگیا۔ تم پورے تین منٹ پانی میں رہے ہو۔ امی جان نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ 
تین منٹ، لیکن میں تو․․․․․ میں نے کہنا چاہا کہ میں توکئی دن جادونگری میں رہاہوں، مگرڈاکٹر صاحب نے مجھے چپ کرادیا۔ بولے: تم چپ رہو ، ابھی آرام کرو۔ 
تین منٹ “ میں نے زیرلب دہرایا۔ تو کیا وہ جادونگری ، جادوگر بونا ، بچے وہ سب نیم بے ہوشی میں دیکھا ہوا کوئی خواب تھا

مسٹر بکرے آپ کیسے ہیں

میں ایک دن بکرمنڈی کے پاس سے گزررہی تھی میں نے سوچا چلو جانوروں کا آج انٹرویو ہی کر لیتے ہیں سب سے پہلے ہم بکروں کے غول کی طرف گئے جہاں بکرے چار پائی پر پڑی گھاس سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ ایک بکرے کی نظر ہم پر پڑی ۔ ہم نے غنیمت جانتے ہوئے بکرے کی توجہ اپنی طرف کی اور ان سے پوچھا۔ مسٹر بکرے آپ کیسے ہیں؟ 
بے ، بے۔ پہلے تو مسٹر بکرے نے بولنے سے انکار کردیااور اپنی مخصوص بولی میں بولے جانے لگے۔ پھر اچانک کہنے لگے، کیا پوچھتے ہو ہم سے ہمارا حال؟ پھر بھی ہم اللہ کاشکرادا کرتے ہیں۔ ہمارا مالک ہمارا بہت خیال رکھتا ہے۔ کھلی تازہ ہوا میں گھمانے لے جاتا ہے۔ یاں بعض اوقات اگر مالک غصے میں ہویا ان کے پاس چارے کیلئے پیسے نہ ہوں تو رونے لگتے ہیں کہ قربانی کا جانور اب پالنا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے کہ انہیں بھی کھلانے کیلئے پیسے نہیں رہے، پھر بھی کہیں سے پکڑ دھکڑ کر ہماری ضرورت پوری کرتے ہیں۔ یہ کہہ کر مسٹر بکرے پھر سے چارہ کھانے میں مصروف ہوگئے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ 
پھر ہم گائے اور بیلوں کے غول کی طرف بڑھے۔ جہاں پر گائیں اور بیل واک کررہے تھے۔ کوئی چنبیلی ہے تو کوئی چلبلی ، کوئی شہنشاہ تو کوئی بادشاہ اور جتنی موٹی اور خوبصورتی سے سجی ہوئی گائے اتنے ہی زیادہ اس کے دام۔ زیادہ تر لوگ وہاں ان کی واک ہی دیکھنے آتے تھے۔ پیسے تو ہیں نہیں چلو ونڈوشاپنگ ہی سہی۔ اتنے میں ایک گائے ہماری طرف بڑھیں ہم ڈر گئے۔ اچانک سے وہ کھڑی ہوگئی اور بولی ۔ ہم سے سوال نہیں کریں گی۔ ایسے میں ہم نے ان سے جھٹ سے سوال پوچھ ڈالا۔ آپ کے ماتھے پہ سجاوٹ ، سینگوں لپٹے ہوئے پھول، پیروں میں چھن چھن کرتی جانجھریں، یہ آپ کی خوبصورتی میں اضافہ کا ذریعہ ہیں یامن مانی قیمتوں کا حصول ؟ 
یہ سب ہمیں بیچنے کے طریقے ہیں۔ گائے تھوڑا اتراتے ہوئے بولی۔ بعض خریدار نہیں جانوروں کو سجابنا کر اس میں انفرادیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سچ پوچھو تو ہمیں ان چیزوں سے بڑی اکتاہٹ ہوتی ہے۔ ہمارے پیروں میں جانجھریں پہناکر ہمیں چلنے پر مجبور کیاجاتا ہے۔ دیکھئے اب کہاں منزل لے جاتی ہے کون بنتا ہے خریدار؟ یہ کہہ کر گائے اپنے غول میں گھل مل گئی۔ 
پھر ہم اونٹوں کے غول کی جانب بڑھے جہاں اونٹ جگالی کررہے تھے۔ ہم نے سوال کردیا۔ آپ کو منڈی تک آنے میں کتنی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ (سوچتے ہوئے ) سفر کاکوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ ہمیں منڈی تک بڑے بڑے ٹرکوں کے ذریعے لایاجاتا ہے ان لڑکوں میں ضرورت سے زیادہ جانور ہونے کی وجہ سے زخموں کی اذیتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ 
منڈی میں پہنچنے کے بعد کیا مالکان آپ کی طرف توکہ دیتے ہیں؟ منڈی پہنچنے کا مرحلہ توسفر سے زیادہ تکلیف دہ اورتھکانے والا ہوتا ہے۔ مالکان کی کوشش ہوتی ہے کہ جانوروں کو زیادہ سے زیادہ کھڑا رکھا جائے تاکہ خریدار ہمیں چاق وچوبند اور توانا سمجھے جبکہ بیٹھا ہوا جانور ان کی نظر میں لاغیریاسست کہلاتا ہے۔ 
اس سوال کے جواب میں قریب ہی سے گزرتے ہوئے ایک بکرا بولا۔ یہ بات تو ہمارے لئے سب سے اہم ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ جب بھی کوئی قصائی خریدار آتا ہے تو ہمارے جسم کو ٹٹول ٹٹول کردیکھتا ہے تو کوئی ہمارے دانتوں کا معائنہ کرتا ہے پھر ہم ان سے پریشان ہو کراپنا بکرا ہونے کا دوچار سینگ جڑکر ثبوت دیتے ہیں تاکہ یہ ہجوم ہم سے دور ہوں۔ یہ کہہ کربکرے میاں آگے آگے چل دیئ

نیلی پری

ایک باغ میں بہت سے جانور رہتے تھے۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔ مزیدار میٹھے رس بھرے پھلوں سے یہ باغ لداہوا تھا۔ ہر منگل کو پرستان کی پریاں جانوروں کے ساتھ مزا اور موج مستی کرنے آتیں۔ خوشی سے جب پرندے چہچہاتے تو انھیں بہت اچھا لگتا۔ 
پریوں میں ایک پری ” نیلم پری “ تھی جس کے پرسات رنگ کے تھے ، اس پری کی خاصیت یہ تھی کہ یہ فضاؤں میں جب اڑتی تو اس کے سات رنگوں کا عکس آسمان پرجاتا جودیکھنے میں بہت پیارا لگتا ۔ 
آج بھی منگل کا دن تھا۔ صبح سے ہی باغ میں میلہ لگاتھا۔ سب تیار ہوکر پریوں کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک بارش برسنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تالاب سابن گیا، میلے کیلئے کی گئی سجاوٹ سب بارش کی نذر ہوگئی۔ سب جانور حیران وپریشان تھے کہ یہ بن موسم بارش کیسے ہوگئی۔ 
ننھے جانور بہت غصے میں آگئے ، کیونکہ ان کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں ۔ اس وقت پریوں کی ٹولی باغ میں اتری۔ جانورں نے غصے میں ان کااستقبال بھی نہ کیا۔ پریاں حیران ہوگئیں کہ آخر آج کیا ماجرا ہوگیا جو ان کے شایان شان کسی نے بھی ان کااستقبال نہ کیا۔ 
اُن کی ملکہ نے بی لومڑی سے پوچھا کہ یہاں سب غصے میں کیوں ہیں؟ لومڑی نے افسردہ ہوکر بارش کی وجہ سے میلہ خراب ہونے کے تمام رودادسنادی۔ یہ سن کرملکہ مسکرائی اور کہا۔ 
دستو ! بارش ایک نعمت ہے۔ اس بارش کی وجہ سے ہمیں کتنا فائدہ ہوتا ہے ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوجاتی ہے۔ نئے پھل اگتے ہیں۔ باغ کی خوبصورتی میں اضافہ بھی ہوگیا ہے۔ سارے جانور بڑے غور سے ملکہ کی باتیں سن رہے تھے۔ 
یہ سب سن کر سفید خرگوش ایک دم بولا وہ تو ٹھیک ہے مگر اب ہم نیلم پری کے سات رنگ کیسے دیکھیں گے ؟ سورج تو نکلا نہیں۔ اس کی بات سن کر پریاں ہنسنے لگیں، ملکہ نے کہا ہم بھلا اپنے دوستوں کو افسردہ کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ 
ملکہ نے نیلم پری کو بلایا تو نیل پری فوراََ حاضر ہوگئی اور اس نے آتے ہی کہا ! چلو سب خوش ہوجاؤ میں اپنے ساتوں رنگوں کا مظاہرہ کرنے لگی ہوں یہ کہہ کر نیلم پری نے پرواز بھری اور فضاء میں پہلے لال رنگ سے عجیب وغریب خاکے بنائے پھر ہرا، نیلا اور پیلا۔ اسی طرح سے باغ ان رنگوں سے خوبصورت لگنے لگا۔ 
سب جانور خوشی سے تالیاں بجانے لگے، بادل چھٹے اور سورج نمودار ہوا۔ یہ رنگ آسمان سے اترتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ پھریوں ہوا کہ نیلم پری نے ساتگوں رنگ ہمیشہ کیلئے آسمان پر چھوڑ دئیے اور خود پرستان چلی گئی۔ اب ہر بارش کے بعد اکثر یہ رنگ نمودار ہوتے ہیں جنہیں ہم ” قوح قزح “ کہتے ہیں

ناشکری کی سزا

ایک دن بارہ سنگھا جنگل میں ہری گھاس چررہا تھا، پیٹ بھرجانے پر اسے پیاس محسوس ہوئی۔ اس جنگل میں شفاف پانی کی ایک ندی بہتی تھی۔ بارہ سنگھا پیاس بجھانے کے لئے اس ندی کے کنارے پر جاپہنچا جب اس نے پانی پینے کے لئے منہ نیچے جھکایا تو شفاف پانی میں اپنا عکس نظرآیا۔ عکس دیکھ کر بارہ سنگھا بہت خوش ہوااس نے اپنے سر پر مضبوط اور لمبے سنگ دیکھ کر سوچا کہ ان سینگوں کی وجہ سے میری خوبصورتی کو چاہ چاند لگ گئے ہیں۔ اس کے ذہن میں خیال آیا کہ میں جنگل کا سب سے حسین جانور ہوں اور سر پر سینگوں کا تاج بھی ہے۔ اس لئے جنگل کا بادشاہ شیرکو نہیں مجھے ہونا چاہیے ۔ 
بارہ سنگھا ابھی اپنے سینگوں کو دیکھ کر خوش ہورہا تھا کہ اس کی نظر اپنی پتلی اور کمزور ٹانگوں پر پڑیں ، ٹانگوں کو دیکھ کر بارہ سنگھا ایک وم افسردہ ہوگیا اور سوچنے لگا کاش میری ٹانگیں بھی سینگوں کی طرح خوبصورت ہوتیں کچھ دیر اپنی ٹانگوں کو دیکھنے کے بعد بارہ سنگھا اپنے گھر کی طرف چل پڑا وہ اپنی پتلی ٹانگوں کو کوستا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک شیر نے اس پر حملہ کردیا ،شیر کو اپنے تعاقب میں دیکھ کر بارہ سنگھا جان بچانے کے لئے گھنے جنگل کی طرف بھاگنے لگا بارہ سنگھا انہیں دہلی ٹانگوں کے ساتھ اتنی تیزرفتاری سے بھاگا کہ شیر بہت پیچھے رہ گیا۔ بھاگتے بھاگتے بارہ سنگھے نے مڑکر اپنے تعاقب میںآ نے والے شیر کو دیکھنے کی کوشش کی توا س کے لمبے اور خوبصورت سینگ ایک درخت کے جھکی ہوئی ٹہنیوں میں الجھ گئے اچانک سینگ پھنس جانے پر بارہ سنگھا بہت پریشان ہواوہ اپنے سینگ چھڑانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کرنے لگالیکن اس کوشش میں اس کے سینگ ٹہنیوں میں مزیدالجھ کررہ گئے ، اب اسے احساس ہوا کہ ان لمبے اور خوبصورت سینگوں سے اس کی دہلی پتلی ٹانگیں جن کو وہ کچھ دیر پہلے بدصورت کہہ رہا تھا زیادہ بہتر ہیں ان ہی ٹانگوں کے سہارے اپنی جان بچانے کے لئے وہ اب تک بھاگتا رہا۔ بارہ سنگھا خود کو آزاد کو کرانے کی کوشش کررہا تھا کہ شیر اس کے قریب آن پہنچا اور چھلانگ لگا کر اس کی گردن اپنے نوکیلے دانتوں میں دبوچ کر کھانے لگا ۔ 
ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکرادا کرنا چاہی

بکری کی کوے کو نصیحت

ایک دفعہ کا ذکرہے کہ جنگل میں طوفانی بارش ہو رہی تھی ۔ بکری کی نظر ایک شیر کے بچے پر پڑی جو بہت بیمار تھا اور سردی سے کانپ رہا تھا ۔ شیر کے بچے نے کافی دنوں سے کچھ کھایا نہیں تھا۔ بکری کو شیر کے بچے پر بہت ترس آیا ، بکری نے پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔ بھوکے شیر نے حسرت سے بکری کی طرف دیکھا، بکری سمجھ گئی کہ یہ بہت بھوکا ہے، اس نے شیر کے بچہ کو کھانا دیا، دودھ پلایا ، اتنی دیر میں بارش رک گئی ۔ 
بکری نے وہاں سے جانے کاارادہ کیا لیکن پھر اسے خیال آیا کہ کہیں شیر کا بچہ اکیلے مر نہ جائے ۔ لہٰذا بکری اس کے پاس رک گئی ، دو تین دن اپنے گھر نہیں گئی بلکہ شیر کے بچے کی دیکھ بھال کرتی رہی ۔ بکری کی دیکھ بھال کی بدولت شیر کابچہ تندرست ہو گیا۔ بکری نے سوچا اب شیر کا بچہ تندرست ہوگیا ہے، اب میں چلی جاتی ہوں۔ مگر پھر اسے بچے پر رحم آیا کہ اس کے ماں باپ تو نہ جانے کہاں ہیں، یہ بے چارہ اکیلے میں گھبرائے گا۔ کہیں شکاری کانشانہ ہی نہ بن جائے ۔ چنانچہ وہ اسے اپنے گھر لے آئی ۔ یہاں شیر کا بچہ بکری کے بچوں کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد شیر کا بچہ جوان ہوگیا۔ ایک دن بکری گھاس کھارہی تھی اور شیر کا بچہ بکری کی رکھوالی کررہا تھا ۔ اوپر سے ایک کوا گزرا اس نے دیکھا کہ بکری گھاس کھارہی ہے اور شیر اس کے پاس بیٹھا ہے ۔ جبکہ شیر تو بکری کو کھاجاتا ہے، مگرایسا کچھ نہیں ہوا کوایہ ماجرا پوچھنے بکری کے پاس آیا تو شیر، کوے کی طرف لپکا اور اسے اُڑادیا ۔ 
ایک دن کو اموقع پاکر بکری کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیاماجرا ہے ؟ بکری نے اسے سب کچھ بتایا اور کوے کو نصیحت کی کہ اگر ہوسکے تو تم بھی کسی کے ساتھ نیکی کرنا۔ کوا اپنے اندر نیکی کا جذبے لے کر چلا گیا۔ ایک دن کوے نے دیکھا ، ایک چوہا ٹھنڈے پانی کے تالاب میں گرا ہوا تھا ، چوہا باہر نکلنے کی کوشش کررہا تھا مگر ڈوب رہا تھا ۔ کوے کو بکری کی نصیحت یاد آئی ۔ وہ اڑا اور اس نے اپنے پنجوں سے چوہے کو پکڑا اور پانی سے باہر نکال کر زمین پر چھوڑ دیا ۔ چوہا ٹھنڈے پانی میں رہنے کی وجہ سے کانپ رہا تھا ۔ کوے نے اس اپنے پروں میں لے لیا ۔ کچھ دیر گزرنے کے بعد کوے نے چوہے کو پروں سے باہر نکالا تو دیکھا چوہا ٹھیک ہوگیاہے۔ مگر چوہے نے اس کے پرکاٹ دئیے ۔ اب کوا اڑنے کی کوشش کرتا اور زمین پر گر پڑتا ۔ کوا اپنے آپ کوکوسنے لگا کہ اس نے چوہے کی مدد ہی کیوں کی ؟ اسے بکری پر بھی غصہ تھا ۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد کوے کے نئے پر اگ آئے اور وہ پھر اڑنے لگا ۔ وہ سیدھا بکری کے پاس گیا اور بکری کو اپنے ساتھ ہوا سارا واقعہ سنایا ۔ بکری نے کہا ” نیکی کرو ضرور۔ مگر فطرت دیکھ کر 

جنگلی لڑکا

بندروں کا پیچھا کرتے کرتے ہم گھنے جنگل میں داخل ہوگئے ۔ بندردرختوں کی شاخوں سے لٹکتے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتے بھاگ رہے تھے اور ہم ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ بندروں کی شرارتوں کے بارے میں سناتھا۔ واقعی آج بندروں نے ہمارے ساتھ شرارت کردی تھی ۔ 
میں نے چڑیا گھر کے لیے وہاں کے افسران سے بندر پکڑنے کا معاہدہ کیا تھا۔ میں نے اس مہم میں اپنے دوستوں کو بھی شامل کرلیا، تاکہ دوستوں کے ساتھ پکنک بھی ہوجائے اور بندرپکڑ کرکچھ رقم بھی کما لیں گے۔
جنگل میں ہم نے بندروں کاٹھکانا ڈھونڈا اور وہاں بندروں کی پسند کی کھانے کی چیزیں پھیلادیں، پھر جال اور پھندے لگاکر جھاڑیوں سے چھپادیے ۔ ہمیں وہاں دیکھ کر بندربھاگ گئے۔ ہم جھاڑیوں میں چھپ کر ان کی واپسی کاانتظار کرنے لگے ۔ کافی انتظار کے بعد بندروں کا ایک جتھا اس طرف آیااور کھانے کی چیزوں پر ٹوٹ پڑا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب کچھ کھا گئے اور جب ہم نے انھیں ہانک کرجال کی طرف لے جانا چاہا تو وہ جال اور پھندے ہی اٹھاکر بھاگ نکلے۔ 
بندروں کا پیچھا کرتے ہوئے ہم جنگل کے اس حصے میں داخل ہوگئے ، جہاں اندھیر اچھایا ہوا تھا۔ گھنے درختوں کی شاخوں سے چھت سی بن گئی تھی ۔ جس سے سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچ رہی تھی اور دن میں بھی رات کاگماں ہورہا تھا۔ یہاں گہری خاموش چھائی تھی ، یعنی مکمل سناٹا تھا۔ 
بندر نہ جانے کہاں چھپ گئے تھے ۔ ہم اپنے ہتھیار اٹھائے متحاط قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے ۔ پتا بھی گرتا توہم چونک اٹھتے۔ اندھیرے کی وجہ سے میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑکردور نکل گیا۔ جب مجھے ساتھیوں کے بچھڑنے کااحساس ہوا تو میں نے پلٹنا چاہا۔ اچانک کسی نے مجھے پیچھے سے دبوچ لیااور اپنے دانت میرے کندھے میں گاڑدیے میرے منھ سے چیخ نکل گئی۔ میں نے اپنے کندھے کو زور سے جھٹکا دیا۔ میرا کاندھا تو اس کی گرفت سے آزاد ہوگیا، مگر اس کانوکیلا ناخن میرے ایک بازو کے گوشت میں اُترتا چلاگیا۔ پھر وہ ایک دم میرے سامنے آگیا۔ 
وہ ایک جنگلی تھا۔ بڑھے ہوئے بال، نوکیلے ناخن ، آنکھوں میں وحشت ، جسم پر صرف ایک لنگوٹی پہنے ہوئے تھا۔ وہ پھر مجھ پر جھپٹا ، مگر میں پھرتی سے جھکائی دے کر بچ گیا اور دو قدم پیچھے ہٹ کر تیز سیٹی بجائی جواب میرے ساتھیوں نے بھی سیٹی بجائی ، جس کامطلب تھا، گھبراؤ نہیں ہم آرہے ہیں۔ یہ ہمارا آپس کا خفیہ اشارہ تھا ۔ 
اس دوران موقع پاکر اس جنگلی نے پھر مجھے دبوچ لیا۔ کم عمر ہونے کے باوجود وہ پھرتیلا اور طاقت ور تھا۔ اتنے میں میرے ساتھی بھی وہاں آپہنچے۔ مجھے ایک جنگلی سے گتھم گتھا دیکھ رک انہوں نے بندوقیں تان لیں۔ 
گولی مت چلانا۔ میں نے چلِا کرکہا۔ 
میرے ساتھیوں نے اپنے ہتھیار زمین پر دکھ ریے اور جنگلی پر جھپٹ پڑے ۔ تھوڑی سی جدوجہد کے بعد انھوں نے جنگلی پر قابو پالیا۔ ایک ساتھی نے کمرکے گرد بندھے تھیلے سے رسا نکالا اور جنگلی کو باندھ کربے بس کردیا۔ پھر دوساتھیوں نے اسے اُٹھالیا اور ہم جنگل سے واپس چل پڑے ۔
جنگلی انسان کو پکڑنے کی خبر نے مہذب دنیا میں ہلچل مچادی۔ یہ ایک چونکا دینے والی خبر تھی کہ ایک بچہ انسان سے بچھڑکر جانوروں میں پلابڑھا اور جانوروں جیسی ہی عادتیں اپنالیں۔ لوگ جوق درجوق جنگلی لڑکے کو دیکھنے آنے لگے۔ کئی دنوں تک اخباری نمائندوں نے ہمیں گھیرے رکھا۔ یہ سلسلہ تھما تو جنگلی کی تربیت شروع کردی۔ اس سلسلے میں ایک ڈاکٹر اور ایک ماہرنفسیات کی مدد بھی مل گئی ۔
اس جنگلی کو مہذب بنانے کے لیے بڑی محنت کرناپڑی ۔ آخرہماری کوششیں رنگ لائیں اور اس میں تبدیلی کے آثارنظر آنے لگے ۔ وہ کچھ کچھ ہماری بات سمجھنے لگااور گھر کے کام بھی کرنے لگا۔جلدہی اس نے نشانہ بازی بھی سیکھ لی اورہمارے مدد گارکی حیثیت سے ہمارے ساتھ شکاری مہمات پرجانے لگا۔ ایک اچھا نشانہ باز ہونے کے باوجود شکاری مہموں کے دوران اس نے کبھی کسی جانور پہ گولی نہ چلائی ۔ وہ اپنے پاس ایک تھیلا رکھتا ، جس میں جانوروں کے کھانے کی چیزیں ہوتیں، جنھیں وہ جانوروں کے آگے ڈال دیتا اور خود دور کھڑا ہوکر انھیں کھاتے دیکھتا اور خوش ہوتا ۔ 
اس دوران ہم نے اس کے والدین کی تلاش جاری رکھی ۔ ایک دن کچھ لوگ اسے دیکھنے آئے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا بچہ بھی جنگل میں کھوگیا تھا۔ اس کے جسم پر ایک مخصوص پیدائشی نشان دیکھ کرانھوں نے اپنے لخت جگر کو پہچان لیا ۔ 
اپنے بچھڑے ہوؤں سے ملنے کے بعد اس ہم سے اپنے والدین کے ساتھ جانے کی اجازت چاہی اور ہم نے دکھی دل سے اسے جانے کی اجازت د ے دی

اشرفیوں کی تھیلی

محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں کی ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کیلئے دوسرے ملک چلا گیا ۔ واپسی پر اس نے قاضی سے اپنی تھیلی واپس مانگی جو اس نے واپس کردی ۔ تاجر تسلی کرکے تھیلی لے گیا۔ گھر جا کر اس نے تھیلی کھولی تو اشرفیوں کی بجائے اس میں تانبے کے سکے تھے۔ اس نے قاضی کے پاس آکر کہا اس میں جواشرفیاں تھیں وہ کہاں گئیں ؟ قاضی نے جواب دیا ” بھئی جس طرح تم بند تھیلی دے گئے تھے میں نے اسی طرح تمہارے حوالے کردی ۔ اب مجھے کیا معلوم کہ اس میں اشرفیاں تھیں یاتانبے کے سکے ۔ “ تاجر فریاد لے کرسلطان محمود غزنوی کے پاس گیا اور سارا واقعہ سلطان کو سنادیا ۔ 
سلطان سمجھ گیا کہ تاجر سچ کہتا ہے لین اس کاکوئی جواب نہ تھا کہ بند تھیلی میں اشرفیوں کے بجائے تانبے کے سکے کیسے چلے گئے ؟ سلطان نے کہا کہ تم یہ تھیلی میرے پاس رہنے دواور انصاف کرنے کا کوئی طریقہ سوچنے کیلئے مجھے کچھ دن کا وقت دو۔ تاجر نے وہ تھیلی سلطان کے حوالے کی اور خود چلاگیا ۔ سلطان نے کچھ دیر اور پھر اپنے خنجر سے اُس قالین کوایک طرف سے کاٹ دیا جو تخت پر بچھا ہوا تھا اور اس کے فوراََ بعد حکم دیا کہ ہم شکار کوجائیں گے ۔ چنانچہ سلطان پر روانہ ہوگیا ۔ بادشاہ کی روانگی کے بعد جب وزیر وغیرہ واپس لوٹے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ تخت شاہی کاقالین ایک طرف سے کٹا ہواہے ۔ سب سوچنے لگے کہ اب کیاکیا جائے ۔ شکار سے واپسی پر تین دن کے بعد جب سلطان کو یہ پتہ چلے گا کہ قالین کٹ گیا ہے تو خداجانے کس کس کی شامت آئے ۔ وہ یہ بات سوچ ہی رہے تھے کہ ان میں سے ایک بول اٹھا۔ ارے یار ! کیوں فکر کرتے ہو، احمد فوگرکو بلالووہ اس کو ایسا بنادے گا کہ بادشاہ کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہو گی کہ کبھی قالین کٹاتھا ۔ چنانچہ احمد رفوگرکوبلا کر اس سے کہا گیا کہ جس قدر جلد ہوسکے قالین کی اس طرح مرمت کردو کہ کوئی یہ نہ جان سکے کہ اسے رفو کیاگیا ہے ۔ 
احمد رفوگر نے یہ کام دودن میں مکمل کردیا۔ تیسرے دن سلطان شکار سے واپس آیا تو اس نے قالین کی صحیح سالامت پایا۔ بادشاہ خود یہ نہ جان سکا کہ اسے کہاں سے رفو کیاگیا ہے ۔ سلطان نے اپنے وزیروں سے کہا کہ یہ قالین کاٹ کر مرمت کرایا گیا ہے ۔ وزیروں نے قسمیں کھائیں کہ عالیجاہ ایسا نہیں ہوا۔ اس پر سلطان نے کہا کہ میں نے خود اس قالین کو کاٹا تھا ۔ بتایا جائے کہ کس نے اسے رفو کیاہے ؟ بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہ کام احمد رفو گر نے کیا ہے ۔ سلطان نے احمد کو بلایا اور وہ تھیلی دکھا کر کہا ۔ دیکھو ! کہیں یہ تھیلی تو تمہارے پاس رفو کیلئے نہیں آئی تھی ؟ پہلے تو احمد نے انکار کیا مگر جب سلطان نے سختی سے پوچھا تو اس نے کہا “ جی ہاں ! یہ تھیلی فلاں قاضی صاحب میرے پاس لائے تھے جس میں نے رفو کردیا تھا۔ بادشاہ نے اسی وقت قاضی کو بلایااور کہا کہ تاجر کی اشرفیاں فوراََ واپس کردو ورنہ تمہیں سخت سزادی جائے گی، آخر قاضی نے وہ اشرفیاں لاکر بادشاہ کے سامنے پیش کردیں جو بادشاہ نے تاجر کے حوالے کردیں۔ قاضی کے خلاف مقدمہ چلایا اور اسے سزادلائی

کنجوس کی بلی

بلی کے دونوں بچے بھوکے تھے اور میاؤں ، میاؤں کرکے ماں کو بہت پریشان کر رہے تھے ۔ بلی خود بھی بہت بھوکی تھی ۔ وہ جس گھر میں رہتی تھی، اس گھر کی مالکن اور مالک بہت کفایت شعار تھے ۔ حد سے زیادہ کفایت شعار یعنی کنجوس ، مکھی چوس تھے۔ وہ بلی کو کھانے کو کچھ بھی نہیں دیتے تھے ۔ بلی بے چاری پڑوس کے گھروں میں جاکر چوری کرکے لاتی یاکوڑے دان سے بچا کھچا پھینکاہواکھانا لاکر پیٹ بھرتی اور بچوں کو کھلاتی تھی ۔ 
بلی کے بچے ابھی بہت چھوٹے تھے ۔ وہ بچوں کے بڑے ہونے کاانتظار کررہی تھی، تاکہ وہ ان کولے کر کہیں دوسری جگہ چلی جائے، جہاں اس کو کھانے کے لیے مل جایاکرے۔ 
بلی جس گھر میں رہتی تھی اس گھروالوں کے بارے میں مشہورتھا کہ وہ مثالی کنجوس ہیں۔ ان کے گھر کوئی مہمان بھی نہیں آتا تھا۔ شیخ سعدی نے کسی حکایت میں لکھا ہے کہ بعض لوگ ایسے کنجوس ہوتے ہیں کہ وہ بھوکے کوکھانا کھلانا تو درکنارپانی بھی نہیں پلاتے۔ اگر ان کے گھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بھوکی بلی آجائے تو وہ اس کو دوبونددودھ بھی نہ دیں اور اگر اصحاب کہف کابھوکا کتا بھی ان کے دروازے پر بھوکا آجائے تو وہ اس کو روٹی کا یک نوالہ بھی نہ ڈالیں۔ اسی لیے قارون دولت مند ہونے کے باوجود اپنی کنجوس کے لیے قیامت تک بدنامی کے ساتھ یاکیاجائے گا، جب کہ حاتم طائی اپنی سخاوت کے لیے یاد کیاجائے گا۔ 
علامہ اقبال کا یہ شعر اس قسم کے لوگوں پرصادق آتا ہے کہ 
گوپروازہے دونوں کی ایک فضا پر 
کرگس کاجہاں اور ہے، شاہین کاجہاں اور 
بھوکی بلی نے بھوکے بچوں کو تسلی دی اور کہا کہ ذرا صبر کروصبح ہوگئی ہے۔ اللہ میاں سب کو رزق دیتا ہے، ہم کو بھی ضرور دے گا۔ 
ایک بچے نے کہا: اماں ، اماں ! میں گوشت کھاؤں گا ۔ 
دوسرے نے بھی کہاں: ہاں میں بھی آج گوشت کھاؤں گا ۔ 
بلی نے کہا: میں جاتی ہوں دیکھتی ہوں کہ گھر میں کیاپک رہاہے ۔ بلی مکان کی چھت پر بنی کوٹھری سے نکلی اور بچوں کو ہدایت کی کہ وہ باہر نہ نکلیں اور نہ شور مچائیں۔ اگر مالکن کو پتاچل گیا تو وہ تم کو پکڑ کردور پھنکوا دیں گے ۔ بچے سہم گئے اور چپ چاپ کونے میں دُبک گئے ۔ 
صبح کے نوبجے تھے، سردی کازمانہ تھا۔ سورج نکل آیاتھا ، لیکن مالکن لحاف اوڑھے بستر میں پڑی تھی ۔ اس کا شوہر گوشت اور ترکاری لے کر واپس آگیا تھا۔ اس کاخیال تھا کہ اس کی بیوی نے اٹھ کر اب تک ناشتہ تیارکرلیا ہوگا۔ بیوی کو بستر میں پڑا دیکھ کر وہ آگ بگولہ ہوگیا ۔ اس نے غصے سے کہا: تم اب تک بستر پر پڑی ہو، مجھے لگ لگی ہے، ناشتہ کون بنائے گا۔ 
میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے، میں روز ناشتہ بناتی ہوں، آج تم خود بنالو۔بیوی نے لحاف میں سے جواب دیا۔ 
اور میں یہ گوشت اور لوکی لایاہوں ، یہ بھی پکالوں گا ۔ 
میرا سر درد سے پھٹا جارہا ہے، میں اٹھ نہیں سکتی اور تم کو گوشت لوکی کی فکر ہے۔ پھینک دو گوشت کو۔ ہوٹل سے کھانالے کا کھالینا۔ میری فکر مت کرنا۔ بیوی نے چِلا کر کہا۔ 
شوہر کاپیٹ خالی تھا، وہ بھوکا تھا۔ بھوک میں انسان کادماغ گرم ہوجاتا ہے۔ شوہر نے تھیلے سے گوشت کی تھیلی نکال کرغصے میں آنگن میں پھینک دی اور گھر سے باہر نکل گیا۔ 
بلی یہ سب دیکھ اور سن رہی تھی ، وہ گوشت کی تھیلی منھ میں دباکر بھاگ نکلی۔ ماں اور بچوں نے بہت دن بعد گوشت کھایا اور اللہ میاں کاشکر ادا کیااور دعا کی کہ مالکن اور مالک یونہی لڑتے رہیں 

جھوٹی خبر

شرپسندوں کے ایک گروہ نے شہر میں بدامنی پھیلارکھی تھی ۔ امن وامان کی بحالی کے لیے آئی جی صاحب نے یہ معاملہ خفیہ پولیس کے انسپکٹرراشد کو سونپا۔ شہر کے حالات پر ان کی پہلے ہی بہت گہری نظر تھی، اس لیے انھوں نے فوراََ کام کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے تووہ شہر کے جدید ترین اسپتال گئے۔ وہاں ایک ضروی کام سے فارغ ہوکر سیدھے ایک بڑے اخبار کے دفتر گئے۔ ایک خبر لگانے کے لیے ایڈیٹر کو آئی جی صاحب کا حکم نامپ دکھایا اور معاملے کو راز میں رکھنے کا کہا ۔
اگلے دن صبح اخبار نے سرخیوں میں یہ خبرچھاپی : ” کل رات ایک اہم اجلاس میں شرپسندوں کو ختم کرنے کا پلان ترتیب دے دیا گیا۔ نیچے انسپکٹرراشد کا بیان لگایا گیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس پلان کے ذریعے ہم ایک ہفتے کے اندراندر گروہ کا صفایا کردیں گے ۔
اسی دن شام کو انسپکٹر راشد معمول کے مطابق دفتر سے گھر کی طرف آرہے تھے کہ انھیں پیچھے تعاقب کا احساس ہوا۔ ایک کالے رنگ کی کاران کا تعاقب کررہی تھی یہ دیکھ کر انھوں نے اپنی گاڑی کی رفتار کم کر دی۔ جلد ہی وہ گاڑی ان سے آگے نکل گئی اور تھوڑی دورجاکرسڑک پر ترچھی ہو کر اس طرح رک گئی کہ آگے جانے کا راستہ بند ہوگیا۔ فوراََ ہی چار لمبے تڑنگے نقاب پوش کار سے اُترے اور ان کی گاڑی کی طرف بڑھے ۔ انسپکٹر راشد چاہتے تو انھیں نشانہ بناسکتے تھے ، مگر کچھ سوچ کر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ جب وہ نزدیک آئے توانھوں نے سرباہر نکلا کر پوچھا : کون ہوتم لوگ ؟ 
جواب میں ا نھوں نے کوئی چیزان کے ناک پر رکھی اور اس کے بعد انھیں کچھ ہوش نہ رہا۔ ہوش آیاتو انھوں نے اپنے آپ کو ایک کرسی سے بندھا پایا۔ ہوش میں آکر دیکھا توسامنے ایک شخص ٹانگ پر ٹانگ رکھے کرسی پر بیٹھا تھا۔ پھر انھوں نے ادھراُدھر نظریں گھمائیں توکمرے کے چاروں طرف نقاب پوش ہاتھوں میں گنیں لیے کھڑے تھے۔ آخر انھوں نے سامنے بیٹھے شخص سے پوچھا: کون ہوتم ؟ 
تمھاری موت ! 
لیکن شکل سے توتم چاے والے لگتے ہو۔ 
چٹاخ ! ایک زور دار طمانچہ انسپکٹر راشد کے منھ پر لگا۔ بندھے ہونے کی وجہ سے وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے، لہٰذا خون کے گھونٹ پی کررہ گئے ۔ 
میں اس گینگ کا باس ہوں، باس۔ اس نے باس ‘ پرزور دیتے ہوئے کہا ، پھر بولا: بتاؤ تم نے کیا پلان بنایا ہے ہمارے گروہ کو ختم کرنے کے لیے ؟ 
بتادوں گاتو تم لوگ مجھے ماردو گے ۔ 
وہ تو ویسے بھی ماردیں گے ، پھر تمھارے آئی جی کو یہاں لاکر اس کی بھی خبر لیں گے ۔ پولیس کو ایسا دھچکا دیں گے کہ آیندہ کوئی ہمیں ختم کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکے گا ۔ 
توسنو! ایسا کوئی پلان ہم نے ترتیب دیاہی نہیں ۔ انسپکٹر راشد نے عجیب سے لہجے میں کہا ۔ 
کیا !! بکواس ، میں نہیں مانتا ۔ 
ہاں ، میں نے خود پریس والوں سے جاکریہ خبر چھاپنے کے لیے کہا تھا، تاکہ تم مجھے اغوا کرکے پلان کے بارے میں پوچھو اور میں تم تک پہنچ جاؤں اور دیکھ لو، میں تم تک پہنچ چکا ہوں۔ انسپکٹر راشد نے مسکراتے ہوئے کہا ۔ 
یہ جملہ سن کر باس چونکا، مگر پھر سنبھل کربولا: یہاں سے تواب صرف تمھاری لاش ہی جائے گی۔ اس وقت ہم نے تمھیں جہاں رکھا ہوا ہے، وہاں تو پولیس پر بھی نہیں مارسکتی ۔
پرنہیں مارسکتی مگر چھاپہ تو مارسکتی ہے نا۔ 
میرے بالوں میں ایک عدد مائیکروچپ چھپی ہوئی ہے، جو میرے ساتھیوں کو یہ بتارہی کہ میں اس وقت کہاں ہو۔ بس وہ یہاں پہنچے والے ہی ہوں گے ۔ 
یہ سن کرباس زور سے دہاڑا ” ماردو اسے ! اور نکلو یہاں سے ! 
فوراََ ہی کمرے میں کھڑے نقاب پوشوں کی بندوقیں انسپکٹر راشد کی طرف تن گئیں ۔ اچانک کمرے کی کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ کراندر کی طرف گرا۔ کلاشنکوف والے انسپکٹر راشد کوبھول گئے اور انھوں نے کھڑکی کی طرف فائرکھول دیا، مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔ اچانک دوسری طرف کی کھڑکیاں ٹوٹیں اور پولیس کے کمانڈوز چھلانگیں لگاتے ہوئے اندرداخل ہوئے ۔ نقاب پوش سمجھ رہے تھے کہ پولیس والے پچھلی طرف سے نہیں آپائیں گے، اس لیے وہ اس اچانک حملے سے گھبراگئے ۔ اسی گھبراہٹ میں جب وہ کھڑکیوں سے کودنے والے کمانڈوز کی طرف متوجہ ہوئے توموقع کا فائدہ اٹھا کر چند سپاہی بھی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے ۔ اب نقاب پوش اور ان کاباس دونوں طرف سے گھر گئے تھے ۔ نتیجتاََ یہ کہ انھوں نے ہتھیار ڈال دیے اور شہر میں امن قائم ہوگیا

عقل مند کی تلاش

بہت دنوں کی بات ہے کہ کسی ملک کے ایک انصاف پسند بادشاہ کا وزیر مرگیا۔ وہ وزیر بہت عقل مند اور نیک انسان تھا، جو بادشا کو رعایا کی بھلائی کے لیے اچھی مشورے دیتا تھا۔ بادشاہ اس کو بہت عزیز رکھتا تھا اور اس پر مکمل بھروسا کرتا تھا۔ بادشاہ کو اس کی موت کا بہت افسوس تھا۔ بادشاہ کو ہی نہیں اس ملک کے عوام کو بھی وزیر کی موت کا غم تھا۔ 
بادشاہ اپنے درباریوں میں سے کسی کوبھی اپنا وزیر بناسکتا تھا ، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کے ہی کسی عقل مند آدمی کو وزیر بنائے گا۔ بادشاہ اپنے ایک وفادار ملازم کے ساتھ رات کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حالات جاننے کے لیے نکلتا تھا۔ اس طرح وہ خود ملک کے حالات سے واقفیت حاصل کرتا تھا کہ اس کی رعایا اپنے ملک اوربادشاہ کے بارے میں کیا سوچتی ہے ۔ 
ایک بارآدھی رات کے وقت وہ شہر کی ایک گلی سے گزررہا تھاکہ اندھیرے کی وجہ سے ایک آدمی سے ٹکڑا گیا۔ 
بادشاہ نے پوچھا: تم کون ہو اور رات کے وقت یہاں کیا کررہے ہو؟ 
اس شخص نے جواب دیا: میں اس شہر کاایک شریف انسان ہوں اور بے وقوفوں کو عقل مند بنانے کے گر سکھلاتا ہوں ۔ مجھے چوروں کا خوف نہیں ہے، کیوں کہ میرے پاس چوروں کے لیے کوئی چیز نہیں ہے ۔ 
بادشاہ گھوم پھر کر اپنے محل پہنچا اور دوسرے دن اس نے حکم جاری کیا کہ شہر میں رات کے وقت ہر شخص ہاتھ میں چراغ لے کر نکلاکرے۔ جو شخص ایسا نہیں کرے گا، اس سخت سزادی جائے گی۔ 
کچھ دنوں بعد بادشاہ رات کے وقت شہر کی ایک گلی سے گزررہاتھاکہ وہ ایک آدمی سے ٹکرا گیا۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیااور اس نے پوچھاتم کون ہواور اس وقت یہاں کیاکررہے ہو ؟ 
جناب ! میں اس شہر کاایک معززآدمی ہوں اوربے وقوفوں کو عقل سکھلاتا ہوں۔ 
بادشاہ نے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے، جو چنددن قبل اس سے ٹکرایا تھا۔ 
کیا تم نے بادشاہ سلامت کا حکم نہیں سنا کہ رات کے وقت ہرآدمی ہاتھ میں چراغ لے کرنکلاکرے۔ تم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی، اس لیے تم کو سخت سزا ملے گی ۔ بادشاہ نے غصے میں کہا۔ 
جناب والا ! میرے ہاتھ میں چرغ ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ اس آدمی نے جواب دیا ۔ 
مگر یہ روشن کیوں نہیں ہے ؟ 
جناب والا ! بادشاہ سلامت کے حکم میں صرف اتنا ہے کہ ہر آدمی ہاتھ میں چراغ لے کر چلے ۔ یہ حکم نہیں دیا کہ اس میں تیل بھی ہواور وہ روشن بھی ہو۔ 
بادشاہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس آدمی نے پھر کہا: میرا خیال ہے کہ بادشاہ کے دربار میں عقل مند وزیروں کا قحط ہے ،ورنہ ایسا حکم صادرکرنے سے پہلے وہ بادشاہ سلامت کی توجہ دلاتے ۔ میری دعا ہے کہ خدا ہمارے بادشاہ سلامت کو ایک عقل مند وزیرباتدبیرعطا فرمائے ۔ 
بادشاہ یہ بات سن کر دل ہی دل میں بہت شرمندہ ہوا۔ وہ اس آدمی کے ساتھ ساتھ چلنے لگااور باتوں میں اس کے بارے میں ذاتی معلومات اس سے حاصل کرلیں۔ 
بادشاہ نے پوچھا: تمھارا پیشہ کیا ہے ۔ 
اس نے جواب دیا: جناب والا ! میں ایک مدرسے میں استاد ہوں اور عقل مند بنانے والی دو عظیم کتابوں کا حافظ ہوں۔ اس کے علاوہ بہت ساری ایسی کتابیں پڑھ کا ہوں جو انسان کو عقل مند بنا کر ان کوکامیاب انسان بناسکتی ہیں۔ میرے استاد نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر کوئی آدمی گلستان اور بوستان کی حکاتیوں کو سمجھ کر پڑھے اور غور کرے تو ایک دن وہ عقل مند ترین انسان بن کر کسی بادشاہ کے دربار میں جگہ پاسکتا ہے۔ 
باتیں کرتے کرتے اس عقل مند انسان کا گھرآگیا اور وہ رخصت ہوگیا۔ بادشاہ نے اس کے مکان اور محلے کو ذہن نشین کرلیااور اپنے محل میں واپس چلاگیا۔
دوسرے دن بادشاہ نے اپنے شاہیوں کو حکم دیا کہ اس عقل مند انسان کو عزت کے ساتھ ہمارے حضور پیش کیا جائے ۔ 
بادشاہ اس کی گفتگواور عالمانہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا اور اس کو اپنا وزیر بنالیا۔ اس وزیر نے بادشاہ کو بہت اچھے اور مفید مشورے دیے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ شہر کے سارے باشندوں کو مفت چراغ اور تیل فراہم کیاجائے اور گلی کو چوں میں رات کو روشنی کرنے کے لیے چراغ تھامے نوکر رکھے جائیں۔ 
بادشاہ نے حکم دیا کہ استادوں کے علاوہ بھی شہر کے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ شیخ سعدی شیرازی کی کتابیں گلستان وبوستان ضرور پڑھے ۔ 
یہ تو ایک حکایت تھی، لیکن سچ ہے کہ دنیا کہ عقل مند بنانے والی کتابوں میں گلستان بوستان بہت مشہور کتابیں ہیں اور ان کا ترجمہ دنیا کی تقریباََ تمام زبانوں میں ہوچکا ہے۔ ان کو پڑھ کر آپ اپنی عقل ودانش میں اضافہ ضرور کرسکتے ہیں

ایک نوجوان سڑک کے کنارے

ایک نوجوان سڑک کے کنارے سے گزر رہا تھا درمیان سے بھی گزر سکتا تھا 😁 اس کے ہاتھ میں دودھ تھا شاید فیملی کے لیۓ لے کہ جا رہا تھا ماں کے لیۓ بھی لے کہ جا سکتا تھا 😁 ۔آدمی غریب تھا اچانک پیچھے سے سائیکل سوار نے آدمی کو دھکا دیا شاید وہ غلطی سے دیا گیا ہو یا جان بوجھ کر 😁۔غریب آدمی کے ہاتھ سے دودھ کا شاپر گر گیا اور سارہ کا سارا دودھ گر گیا ضائح ہو گیا آدمی کو بہت غصہ آیا اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو سائیکل پر چھوٹا بچہ تھا آدمی اس سے بنا بات کیۓ وہی پہ ایک سائڈ پر ہو کہ بیٹھ گیا اچانک ایک بلی اچھلی ٹہلتی وہاں آہ پہنچی اور دودھ کو دیکھ کر دودھ پینے لگی وہ آدمی سارا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے بلی سارا کا سارا دودھ پی گئی اب کچھ لمحات ہی گزرے تھے کہ بلی سڑک کے کنارے چکرانے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اچھلنے لگی اور مر گئی شاید دودھ میں کچھ ایسی چیز تھی جو کہ زہریلہ مادہ تھا کچھ جو بلی کے دل پر جا لگا غریب آدمی یہ سوچ رہا تھا اگر یہ دودھ میرے بچے پیتے یا میری ماں پیتی تو اس کا کیا حال ہوتا شکر ہے میں یہ دودھ گھر نہیں لے کر گیا ورنہ حال ہی میں مجھے بلی کی جگہ اپنے گھر والوں کا یہ حال دیکھنا پڑتا وہ یہ سوچ کر اس سائیکل والے بچے کو دعائیں دینے لگا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اللہ پاک نے اسے اتنی بڑی مصیبت سے بچایا اور ہی آدمی خوشی خوشی گھر کی طرف لوٹ گیا کیونکہ نتیجہ اس کے سامنے تھا  اس دودھ کے استعمال کا  بعض دفعہ ہم کچھ چیزوں کے گرنے سے اللہ پاک سے گلہ کرتے ہیں حالانکہ وہ ہمارے ہاتھ سے گری ہوئی چیز ہمارے حق میں بہتر ہوتی ہے ہر ایک کام میں کچھ نہ کچھ بہتری ہوتی ہے ہمیں ان چھوٹی چھوٹی کہانیوں کو مدنظر رکھ کے سبق حاصل کرنا چاہیۓ.
چوہدری راشد چغتائی

جہیز ایک لعنت

جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...