پياسے کوے
ايک پياسے کوے کو ايک جگہ پاني کا مٹکا پڑا نظر آيا۔ بہت خوش ہوا ليکن يہ ديکھ کر مايوسي ہوئي کہ پاني بہت نيچے فقط مٹکے کي تہہ ميں تھوڑا سا ہے۔ سوال يہ تھا کہ پاني کو کيسے اوپر لائے اور اپني چونچ تر کرے۔
اتفاق سے اس نے حکايات لقمان پڑھ رکھي تھي پاس ہي بہت سے کنکر پڑے تھے اس نے اٹھا کر ايک ايک کنکر اس میں ڈالنا شروع کيا۔ کنکر ڈالتے ڈالتے صبح سے شام ہوگئي۔ پياسا تو تھا ہي نڈھال ہوگيا۔ مٹکے کے اندر نظر ڈالي تو کيا ديکھتا ہے کہ کنکر ہي کنکر ہيں۔ سارا پاني کنکروں نے پي ليا ہے۔ بے اختيار اس کي زبان سے نکلا ہت ترے لقمان کي۔ پھر بے سدھ ہو کر زمين پرگرگيا اور مرگيا۔ اگر وہ کوا کہیں سے ايک نلکي لے آتا تو مٹکے کے منہ پر بيٹھا بيٹھا پاني کو چوس ليتا۔ اپنے دل کي مراد پاتا۔ہر گز جان سے نہ جاتا۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
جہیز ایک لعنت
جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...
-
آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ...
-
حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ حواری" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ''حواری''جو آپ پر ایمان لا کر اور اپنے اپنے اسلام ک...
-
ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک...
No comments:
Post a Comment