ایک بار ایک عزیز کی شادی کے سلسلے میں والدہ صاحبہ کو لے کر پرل کانٹی نینٹل ہوٹل جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ہمارے ایک قریبی عزیز ملنے آئے ۔ انھوں نے والدہ کو ایک بڑی رقم دی اور کہا کہ یہ امانت ہے اور جب مجھے ضرورت ہوگی ، میں لے لوں گا ۔ جب تقریب ختم ہوئی اور ہم واپسی کے لیے کار پارکنگ میں آئے تو والدہ صاحبہ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اوڑھنے کے لیے برقع درست کرنے لگیں اور اپنا پرس جس میں کافی رقم تھی ، قریبی کھڑے ایک اسکوٹر کی سیٹ پر رکھ دیا۔ برقع ٹھیک کرنے کے بعد انھیں پرس اٹھانا یاد نہ رہا اور وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
جب آدھا راستہ طے ہوگیا تو میں نے ایک جگہ پیٹرول بھروانے کے لیے گاڑی روکی ۔ پیٹرول ڈلوایا تو میں نے والدہ صاحبہ سے کہا کہ آپ اپنے پرس میں سے کچھ پیسے دے دیں ۔ اس پر انھیں یاد آیا کہ وہ اپنا پرس بھول آئی ہیں ، جہاں انھوں نے برقع درست کیا تھا ۔
میں نے پریشانی سے کہا : اس میں تو کافی رقم تھی ، اب وہ پر س کہاں ملے گا ۔
وہ کہنے لگیں : مجھے اللہ کی ذات پر اُمید ہے کہ وہ پرس کہیں نہیں جائے گا ۔
جب ہم آدھے گھنٹے بعد وہاں پہنچے تو دیکھا کہ پرس اس جگہ اسکوٹر سیٹ پر رکھا ہوا تھا اور رقم بھی پوری تھی ، حالانکہ اس دوران بے شمار لوگ کار پارکنگ میں آئے ہوں گے لیکن کسی کی پرس پر نظر نہیں پڑی ۔ اسے والدہ صاحبہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی سمجھ لیں ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
جہیز ایک لعنت
جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...
-
آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ...
-
حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ حواری" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ''حواری''جو آپ پر ایمان لا کر اور اپنے اپنے اسلام ک...
-
ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک...
No comments:
Post a Comment