پرانے زمانے کی بات ہے ہے ایک عالم دین بغاوت کے الزام میں

پرانے زمانے کی بات ہے ایک عالم دین بغاوت کے الزام میں جیل چلے گئے۔ جمعے کا دِن آتا تو نہا دھو کر تیل کنگھی کر کے انتظار میں رہتے، اور جونہی جمعے کی اذان ہوتی تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے جیل کے مین گیٹ تک جا پہنچتے، پوری اذان جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کر سنتے اور پھر بوجھل قدموں کے ساتھ افسردہ چہرے سے آنسو پونچھتے ہوئے واپس اپنی بیرک میں آ جاتے۔
گیٹ پر مامور جیلر جو غیر مسلم تھا کافی عرصہ سے اُس عالمِ دین کا یہ معمول دیکھ رہا تھا، آخر اُس سے رہا نہ گیا تو اُس نے انہیں اپنے پاس بلایا اور پوچھا"تم یہ کیا ہر جمعے کو تماشہ کرتے ہو۔۔؟ تیار ہو کر گیٹ تک آتے ہو، جبکہ تمہیں معلوم ھے کہ جیل کا دروازہ تمہارے لیے بند ہے اور تم اس سے باہر نہیں جا سکتے تو پھر بھی تم اپنے بیرک سے اتنی دور چل کے کیوں آتے ہو؟"
عالمِ دین نے جواب دیا،"جیلر صاحب! میرے اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جب جمعے کی اذان سنو تو سارے کام چھوڑ کر جلدی جلدی مسجد میں پہنچو، لہٰذا میں اپنے رب کا حکم بجا لاتا ہوں اور جہاں تک میرے سے ممکن ہو سکتا ہے میں وہاں تک پہنچتا ہوں۔ اور پھر جیل کے گیٹ کی سلاخیں پکڑ کے اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہوں اور کہتا ہوں"یااللہ! تو میری مجبوری کو دیکھ رہا نا، تیرے حکم کی خاطر میں یہاں تک تو آ گیا ہوں، لیکن اِس سے آگے نہیں بڑھ سکتا، اب تو میری نیت کو دیکھتے ہوئے خود ہی میری حاضری لگا دینا۔۔!"
"چونکہ میرا اللہ کسی کی استطاعت سے زیادہ اُس پر بوجھ نہیں ڈالتا، تو مجھے اُمید ہے میرا رب مجھے جمعے کا اجر لازمی عطا فرمائے گا، اگرچہ میں پھر جیل میں ہی نمازِ ظہر پڑھتا ہوں۔ جو چیز آپ کو تماشہ نظر اتی ہے وہ میرا دین اور ایمان ہے۔"
تو دوستو! ہمارا معاملہ بھی یہی ہونا چاہیے، جہاں تک اسلام میں وسعت موجود ہے، اور ہم بخوبی انجام دے سکتے ہیں وہاں تک دین کے دائرے میں رہتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے اور جو بس میں نہیں ہے اس کے لیے اللہ سے امید رکھیں۔۔۔

No comments:

Post a Comment

جہیز ایک لعنت

جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...