اسلام اور پسند کی شادی
چند دن پہلے پاکستانی ایک ڈرامے میں ایک ڈائیلاگ سنا “اسلام ہمیں پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے اور اس میں برائی کیا ہے؟”ویسے تو یہ ڈائیلاگ پہلے بھی بہت بار پاکستانی ڈراموں میں سن چکی ہوں اور یقیناً آپ لوگ بھی سن چکے ہوں گے ۔
اب جس ڈرامہ میں یہ مکالمہ تھا اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ لڑکی کی منگنی کسی اور کے ساتھ ہوچکی ہے اور منگنی کے بعد اسے ایک لڑکے سے محبت ہوجاتی ہے جس کے ساتھ وہ بعد میں بھاگ کر شادی کرلیتی ہے۔ ماں کی مرضی کے خلاف اور اپنے ماں باپ کی عزت کو مٹی میں ملا کر اپنی محبت کو پروان چڑھاتی ہے ۔
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں پاکستانی ڈراموں میں دکھائی جارہی ہیں۔ مثلاً شادی کسی اور سے محبت کسی اور سے ۔ کہیں بہنوئی کی نظر اپنی سالی پر ہے تو کہیں دیور اپنی بھابھی پر غلط نظر رکھے بیٹھا ہے ۔ ایک ڈرامہ تو ہم جنس پرستی تک کو پروموٹ کرا گیا اور تقریباً ہر ڈرامے میں یہی دکھایا جارہا ہے کہ ماں باپ بچوں کی محبت کے آڑے آرہے ہیں اور درمیان میں “بیچارہ” اسلام بھی رگڑے میں آ جاتا ہے۔
یہ سب کچھ دیکھ کر کچھ جستجو ہوئی کہ واقعی ہمارا اسلام ‘اس طرح’ پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے کہ جس میں لڑکی یا لڑکے کے والدین کی رضامندی نہ ہو اور وہ اس شادی سے بالکل بھی خوش نہ ہوں اور وہ والدین سے لڑجھگڑ کر شادی کریں؟ مجھے تو ایسی کوئی مثال نہیں ملی کہ جہاں یہ حکم ہو کہ ماں باپ کو دکھ دے کر یا ان کی عزت مٹی میں ملا کر شادی رچائی جائے اور نہ ہی کسی اللہ والے کو “محبت” کو اتنا سر چڑھاتے دیکھا۔ جو پڑھا وہ ماں باپ کے لیے قربانیاں تھیں، ایثار تھا اور محبت تھی۔
آج ڈرامے پسند کی شادی دکھا کر، صرف ایک یہی “اسلامی اجازت” کی بات کرکے اور آخر میں “سب ہنسی خوشی رہنے لگے” دکھا کر حقیقی زندگیوں پر جو اثرات مرتب کر رہے ہیں، اس کا نتیجہ حقیقی کرداروں سے ہی پوچھا جائے تو بہتر ہوگا۔ ڈرامہ کسی کے ذہن کے تخلیق ہوتا ہے اور نتیجہ بھی اسی کی اختراع، عملی زندگی میں انجام اچھا ہوتا ہے یا برا، اس کا اختیار انسان کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔
لیکن اس پورے چکر میں جس طرح پاکستانی ڈراموں میں اولاد کو ماں باپ سے برگشتہ کرنے، پیار و محبت کے نام پر گمراہ کرنے اور اسلام کا سہارا لے کر اس کے احکامات اور اجازتوں کا غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے، یہ راستہ صرف تباہی طرف جائے گا
No comments:
Post a Comment