تاتاری فوج ایک شہر دربند میں پہنچی وہاں ایک بزرگ سید احمد دربندی رہتے تھے تاتاریوں کی خبر سنتے ہی مسلمانوں نے سارے شہر کو خالی کر دیا‘ فقط شیخ احمد دربندی اور ان کے ایک خلیفہ مسجد کے اندر موجود رہے‘ تاتاری شہزادے نے کہا کہ جاؤ پتہ کرو کہ کوئی انسان اس شہر کے اندر موجود ہے یا نہیں؟ بتایا گیا کہ دو بندے مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اس نے کہا کہ ان کو گرفتار کر کے اور بیڑیاں پہنا کر میرے سامنے پیش کرو‘حکم کے مطابق ان کو گرفتار کر کے شہزادے کے سامنے پیش
کیا گیا تاتاری شہزادے نے کہا جب سارے مسلمان چلے گئے تھے تو پھر تم کیوں نہیں گئے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنے پروردگار کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور اس گھر سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا۔ شہزادے نے کہا ک ہتم کیسی باتیں کرتے ہو؟ ہم نے تمہیں نکالا‘ ہم نے تمہیں بیڑیاں پہنائیں اور ہم نے تمہیں مجرم کی طرح سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ شیخ احمد دربندی کہنے لگے کہ یہ بیڑیاں کیا چیز ہیں؟ چنانچہ شیخ احمد دربندی نے اس وقت زور سے کہا ’’اللہ‘‘ ان کا یہ کہنا تھا کہ زنجیریں ٹوٹ کر نیچے گر گئیں۔یہ دیکھ کر تاتاری شہزادے کے دل میں ہیبت بیٹھ گئی کہنے لگا کہ میں آپ کو اس شہر میں رہنے کی اجازت دیتا ہوں چنانچہ شیخ احمد دربندی نے اس شہر میں رہنا شروع کر دیا‘ تاتاری شہزادہ کبھی کبھی ان سے خفیہ ملاقات کرنے کیلئے آتا‘ اللہ تعالیٰ نے نور فراست سے شیخ احمد دربندی کو بتا دیا کہ ایک ایسا وقت آئے گا کہ یہ شہزادہ پورے ملک کاحکمران بنے گا‘ شیخ نے شہزادے سے کہا کہ تم مسلمان ہو جاؤ اس نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو بھی جاؤں تو اپنے ایمان کا اظہار نہیں کر سکتا‘ اگر کروں گا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ شیخ احمد دربندی نے فرمایا کہ تم اپنے ایمان کا اس وقت اظہار کرنا جب اللہ تعالیٰ تمہیں حکمران بنا دیں گے۔ شہزادے نے حیران ہو کر پوچھا کہ کیا مجھے حکومت بھی ملے گی؟ فرمایا!ہاں میرے باطن کا نور بتاتا ہے کہ تمہیں حکومت ملے گی‘ چنانچہ شہزادے نے وعدہ کر لیا‘ کہ جس وقت مجھے حکومت ملے گی میں اپنے اسلام لانے کا اعلان کر دوں گا۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ تیس سال کے بعد اس شہزادے کو حکومت ملی تو اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اس طرح پوری دنیا میں خلافت و حکومت دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ میں آ گئی"
تاتاری فوج ایک شہر دربند میں پہنچی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
جہیز ایک لعنت
جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...
-
آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ...
-
حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ حواری" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ''حواری''جو آپ پر ایمان لا کر اور اپنے اپنے اسلام ک...
-
ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک...
No comments:
Post a Comment