جہیز ایک لعنت

جہیز ایک لعنت
صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو اللہ تعالی نے ہر خوبی سے نوازا ہوا تھا۔ آج اس کے گھر کچھ لوگ رشتہ لے کر آرہے تھے۔ تھوڑی دیر میں لڑکے والے پہنچے۔ ابتدائی تعارف اور لڑکی کو دیکھنے کے بعد انہیں لگا جیسے کوئی اپسرہ مل گئی ہو۔ وہ ویسی ہی تھی جیسے انہیں چاہیے تھے۔ بائیس سالہ صبا نے ٹیوشن پڑھا پڑھا کر اور محنت سے ایم اے انگلش کیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد لڑکے کی ماں بولی۔ ہمیں صبا بہت پسند آئی ہے۔ یہ رہی ہماری جہیز کی لسٹ۔ ان کے جانے کے بعد صبا نے نم آنکھوں سے لسٹ دیکھی تو لڑکے والوں نے اس کی ذات پر فرمائشوں کی ایک گٹھڑی لادد ی تھی۔ فریج، ایل ای ڈی، بائیک اور نہ جانے کیا کیا۔ اس نے رو رو کر اماں سے پوچھا، اماں! کیا چند مصنوعی چیزوں کی قیمت انسان سے زیادہ ہوتی ہے۔ تو اماں بس نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔ اگلے دن لڑکے والوں نے فون کیا، اور کسی دکان دار کی طرح کہا کیا آپ کو ہماری لسٹ منظور ہے؟ جی بالکل۔ لیکن ساتھ میں ہم حق مہر پچاس کروڑ رکھیں گے۔ پچاس کروڑ؟۔ جی پچاس کروڑ، صبا نے پرعزم لہجے میں جواب دیا تو اگلی طرف سے اسے پاگل کہہ کر فون بند کر دیا گیا۔

راشد صاحب بہت فکر مند رہتے تھے۔ تین جوان لڑکیاں گھر میں بیٹھی تھیں۔ جو بھی رشتہ آتا وہی فرمائشی لسٹ لے آتا۔ مشکل سے دو لاکھ روپے انہوں نے شادی کے لیے جوڑ رکھے تھے۔ اب اس سے بیٹی کی شادی کرتے یا جہیز دیتے۔ چھوٹی سمن اکثر انہیں پریشان دیکھتی۔ ابا کیوں دکھی ہوتے ہیں۔ رشتے تو آسمانوں میں بنتے ہیں نا۔ جب قسمت میں ہوگا شادی ہو جائے گی۔ روز راشد صاحب کتنے حروف تسلی کے سنتے۔ اب تو لوگوں کی باتیں بھی سننے لگے تھے۔ جب بھی نماز کے لیے جاتے کوئی نہ کوئی بیٹیوں والا موضوع چھیڑ دیتا اور معاشرے کو کوستا۔ آخر محلے کا ایک آوارہ سڑک چھاپ بغیر جہیز ان کی بڑی بیٹی سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوگیا تو انہوں نے اسی کے ساتھ بیٹی بیاہ دی۔ بیٹی جاتے جاتے بس اتنا بولی۔ ابا کاش میں جہیز ہوتی۔

احمد صاحب نے حال ہی میں بیٹے کی شادی کی تھی۔ جس پر خوب سارا جہیز حاصل کیا تھا۔ گھر میں چار بیٹیاں باپ کا منہ چڑا رہی تھیں۔ کچھ عرصے سے انہیں کاروبار میں بھی نقصان ہو رہا تھا۔ بڑی بیٹی کا رشتہ آیا تو داماد کو گاڑی بھی جہیز میں دی گئی۔ یہاں تک کہ دوسری بیٹی کا رشتہ آیا تو واحد گھر بچا تھا جس میں وہ رہ رہے تھے۔ گھر آئی بہو ان کی حالت دیکھ کر بس کرب کی ہنسی ہنستی تھی۔ اس کے باپ کو بھی کتنا مجبور کیا گیا تھا جہیز کے لیے۔ آج وہی شخص کسی بھکاری کی طرح جہیز کے چند روپوں کے لیے ترس رہا تھا۔ بڑی مشکل سے جب بیٹی کا وقت رخصت آیا تو اس نے نم آنکھوں سے باپ کے کان میں اتنا ہی کہا، ابا! کاش آپ جہیز نہ لیتے۔

کتنی گھروں کی معصوم لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بڑھاپے کی دہلیز پار کر جاتی ہیں، جبکہ بہت سی موت کو گلے لگا لیتی ہیں۔ کچھ تو احساس کمتری کا شکار ہوکر گھروں میں قید ہو جاتی ہیں۔ کتنے باپ روز کانٹوں کے بستر پر سوتے ہیں۔ کتنی مائیں روز مرنے کی دعائیں مانگتی ہیں۔ کتنے والدین بیٹی کے پیدا ہونے پر اس لیے غمزدہ نہیں ہوتے کہ وہ لڑکی ہے بلکہ انہیں یہ دکھ ستاتا ہے کہ کل اس کی شادی کس طرح ہوگی۔ کتنے بھائی روز وقت اور طعنوں کی سولی پر چڑھتے ہیں۔ جہیز لینے سے بہتر ہے انسان بھیگ مانگے۔ جہیز مانگنے سے بہتر ہے انسان سیدھا سیدھا دکاندار کی طرح کاروبار کرے۔
اسلام روز ازل سے جہیز کے خلاف ہے۔ اسلام ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ شادی اور نکاح کو آسان سے آسان تر بنایا جائے۔ اسلام نے کہیں بھی نہیں کہا کہ عورت مرد کو پالے، یا اس کے گھر آتے وقت بہت ساری چیزیں لے کر آئے بلکہ اسلام کہتا ہے مرد عورت کا کفیل ہے۔
رب تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔
”مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔“ (سورۃ النساء)
لہذا یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کی کفالت کرے۔ عورت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ مر د کی کفالت کرے اور جہیز کی صورت میں اسے بہت سا مال و دولت دے۔
اس کے علاوہ ایک اورآیت صریحتا جہیز کے خلاف ایک گواہی کے طور پیش کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے::
”اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے مت کھاو۔“ (سورة النساء)
اب اس آیت کے تناظر میں جو لوگ جہیز لیتے ہیں وہ سوچیں کہ آیا وہ صحیح کر رہے ہیں۔ کیا کسی مجبو ر باپ کی مجبو ری کا فائد ہ اٹھانا جائز ہے۔؟ کسی مجبور بھائی کو پیسوں کی خاطر مزید مجبور کرنا کیا قرآنی تعلیمات کی صراحتا خلاف ورزی نہیں ہےکیا؟ کیا اس بنا پرشادی کرنا کہ اچھا خاصا جہیز ملے گا، ایسی دولت کا شمارکیا حلال دولت میں ہوگا؟ وہ پاب جانتا ہے کہ کتنا خون اور پسینہ دے کر اس نے یہ جہیز کی چیزیں جمع کی ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”بلاشبہ سب سے زیادہ برکت والا وہ نکاح ہے جس میں اخراجات میں سب سے زیادہ کمی پائی جاتی ہے۔“
یہ حبیب کائنات کا ارشاد ہے لہذا ہمیں سوچنا چاہیے کیا ہم جہیز لے کر اخراجات کم کرتے ہیں۔ کیا لڑکی والوں پر شادی ایک عذاب کی طرح نازل نہیں ہوتی۔ کیا وہ خوشی سے جہیز کی چیزیں دیتے ہیں۔ کیا ان کی آنکھوں کے آنسو کوئی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے لرزتے کپکپاتے ہاتھ کسی کو نظر آتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مزید ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: یعنی عورت سے (چار وجوہ سے) نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کی مالداری کے سبب سے اور اس کی خاندانی شرافت کے سبب سے اور اس کے حسن و جمال کے سبب سے اور اس کی دینداری کے سبب سے۔ سو تو دین والی عورت پر کامیابی حاصل کر، تیرے دونوں ہاتھ غبار آلود ہوں۔

کاش جہیز اور دولت کو معیار قرار نہ دیا جائے تو بہت ساری صبا جیسی لڑکیاں آج شوہر کے گھر میں عزت کے ساتھ رہ سکیں گی۔ ان کو بھی وہی تکریم اور عزت ملے گی جو عزت اور وقار اسلام نے انہیں دیا ہے۔
والدین کو بھی چاہیے جب جہیز کی ایک لسٹ ان کے پاس آئے تو وہ بھی تین لاکھ کی چیزیں جہیز میں دیتے وقت تیس لاکھ روپے حق مہر میں لکھنے کی شرط رکھیں، دیکھیں جہیز کی رٹ لگانے والوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔ میں نے اکثر مرد نما انسانوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ حق مہر مناسب رکھنا چاہیے، حالانکہ اسلام حق مہر پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ وہی لوگ جو حق مہر کی بات بھی نہیں کرنا چاہتے، جہیز جیسے مکروہ رسم کا ہر جگہ دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے منہ سے کبھی سننے کو نہیں مل سکتا کہ جہیز ایک غیر مناسب اور غیر اسلامی رسم ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو حق مہر کے خلاف سب سے زیادہ بولتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ حدیث پیش کی جاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا::
”جس نے مال مہر کے عوض کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ اس مہر کوادا نہ کرے گا، وہ دراصل زانی ہے“۔(حدیث)

بہت سی لڑکیاں جن کے سر کے چاندی کے بال، جن کی دروازے پر تکتی نگاہیں،جو روز دل میں کسی آنے والے شہزادے کے خواب سے دل کو منو ر کرتی ہیں، جو ہر آہٹ کو اپنے لیے شادی کا محبت نامہ سمجھتی ہیں اور جن والدین کی آدھی عمر جہیز بنانے میں جبکہ باقی آدھی بیٹیوں کے لیے رشتے کی تلاش میں ختم ہوچکی ہے۔ کیا یہ معاشرہ ان کی حالت کا ذمہ دار نہیں۔؟ کیا ان لڑکیوں کا محبت پر کوئی حق نہیں؟ کیا ان لڑکیوں کا حق نہیں کہ وہ شوہر کی نگاہوں میں ٹھہر کر دنیا کو اپنی نگاہوں سے ٹھہرا سکیں؟ لہذا جہیز کی رسم کو ختم کرنے کے لیے ہر ایک خواہ وہ طالب علم ہو، سول سوسائٹی ہو، اساتذہ ہو، علما ہو یا والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور تاکہ بہت ساری لڑکیاں جن کے سر جہیز نہ ہونے کی وجہ سے سفید ہو چکے ہیں۔ جو ہسٹیریا کی مریضہ بن چکی ہیں۔ بہت سے بھائی جو بہنوں کی جہیز کی خاطر جرائم تک کر بیٹھتے ہیں۔ بہت سے باپ جو وقت سے پہلے مر جاتے ہیں۔ بہت سی مائیں جو روز بیٹیوں کو جیتے جی مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ خدارا ان کی حالت کا احساس کیجیے۔ جہیز کی خاطر ان لڑکیوں کی جوانی کو برباد مت کریں۔ آج کوئی جہیز کی خاطر کسی کا گھر برباد کر رہا ہے تو کل اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی مرد اگر وہ حقیقی مرد ہے تو کسی مجبور لڑکی کےماں باپ سے جہیز کا ہرگز مطالبہ نہ کرے۔ جن بیٹیوں کے والدین جہیز لیتے ہیں ایسی بہادر بیٹیاں اپنے والدین کو احساس دلائیں کہ اس مکروہ رسم سے صرف زندگیاں تباہ ہوسکتی ہیں، کسی کی زندگی آباد نہیں ہوسکتی۔ لہذا اگر ایک عورت فیصلہ کرے کہ اب وہ اپنی بہوکا انتخاب کرتے وقت کسی بھی قسم کے جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گی نہ ہی کوئی باپ جہیز مانگے گا اور نہ ہی جہیز کی وجہ سے کسی لڑکی کوٹکرایا جائے گا، تو یقینا ایک مثبت اور تعمیری معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے گا۔

شرط

شرط"
لقمان حکیم نوبی قوم کے ایک سیاہ رنگ غلام تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو حکمت و دانش سے نواز دیا تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں ایک شخص کے غلام تھے جس نے ان کو ساڑھے تین مثقال کے عوض خریدا تھا۔ یہ اس کی خدمت میں لگے رہتے تھے۔ یہ شخص چوسر کھیلتا تھا اور اس پر بازی لگایا کرتا تھا اور اس کے دروازہ کے قریب ایک نہر جاری تھی۔ایک دن اس شرط پر چوسر کھیلی گئی کو جو ہار جائے اس کو اس نہر کا سارا پانی پینا پڑے گایا اس کا فدیہ ادا کرے گا۔ لقمان کا آقا ہار گیا۔ اب جیتنے والے نے مطالبہ کیا یا تو سارا پانی پیئے یا اپنا فدیہ ادا کرے۔ اس نے پوچھا کہ فدیہ؟ اس نے کہا تیری دونوں آنکھیں جن کو میں پھوڑوں گا جو کچھ بھی تیرے ملک میں ہے وہ سب فدیہ ہو گا۔ لقمان کے آقا نے کہا مجھے آج کے دن کی مہلت دو۔ اس نے منظور کر لیا۔کہتے ہیں کہ وہ بہت غمین اور آزردہ تھا کہ لقمان لکڑیوں کا گٹھہ پشت پر اٹھائے ہوئے آ پہنچے اور آقا کو سلام کیا۔ پھر گٹھ کو رکھ کر اس کے پاس آئے۔ اور اس کی عادت تھی کہ جب وہ حضرت لقمان کو دیکھتا تھا تو ان سے دل لگی کیا کرتا تھا او ران سے کلمات حکمت سنتا اور تعجب کیا کرتا تھا۔ انہوں نے اس کے پاس بیٹھ کر کہا کہ کیا بات ہے؟ میں تم کو آزردہ اور غمگین دیکھ رہا ہوں تو اس نے ان سے اعراض کیا۔ پھر دوبارہ سوال کیا تو پھر بھی اس نے جواب سے گریز کیا۔ پھر انہوں نے تیسری مرتبہ پوچھا اس دفعہ بھی وہ خاموش ہی رہا۔ چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا آپ مجھے بتائیے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ میں آپ کی مشکل حل کر دوں۔اب نے پورا قصہ سنا دیا۔ لقمان نے کہا کہ غم نہ کیجئے۔ میرے پاس اس کا حل موجود ہے۔ اس نے کہا وہ کیا؟ آپ نے فرمایا کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر نہر کا پانی پینے کا سوال کرے تو تم اس سے یہ پوچھناکہ دونوں کناروں کے درمیان کا پانی پیوں یا نہر کی لمبائی کا؟ تو وہ تم سے یقیناً کہے گا کہ دونوں کنارے کے درمیان کا۔ تو تم اس سے کہنا (کہ میں پانی پینے پر آمادہ ہوں) تو لمبائی سے پانی بہنے کو روکے رکھ۔ جب تک میں دونوں کناروں کے درمیان کا پانی نہ پی لوں اور یہ اس کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ پانی روکے رکھے۔جب صبح ہوئی تو وہ شخص آیا اور اس نے کہا میری شرط پوری کر۔ آقا نے جواب دیاکہ بتاؤ کہ دونوں کناروں کے درمیان پانی پیوں یا لمبائی کا؟ اس نے کہا دونوں کناروں کے درمیان کا۔ اب انہوں نے کہا کہ بہت اچھا لمبائی کے پانی کو روک لو۔ اس نے کہا یہ تو ناممکن ہے اس طرح عدم ایفاء کی ذمہ داری اس پر جا پڑی اور یہ غالب آ گیا۔س نے لقمان کو آزاد کر دیا۔لقمان حکیم کی ایک وصیتلقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی کہ بیٹا جب تم کسی شخص سے بھائی چارہ کرنا چاہو تو(آزمائش کے طور پر)پہلے اس کو غصہ دلا دو، اگر اس نے بحالت غضب بھی انصاف کو قائم رکھا تو اس کو بھائی بنا لو ورنہ اس سے

حضرت سلیمان علیہ السلام

حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کا عجیب واقعہ
اس واقعہ میں بہت سی ہدایات ہیں۔ مثلاََ یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جن کو ایسی بے مثل حکومت و سلطنت حاصل تھی کہ صرف ساری دنیا پر ہی نہیں بلکہ جنات اور طیور اور ہوا پر بھی ان کی حکومت تھی، مگر ان سب سامانوں کے باوجود موت سے ان کو بھی نجات نہ تھی اور یہ کہ موت تو مقررہ وقت پر آنی تھی۔ بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد علیہ السلام نے شروع کی، پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل فرمائی، اس میں کچھ کام تعمیر کا باقی تھا اور یہ تعمیر کا کام جنات کے سپرد تھا، جن کی طبیعت میں سر کشی غالب تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خوف سے جنات کام کرتے تھے، ان کی وفات کا جنات کو علم ہوجائے تو فوراََ کام چھوڑ بیٹھیں اور تعمیر رہ جائے۔ اس کا انتظام حضرت سلیمان علیہ السلام نے باِذنِ ربانی یہ کیا کہ جب موت کا وقت آیا تو موت کی تیاری کرکے اپنی محراب میں داخل ہوگئے، جو شفاف شیشے سے بنی ہوئی تھی۔ باہر سے اندر کی سب چیزیں نظر آتی تھیں اور اپنے معمول کے مطابق عبادت کیلئے ایک سہارا لے کر کھڑے ہوگئے کہ روح پرواز کرنے کے بعد بھی جسم اس عصاء کے سہارے اپنی جگہ جما رہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی روح وقت مقرر پر قبض کرلی گئی، مگر وہ اپنے عصاء کے سہارے اپنی جگہ جمے ہوئے باہر سے ایسے نظر آتے کہ عبادت میں مشغول ہیں۔ جنات کی یہ مجال نہ تھی کہ پاس آکر دیکھ سکتے، وہ سلیمان علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر کام میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سال بھر گزر گیا اور تعمیر بیت المقدس کا بقیہ کام پورا ہوگیا تو اللہ تعالٰی نے گھن کے کیڑے کو جس کو اردو میں دیمک کہا جاتا ہے اور قرآن کریم نے اس کو دابتہ الارض کے نام سے موسوم کیا ہے، عصائے سلیمانی پر مسلط کردیا۔ دیمک نے عصاء کی لکڑی کو اندر سے کھا کر کمزور کردیا۔ عصاء کا سہارا ختم ہوا تو سلیمان علیہ السلام گرگئے۔ اس وقت جنات کو ان کی موت کی خبر ہوئی۔
جنات کو اللہ تعالٰی نے دور دراز کی مسافت چند لمحات میں قطع کر لینے کی قوت عطا فرمائی ہے، وہ بہت سے ایسے حالات و واقعات سے واقف ہوتے تھے جن کو انسان نہیں جانتے، جب وہ انسانوں کو ان واقعات کی خبر دیتے تو انسان یہ سمجھتے تھے کہ یہ غیب کی خبر ہے اور جنات کو بھی علم غیب حاصل ہے۔( خود جنات کو بھی علم غیب کا دعوٰی ہوتو بعید نہیں۔) موت کے اس عجیب واقعہ نے اس کی بھی حقیقت کھول دی۔ خود جنات کو بھی پتہ چل گیا اور سب انسانوں کو بھی کہ جنات عالم الغیب نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کو غیب کا علم ہوتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت سے ایک سال پہلےہی آگاہ ہوجاتے۔

قطب الدین

قطب الدین
ایک بار ایک تاجرغلاموں کی منڈی میں گیا تو اسے ایک ترک بچہ بہت پسند آیا اور اسے تاجر نے فوراً خرید لیا۔ تاجر نے بچے سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے۔ لڑکے نے جواب دیا : جناب میں اپنا نام بتا کر اپنے نام کی توہیں نہیں کرنا چاہتا ۔ میں غلام ہوں اس لئے آپ جس نام سے پکاریں گے وہی میرا نام ہوگا ۔ تاجر کو اس جواب پر حیرت ہوئی لیکن اسے یہ بات پسند بھی آئی کہ بچے میں عزت نفس کا احساس باقی ہے۔تاجر نے اس بچے پر خاص توجہ دی اور اسکی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیا ۔ بچے نے بہت جلد تیر اندازی، تلوار بازی اور شہسواری میں ایسی مہارت حاصل کی کہ خود تاجر حیران رہ گیا ۔ غزنی کا بادشاہ شہاب الدین غوری ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ دیکھ رہا تھا ۔ تاجر اپنے غلام کو لے کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ حضور میرے اس غلام کو گھڑ سواری میں کوئی نہیں ہرا سکتا ۔ بادشاہ نے مسکرا کے لڑکے سے پوچھا : تم کتنا تیز گھوڑا دوڑا سکتے ہو۔ لڑکے نے نہایت ادب سے جواب دیا : حضور گھوڑے کو تیز دوڑانے سے زیادہ ضروری اسے اپنا مطیع بناتا ہوتا ہے۔ غوری نے چونک کر اسے دیکھا اور ایک بہترین گھوڑا اسے دیتے ہوئے کہا: لڑکے تم اس گھوڑے کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا کر دکھاؤ۔ لڑکا اچھل کر گھوڑے پر بیٹھا اور کچھ دور اسے چلا کر لے گیا اور پھر پلٹ کر واپس آیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ واپسی میں بھی گھوڑا اپنے سُموں کے نشان پر ہی چلتا ہوا آیا۔ سلطان غوری نے سوچا جو شخص ایک جانور کو اس طرح اپنا فرمانبردار بنا سکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو مطیع بنانا کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔ اس نے فوراً اس غلام کوخرید لیا جس کا نام قطب الدین تھا ۔ ترکی میں ایبک انگلی کو کہتے ہیں اور شل کا مطلب ہوتا ہے ، ٹوتا ہوا ۔ چونکہ اس غلام کی ایک انگلی ٹوٹی ہوئی تھی اس لئے عموماً سب اسے ایبک شل کہتے تھے پھر ایبک اس کے نام کا جزو بن گیا اور اس نے قطب الدین ایبک کے نام سے ہندوستان پر حکومت کی ۔دہلی کی قوت الاسلام مسجد اور قطب مینار اس کی یادگاریں ہیں..!!

کیا بیٹی کا پیدا ہونا جرم ہے

کیا بیٹی کا پیدا ہونا جرم ہے؟ ؟؟؟

حرام خور کو اپنا اصل نام یاد نہ تھا۔ گھر میں پیار سے بلانے کا رواج نہ تھا پر حقارت سے اس کو آواز دینے والوں کی کمی نہ تھی۔ دن رات حرام خور گھر والوں کے سامنے ہاتھ باندھے زر خرید غلام کی طرح ان کے حکم کی منتظر رہتی۔ وہ حرام خور اس لیے تھی کیونکہ وہ شادی کے بعد یکے بعد دیگرے تین بچیوں کو جنم دینے کا جرم کر چکی تھی۔ پہلی بار ہی بیٹی پیدا کرنے کے گناہ میں اس کو حرام خور کے لقب سے نوازا گیا تھا۔ گھر کا ہر فرد بس اتنا جانتا تھا کہ یہ کھا کھا کے حرام کرتی ہے کہ اس سے تو ایک بیٹا بھی جنا نہیں جاتا۔حرام خور کی تیرہ برس کی عمر میں شادی کر دی گئی تھی۔ وہی عمر جس میں بچیاں اپنی گڑیوں کی شادی بیاہ کرتی ہیں۔ اس کے گھر والے اپنا بوجھ اتارنے کی عجلت میں تھے کیونکہ وہ والدین کے گلے کا وہ طوق تھی۔ جس سے جلد از جلد چھٹکارا پایا جاتا ہے۔ شادی کے موقع پر لڑکیاں نت نئی چیزوں کی فرمائشیں کرتی ہیں۔ اور یہ کچھ نئے کھلونوں کی آرزو دل میں رکھے بیٹھی تھی۔
پھر وہ وقت آیا جب گڑیا سے کھیلنے کی عمر میں وہ اپنی گود میں اپنی ہی اولاد کو سنبھالنے کی کوشش کرتی تھی۔محسن اور حرام خور کی شادی کو سات برس بیت چکے تھے۔ ان سات برسوں نے اسے زندگی کے بہت سے مشکل سبق پڑھا ڈالے تھے۔ ان دنوں وہ پھر سے اپنے پیٹ میں ایک معصوم کو لیے دن بھر سسرال والوں کی گالیاں کھاتی پھرتی۔ بیٹیاں پیدا کرنے کی سزا کے طور پر اکثر محسن اس کے بال نوچتے ہوئے طلاق کی دھمکی دیتا۔ حرام خور کے سسرال کو دن رات یہ غم تھا کہ ان کے بعد ان کے خاندان کا نام کیسے چلے گا؟ ان کا نام لیوا کون ہو گا؟اس بار بھی ہر دفعہ کی طرح بیٹے کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کئی جتن کیے جا رہے تھے۔ ہر روز کسی نہ کسی پیر کے آگے حرام خور کی پیشی ہوتی۔ نجانے کتنے پیر اس کے جسم کو چھونے کی کوشش کرتے۔ سخت تناو میں آنے کے بعد جب وہ کسی کے آگے جانے سے انکار کرنے کی جرات کرتی۔ تو پھر اس حرام خور کی تهپڑوں اور جوتوں سے عزت افزائی کی جاتی۔ اس کے باوجود بھی وہ اگر منہ کھولنے کی کوشش کرتی تو محسن اس کے جبڑوں کو زور سے دبوچ ڈالتا۔ اس کو یہ بتانے کا موقع ہی نصیب نہ ہوتا کہ اس کو کس کس عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس اذیت کے بعد وہ تازہ دم ہو کر اپنے آپ کو نئی حاضری کے لیے تیار کر لیتی۔حرام خور ایک پالتو جانور کی طرح ان کے ہر حکم کی تعمیل کرنے پر مجبور تھی۔ وہ ان کے گھر کا ایسا جانور تھی جو انہوں نے اپنے کھونٹے سے باندھ رکھا تھا جب دل کیا جہاں دل کیا ہانکتے ہوئے لے جاتے۔ کبھی کسی نام نہاد فقیر سے حرام خور کے لیے تعویذ لاتے جو اس کو پانی میں گھول گھول کر پلائے جاتے۔ نجانے کیا کیا دم کر کے اس کو کھانے پر مجبور کیا جاتا۔ درگاہوں پر حاضری دی جاتی، منتیں ماننی جاتیں، چڑھاوے چڑھائے جاتے۔اس بار بھی نو ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا پھر وہ دن آن پہنچتا جب اس کو یہ ثبوت دینا تھا کہ اس کی نمک حرامی، نمک حلالی میں بدلی کہ نہیں۔ زچگی کے اس مرحلے میں بھی جب زندگی اور موت میں زیادہ فاصلہ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ گڑ گڑا کے اپنے رب سے دعائیں کر رہی تھی کہ یااللہ بیٹا دے دے یا پھر مجھے اپنے پاس پناہ دے دے۔ شاید قبولیت کا کوئی لمحہ تھا یا خدا اس دن زیادہ رحیم تھا۔ کہاں کوئی دعا قبول نہ ہوتی تھی اور اس دن دونوں مان لی گئیں۔ادھر بیٹے کے رونے کی پہلی آواز دنیا نے سنی ادھر اس کی سانسیں کمزور پڑنا شروع ہوئیں۔ ایک جان نے جنم لیا اور دوسری نے رخصت کی تیاری باندھ لی۔ حرام خور کی زندگی کے آخری لمحات میں محسن کو بیٹے کی خوش خبری دی گئی تو وہ حرام خور کے کمرے میں دوڑا چلا آیا۔ محسن نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی بیوی کو اس کے کھوئے ہوئے نام سے پکارا پر آخری سانسیں لیتی، اپنے نام پر اس نے آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔
وہ لفظ حرام خور کی اتنی خوگر ہو چکی تھی کہ باقی سب محبت اور پیار میں گندھے نام اس کو بھول گئے تھے۔صدیوں بعد محسن نے بڑی محبت سے اس کے ہاتھ کو تھاما تو اس کے چہرے پر مایوسی کے علاوہ کوئی رنگ نہ جھلکا۔ محسن نے حرام خور سے برسوں بعد یہ پوچھا بول تجھے کیا چاہیئے؟ حرام خوار نے اپنے نظریں اوپر کرتے ہوئے اپنی پہلی اور آخری خواہش پورا کرنے کی درخواست محسن کے سامنے رکھ دی۔ حرام خور بڑی ہی نحیف آواز میں بولی کہ “بس آپ  آج مجھ سمیت میری حرام خوری کے ثبوتوں کا بھی اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ دیں ”۔ بڑی مشکل سے جملہ مکمل ہوا تو گردن ایک جانب ڈھلک گئی۔محسن کے گرم ہاتھوں میں اس کی بیوی کا سرد ہاتھ شاید آج پہلی بار اس کو حرام خور کا مطلب سمجھا پایا تھا..!!

شک

شک

شادی کے دس سال گزر جانے کے بعد بھی جب ارسلان کے گھر بچہ نہ ہوا تو لوگ باتیں بنانا شروع ہوگئے. کبھی اسکی بیوی صائمہ میں خامیاں نکالی جاتیں تو کبھی ارسلان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا. یہاں تک ارسلان کے گھر والوں نے دبے لفظوں میں اسے دوسری شادی کے لیے مجبور کرنا شروع کردیا تھا. لیکن ارسلان صائمہ سے اتنا پیار کرتا تھا کہ وہ کسی صورت بھی اپنی زندگی میں کسی دوسری عورت کو نہیں لا سکتا تھا. ہر سال وہ اس امید پہ گزارتے کہ اب اللہ پاک انکی جھولی بھر دے گا. ارسلان اور صائمہ کو امید تھی کہ یہ گیارہواں سال انکی زندگی میں خوشیاں لے کے آئے گا.
مہینوں پہ مہینے گزرتے رہے لیکن خوش خبری کے دور دور تک آثار نطر نہیں آرہے تھے. ارسلان اب حقیقتآ بہت پریشان تھا. لیکن وہ اپنی پریشانی صائمہ پہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا. ایک دن صبح وہ آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا. گھر کے دروازے پہ گاڑی کا ہارن بجا. صائمہ گیٹ پہ پہنچی گاڑی میں ایک اجنبی آدمی براجمان تھا جو صائمہ کو دیکھ کے گاڑی سے اترا اس سے کچھ بات کی.. وہ دونوں کافی دیر تک مسکراتے رہے. اسکے بعد آدمی وہاں سے چلا گیا اور صائمہ واپس آئی.. ارسلان یہ سارا منظر کھڑکی سے دیکھ رہا تھا. اسے حیرانی ہوئی کہ آخر یہ اجنبی کون ہے جس کے ساتھ وہ اتنی خوش اخلاقی سے باتیں کررہی تھی. اس نے جان بوجھ کے صائمہ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا کہ شائد وہ خود بتا دے گی. لیکن صائمہ نے اسے اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا. وہ اس کے اس انداز پہ کافی خفا تھا.
شام میں وہ آفس سے واپس آیا تو صائمہ گھر کے کاموں میں مصروف تھی. اسکے چہرے پہ ایک عجیب ہی خوشی کے آثار تھے. ارسلان نے اب اس سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا. سوچوں میں گم کانچ کے جگ سے پانی نکلاتے ہوئے اس کانوں میں فون کی بیل بجنے کی آواز پڑی.. جگ اسی طرح اٹھائے وہ فون کی طرف آیا. یہ صائمہ کا فون تھا جس پہ مسلسل کال آرہی تھی وہ خود فون سے دور تھی ارسلان نے کال اٹنڈ کی “میں بس تھوڑی دیر میں پہنچ کر تمہیں دنیا کی سب سے بڑی خوش خبری دیتا ہوں” اجنبی مرادنہ آواز نے ارسلان کے اندر آگ لگا دی. تیش میں آکر اس نے جگ فرش پہ پھینکا جو کرچیاں کرچیاں ہوگیا. ساتھ ہی اس نے فون بند کردیا. جگ گرنے کی آواز صائمہ کے کان میں پڑی تو وہ بھاگتی ہوئی وہاں پہچنی “کیا ہوا ارسلان سب ٹھیک تو ہے…” وہ ہڑبڑاتے ہوئے اسکے پاس آئی.. اس سے پہلے کہ وہ اس چھوتی ارسلان نے اسے خود سے دور کرنے کے لیے دھکا دیا وہ لڑھکتی ہوئی پیٹ کے بل کانچ کے ٹکڑوں پہ جا گری اور بے ہوش ہوگئی…
دروازے پہ دستک ہوئی ارسلان نے دروازہ کھولا سامنے وہی اجنبی آدمی کھڑا تھا. اسکے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا… “ہیلو ارسلان.. میں صائمہ کا کزن ہوں.. اور ایک ڈاکٹر بھی.. یہ لفافہ دیکھ رہے ہو.. اس میں تم دونوں کے لیے خوشخبری چھپی ہوئی.. صائمہ حمل سے ہے…. ” وہ جوشیلے انداز میں بولا…. اگلے ہی پل اسکی نظریں صائمہ پہ پڑیں جو فرش پہ بے ہوش حالت میں پڑی تھی… ارسلان اب تک یہ سمجھ رہا تھا کہ صائمہ اس اجنبی شخص کے لیے اسے چھوڑ کے جارہی ہے جب کہ وہ اس رپورٹ کے انتظار میں تھی تاکہ اسکے بعد ہی وہ ارسلان سے اپنی خوش شئیر کرسکے… لیکن ایک ذرا سی غلط فہمی نے سب تباہ کردیا. صائمہ کی جان تو بچ گئی لیکن اس کے پیٹ میں موجود بچہ نہ بچ سکا…….
غصے میں انسان ایسے جذباتی قدم اٹھا لیتا ہے جسکا خمیازہ پوری زندگی بھگتنا پڑتا ہے. یہی ارسلان کے ساتھ ہوا..!!

جہیز ایک لعنت

جہیز ایک لعنت صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو ا...