جہیز ایک لعنت
صبا ایک سگھڑ ، پڑھی لکھی اورعقل مند لڑکی تھی۔ اس کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ خواہ حسن ہو، تعلیم ہو یا فہم وفراست، صبا کو اللہ تعالی نے ہر خوبی سے نوازا ہوا تھا۔ آج اس کے گھر کچھ لوگ رشتہ لے کر آرہے تھے۔ تھوڑی دیر میں لڑکے والے پہنچے۔ ابتدائی تعارف اور لڑکی کو دیکھنے کے بعد انہیں لگا جیسے کوئی اپسرہ مل گئی ہو۔ وہ ویسی ہی تھی جیسے انہیں چاہیے تھے۔ بائیس سالہ صبا نے ٹیوشن پڑھا پڑھا کر اور محنت سے ایم اے انگلش کیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد لڑکے کی ماں بولی۔ ہمیں صبا بہت پسند آئی ہے۔ یہ رہی ہماری جہیز کی لسٹ۔ ان کے جانے کے بعد صبا نے نم آنکھوں سے لسٹ دیکھی تو لڑکے والوں نے اس کی ذات پر فرمائشوں کی ایک گٹھڑی لادد ی تھی۔ فریج، ایل ای ڈی، بائیک اور نہ جانے کیا کیا۔ اس نے رو رو کر اماں سے پوچھا، اماں! کیا چند مصنوعی چیزوں کی قیمت انسان سے زیادہ ہوتی ہے۔ تو اماں بس نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔ اگلے دن لڑکے والوں نے فون کیا، اور کسی دکان دار کی طرح کہا کیا آپ کو ہماری لسٹ منظور ہے؟ جی بالکل۔ لیکن ساتھ میں ہم حق مہر پچاس کروڑ رکھیں گے۔ پچاس کروڑ؟۔ جی پچاس کروڑ، صبا نے پرعزم لہجے میں جواب دیا تو اگلی طرف سے اسے پاگل کہہ کر فون بند کر دیا گیا۔
راشد صاحب بہت فکر مند رہتے تھے۔ تین جوان لڑکیاں گھر میں بیٹھی تھیں۔ جو بھی رشتہ آتا وہی فرمائشی لسٹ لے آتا۔ مشکل سے دو لاکھ روپے انہوں نے شادی کے لیے جوڑ رکھے تھے۔ اب اس سے بیٹی کی شادی کرتے یا جہیز دیتے۔ چھوٹی سمن اکثر انہیں پریشان دیکھتی۔ ابا کیوں دکھی ہوتے ہیں۔ رشتے تو آسمانوں میں بنتے ہیں نا۔ جب قسمت میں ہوگا شادی ہو جائے گی۔ روز راشد صاحب کتنے حروف تسلی کے سنتے۔ اب تو لوگوں کی باتیں بھی سننے لگے تھے۔ جب بھی نماز کے لیے جاتے کوئی نہ کوئی بیٹیوں والا موضوع چھیڑ دیتا اور معاشرے کو کوستا۔ آخر محلے کا ایک آوارہ سڑک چھاپ بغیر جہیز ان کی بڑی بیٹی سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوگیا تو انہوں نے اسی کے ساتھ بیٹی بیاہ دی۔ بیٹی جاتے جاتے بس اتنا بولی۔ ابا کاش میں جہیز ہوتی۔
احمد صاحب نے حال ہی میں بیٹے کی شادی کی تھی۔ جس پر خوب سارا جہیز حاصل کیا تھا۔ گھر میں چار بیٹیاں باپ کا منہ چڑا رہی تھیں۔ کچھ عرصے سے انہیں کاروبار میں بھی نقصان ہو رہا تھا۔ بڑی بیٹی کا رشتہ آیا تو داماد کو گاڑی بھی جہیز میں دی گئی۔ یہاں تک کہ دوسری بیٹی کا رشتہ آیا تو واحد گھر بچا تھا جس میں وہ رہ رہے تھے۔ گھر آئی بہو ان کی حالت دیکھ کر بس کرب کی ہنسی ہنستی تھی۔ اس کے باپ کو بھی کتنا مجبور کیا گیا تھا جہیز کے لیے۔ آج وہی شخص کسی بھکاری کی طرح جہیز کے چند روپوں کے لیے ترس رہا تھا۔ بڑی مشکل سے جب بیٹی کا وقت رخصت آیا تو اس نے نم آنکھوں سے باپ کے کان میں اتنا ہی کہا، ابا! کاش آپ جہیز نہ لیتے۔
کتنی گھروں کی معصوم لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بڑھاپے کی دہلیز پار کر جاتی ہیں، جبکہ بہت سی موت کو گلے لگا لیتی ہیں۔ کچھ تو احساس کمتری کا شکار ہوکر گھروں میں قید ہو جاتی ہیں۔ کتنے باپ روز کانٹوں کے بستر پر سوتے ہیں۔ کتنی مائیں روز مرنے کی دعائیں مانگتی ہیں۔ کتنے والدین بیٹی کے پیدا ہونے پر اس لیے غمزدہ نہیں ہوتے کہ وہ لڑکی ہے بلکہ انہیں یہ دکھ ستاتا ہے کہ کل اس کی شادی کس طرح ہوگی۔ کتنے بھائی روز وقت اور طعنوں کی سولی پر چڑھتے ہیں۔ جہیز لینے سے بہتر ہے انسان بھیگ مانگے۔ جہیز مانگنے سے بہتر ہے انسان سیدھا سیدھا دکاندار کی طرح کاروبار کرے۔
اسلام روز ازل سے جہیز کے خلاف ہے۔ اسلام ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ شادی اور نکاح کو آسان سے آسان تر بنایا جائے۔ اسلام نے کہیں بھی نہیں کہا کہ عورت مرد کو پالے، یا اس کے گھر آتے وقت بہت ساری چیزیں لے کر آئے بلکہ اسلام کہتا ہے مرد عورت کا کفیل ہے۔
رب تعالی ارشاد فرماتے ہیں۔
”مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔“ (سورۃ النساء)
لہذا یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورت کی کفالت کرے۔ عورت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ مر د کی کفالت کرے اور جہیز کی صورت میں اسے بہت سا مال و دولت دے۔
اس کے علاوہ ایک اورآیت صریحتا جہیز کے خلاف ایک گواہی کے طور پیش کیا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے::
”اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے مت کھاو۔“ (سورة النساء)
اب اس آیت کے تناظر میں جو لوگ جہیز لیتے ہیں وہ سوچیں کہ آیا وہ صحیح کر رہے ہیں۔ کیا کسی مجبو ر باپ کی مجبو ری کا فائد ہ اٹھانا جائز ہے۔؟ کسی مجبور بھائی کو پیسوں کی خاطر مزید مجبور کرنا کیا قرآنی تعلیمات کی صراحتا خلاف ورزی نہیں ہےکیا؟ کیا اس بنا پرشادی کرنا کہ اچھا خاصا جہیز ملے گا، ایسی دولت کا شمارکیا حلال دولت میں ہوگا؟ وہ پاب جانتا ہے کہ کتنا خون اور پسینہ دے کر اس نے یہ جہیز کی چیزیں جمع کی ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
”بلاشبہ سب سے زیادہ برکت والا وہ نکاح ہے جس میں اخراجات میں سب سے زیادہ کمی پائی جاتی ہے۔“
یہ حبیب کائنات کا ارشاد ہے لہذا ہمیں سوچنا چاہیے کیا ہم جہیز لے کر اخراجات کم کرتے ہیں۔ کیا لڑکی والوں پر شادی ایک عذاب کی طرح نازل نہیں ہوتی۔ کیا وہ خوشی سے جہیز کی چیزیں دیتے ہیں۔ کیا ان کی آنکھوں کے آنسو کوئی دیکھ سکتا ہے۔ ان کے لرزتے کپکپاتے ہاتھ کسی کو نظر آتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مزید ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: یعنی عورت سے (چار وجوہ سے) نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کی مالداری کے سبب سے اور اس کی خاندانی شرافت کے سبب سے اور اس کے حسن و جمال کے سبب سے اور اس کی دینداری کے سبب سے۔ سو تو دین والی عورت پر کامیابی حاصل کر، تیرے دونوں ہاتھ غبار آلود ہوں۔
کاش جہیز اور دولت کو معیار قرار نہ دیا جائے تو بہت ساری صبا جیسی لڑکیاں آج شوہر کے گھر میں عزت کے ساتھ رہ سکیں گی۔ ان کو بھی وہی تکریم اور عزت ملے گی جو عزت اور وقار اسلام نے انہیں دیا ہے۔
والدین کو بھی چاہیے جب جہیز کی ایک لسٹ ان کے پاس آئے تو وہ بھی تین لاکھ کی چیزیں جہیز میں دیتے وقت تیس لاکھ روپے حق مہر میں لکھنے کی شرط رکھیں، دیکھیں جہیز کی رٹ لگانے والوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔ میں نے اکثر مرد نما انسانوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ حق مہر مناسب رکھنا چاہیے، حالانکہ اسلام حق مہر پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ وہی لوگ جو حق مہر کی بات بھی نہیں کرنا چاہتے، جہیز جیسے مکروہ رسم کا ہر جگہ دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے منہ سے کبھی سننے کو نہیں مل سکتا کہ جہیز ایک غیر مناسب اور غیر اسلامی رسم ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو حق مہر کے خلاف سب سے زیادہ بولتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے یہ حدیث پیش کی جاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا::
”جس نے مال مہر کے عوض کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ اس مہر کوادا نہ کرے گا، وہ دراصل زانی ہے“۔(حدیث)
بہت سی لڑکیاں جن کے سر کے چاندی کے بال، جن کی دروازے پر تکتی نگاہیں،جو روز دل میں کسی آنے والے شہزادے کے خواب سے دل کو منو ر کرتی ہیں، جو ہر آہٹ کو اپنے لیے شادی کا محبت نامہ سمجھتی ہیں اور جن والدین کی آدھی عمر جہیز بنانے میں جبکہ باقی آدھی بیٹیوں کے لیے رشتے کی تلاش میں ختم ہوچکی ہے۔ کیا یہ معاشرہ ان کی حالت کا ذمہ دار نہیں۔؟ کیا ان لڑکیوں کا محبت پر کوئی حق نہیں؟ کیا ان لڑکیوں کا حق نہیں کہ وہ شوہر کی نگاہوں میں ٹھہر کر دنیا کو اپنی نگاہوں سے ٹھہرا سکیں؟ لہذا جہیز کی رسم کو ختم کرنے کے لیے ہر ایک خواہ وہ طالب علم ہو، سول سوسائٹی ہو، اساتذہ ہو، علما ہو یا والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور تاکہ بہت ساری لڑکیاں جن کے سر جہیز نہ ہونے کی وجہ سے سفید ہو چکے ہیں۔ جو ہسٹیریا کی مریضہ بن چکی ہیں۔ بہت سے بھائی جو بہنوں کی جہیز کی خاطر جرائم تک کر بیٹھتے ہیں۔ بہت سے باپ جو وقت سے پہلے مر جاتے ہیں۔ بہت سی مائیں جو روز بیٹیوں کو جیتے جی مرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ خدارا ان کی حالت کا احساس کیجیے۔ جہیز کی خاطر ان لڑکیوں کی جوانی کو برباد مت کریں۔ آج کوئی جہیز کی خاطر کسی کا گھر برباد کر رہا ہے تو کل اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی مرد اگر وہ حقیقی مرد ہے تو کسی مجبور لڑکی کےماں باپ سے جہیز کا ہرگز مطالبہ نہ کرے۔ جن بیٹیوں کے والدین جہیز لیتے ہیں ایسی بہادر بیٹیاں اپنے والدین کو احساس دلائیں کہ اس مکروہ رسم سے صرف زندگیاں تباہ ہوسکتی ہیں، کسی کی زندگی آباد نہیں ہوسکتی۔ لہذا اگر ایک عورت فیصلہ کرے کہ اب وہ اپنی بہوکا انتخاب کرتے وقت کسی بھی قسم کے جہیز کا مطالبہ نہیں کرے گی نہ ہی کوئی باپ جہیز مانگے گا اور نہ ہی جہیز کی وجہ سے کسی لڑکی کوٹکرایا جائے گا، تو یقینا ایک مثبت اور تعمیری معاشرے کا قیام ممکن ہو سکے گا۔